حدیث نمبر: 16615
١٦٦١٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حاتم بن إسماعمِل عن جعفر عن أبيه قال: قال علي: من اضطر إلى ثوب وهو محرم (ولم) (١) يكن له إلا قبًا فلينكسه، يجعل أعلاه أسفله ثم ليلبس (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہارشاد فرماتے ہیں کہ محرم کے کپڑے اگر تنگ ہوجائیں اور اس کے پاس قباء کے علاوہ کوئی اور کپڑا نہ ہو تو اس کو پلٹ دے، اس کے اوپر والے حصے نیچے کر دے اور اس کو پہن لے۔
حدیث نمبر: 16616
١٦٦١٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير (بن) (١) عبد الحميد عن ليث عن (عطاء ومجاهد) (٢) قالا: لا يدخل المحرم منكبيه في القبا، ولا بأس أن يرتدي به.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء اور حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ محرم اپنے کندھوں کو قباء میں داخل نہیں کرے گا اور اگر قباء کو اوڑھ لے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 16617
١٦٦١٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن مغيرة عن إبراهيم قال: لا يدخل المحرم منكبيه في القبا، ولا بأس أن يرتدي به.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم بھی اسی طرح فرماتے ہیں۔
حدیث نمبر: 16618
١٦٦١٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا معاذ عن أشعث عن الحسن أنه كان لا يرى بأسًا أن يلبس المحرم القبا (ما) (١) لم يدخل منكبيه فيه.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ محرم اگر اپنے کندھے قباء میں داخل نہ کرے تو پھر اس کو اوڑھنے میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 16619
١٦٦١٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا غندر عن شعبة عن أبي سلمة قال: سئل عكرمة عن محرم لبس قبا، قال: يخلعه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ سے دریافت کیا گیا کہ محرم قباء پہن سکتا ہے ؟ آپ نے فرمایا قباء کو اتار دے گا (نہیں پہنے گا)