حدیث نمبر: 16417
١٦٤١٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن (سعيد) (١) القطان عن ابن جريج عن خالد بن مسلم عن سالم قال: لو كنت من أهل مكة ما اعتمرت.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سالم فرماتے ہیں کہ اگر میں مکہ مکرمہ کا رہائشی ہوتا تو عمرہ نہ کرتا۔
حدیث نمبر: 16418
١٦٤١٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبيد اللَّه بن موسى عن عثمان عن عطاء قال: ليس على أهل مكة عمرة، إنما يعتمر من زار البيت (ليطوف) (١) به وأهل مكة يطوفون متى شاؤوا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ مکہ مکرمہ کے رہنے والوں پر عمرہ نہیں ہے عمرہ تو وہ کرتا ہے جو بیت اللہ کی زیارت اور اس کا طواف کرنے کا خواہشمند ہو، اور مکہ مکرمہ والے تو جب چاہیں طواف کرسکتے ہیں۔
حدیث نمبر: 16419
١٦٤١٩ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن إدريس عن ابن جريج عن عطاء قال: ليس على أهل مكة عمرة، إنما يعتمر من زار البيت ليطوف به، وأهل مكة يطوفون متى شاؤوا] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ مکہ مکرمہ والوں پر عمرہ نہیں ہے، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اے مکہ والو ! تم پر عمرہ نہیں ہے، بیشک تمہارا عمرہ تو یہ ہے کہ تم بیت اللہ کی زیارت کرلو، پس جس شخص کے اور حرم کے درمیان بطن وادی ہو وہ بغیر احرام کے مکہ مکرمہ میں داخل نہ ہو، حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء سے دریافت کیا کہ کیا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بطن وادی کو حل سمجھتے تھے ؟ آپ نے فرمایا بطن وادی مقام حل ہی ہے (یعنی حرم میں داخل نہیں ہے) ۔
حدیث نمبر: 16420
١٦٤٢٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن إدريس عن ابن جريج عن عطاء قال: ليس على أهل مكة عمرة، قال ابن عباس: أنتم يَا أهل مكة لا عمرة لكم إنما عمرتكم الطواف (بالبيت) (١)، فمن جعل بينه وبين الحرم بطن الوادي فلا يدخل مكة إلا بإحرام (٢).
حدیث نمبر: 16421
١٦٤٢١ - فقال: فقلت لعطاء: يريد ابن عباس (الوادي) (١) من الحل؟ قال: بطن (الوادي) (٢) من الحل.
حدیث نمبر: 16422
١٦٤٢٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن آدم عن (وهيب) (١) عن ابن طاوس عن أبيه قال: ليس على أهل مكة عمرة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاؤس فرماتے ہیں کہ مکہ والوں پر عمرہ نہیں ہے۔