١٦٥٨١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن ابن جريج عن عطاء قال: إنما سميت المتعة لأنهم كانوا يتمتعون من النساء والثياب.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ اس کا تمتع اس لیے رکھا گیا کیونکہ لوگ اس میں عورتوں اور کپڑوں سے فائدہ حاصل کرتے ہیں۔
١٦٥٨٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن آدم قال: حدثنا سفيان عن عبد اللَّه ابن عثمان عن رجل قال: رأيت (شيبة) (١) يأخذ ما وقع من كسوة الكعبة فيضعها في (الفقراء) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عثمان ایک شخص سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے شیبہ کو دیکھا کہ غلاف کعبہ کا جو کپڑا نیچے گرگیا ہے اس کو اٹھا کر فقراء میں تقسیم کر رہا ہے، حضرت سفیان نے فرمایا : فقراء سے خریدنے میں کوئی حرج نہیں ہے جب دینا ہی ان کو ہو۔