کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: حاجی طواف وداع کر لے تو کیا اس کے بعد کوئی دوسرا عمل کر سکتا ہے؟
حدیث نمبر: 16548
١٦٥٤٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن ابن جريج عن عطاء قال: إذا ودع فلا يعمل عملًا حتى يخرج إلى الأبطح، (فإذا خرج إلى الأبطح قال) (١): لا بأس (أن) (٢) يقيم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ جب طواف وداع کرلو تو جب تک مقام ابطح سے نکل نہ جاؤ کوئی اور عمل نہ کرو، جب مقام ابطح سے نکل جاؤ تو پھر کوئی حرج نہیں کہ وہاں ٹھہر جاؤ۔
حدیث نمبر: 16549
١٦٥٤٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن إبراهيم بن يزيد عن الوليد بن عبد اللَّه بن (أبي مغيث) (١) أن عمر بن عبد العزيز ودع، [(فأتى) (٢) (رجلًا) (٣) من قريش فعاده، فأعاد الوداع.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر بن عبد العزیز نے طواف وداع کیا، پھر ایک قریشی شخص آپ کے پاس آیا اور آپ نے اس کی عیادت کی۔ آپ نے دوبارہ طواف وداع کیا۔
حدیث نمبر: 16550
١٦٥٥٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن رجل لم يكن يسميه عن عمر بن عبد العزيز أنه ودع] (١)، فكتب كتابًا فأعاد الوداع.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر بن عبد العزیز نے طواف کرنے کے بعد کوئی مکتوب لکھا پھر دوبارہ طواف وداع فرمایا۔
حدیث نمبر: 16551
١٦٥٥١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حكام الرازي قال: سمعت رجلًا سأل حميدًا ما كان (يقول) (١) الحسن -أو رأي الحسن- في الرجل إذا ودع؟ قال: كان لا يرى بأسًا إذا عرض له الشيء أن يشتريه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حمید سے دریافت کیا گیا کہ حسن کی کیا رائے تھی اس کے بارے میں کہ آدمی طواف وداع کرلے ؟ آپ نے فرمایا وہ اس میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے کہ جب اس کے سامنے کوئی چیز پیش کی جائے اور وہ اس کو خرید لے۔