کتب حدیث › مصنف ابن ابي شيبه › ابواب › باب: تمتع کا نام تمتع کیوں رکھا گیا؟
❮
❯
١٦٥٨١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن ابن جريج عن عطاء قال: إنما سميت المتعة لأنهم كانوا يتمتعون من النساء والثياب.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ اس کا تمتع اس لیے رکھا گیا کیونکہ لوگ اس میں عورتوں اور کپڑوں سے فائدہ حاصل کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 16581
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 16581، ترقيم محمد عوامة 16088)
١٦٥٨٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن آدم قال: حدثنا سفيان عن عبد اللَّه ابن عثمان عن رجل قال: رأيت (شيبة) (١) يأخذ ما وقع من كسوة الكعبة فيضعها في (الفقراء) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عثمان ایک شخص سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے شیبہ کو دیکھا کہ غلاف کعبہ کا جو کپڑا نیچے گرگیا ہے اس کو اٹھا کر فقراء میں تقسیم کر رہا ہے، حضرت سفیان نے فرمایا : فقراء سے خریدنے میں کوئی حرج نہیں ہے جب دینا ہی ان کو ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 16582
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 16582، ترقيم محمد عوامة 16089)
١٦٥٨٣ - قال سفيان: لا بأس بشرائها من (الفقراء) (١) إذا أعطاهم إياه.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 16583
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 16583، ترقيم محمد عوامة ---)