حدیث نمبر: 16209
١٦٢٠٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن (نافع بن عمر) (١) عن سعيد بن حسان عن ابن عمر أن النبي ﷺ كان ينزل وادي (نمرة) (٢)، فلما قاتل الحجاج ابن الزبير أرسل إلى ساعة كان (يروح رسول اللَّه) (٣) ﷺ في هذا اليوم فقال: إذا كان ذلك رحنا، فأرسل الحجاج رجلًا فقال: إذا راح فأعلمني، فأراد ابن عمر (أن) (٤) يروح فقالوا: لم (تزغ) (٥) الشمس فجلس، ثم أراد أن يروح فقالوا: لم (تزغ) (٦) الشمس فجلس، (فلما) (٧) قالوا: قد (زاغت) (٨) راح (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وادی نمرہ میں اترتے، پھر جب حجاج بن یوسف نے حضرت ابن زبیر کو شہید کیا تو میری طرف پیغام بھیجا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کس وقت چلا کرتے تھے آج کے دن میں ؟ آپ نے فرمایا جب وہ وقت ہوگا تو ہم چل پڑیں گے، حجاج نے ایک شخص کو بھیجا کہ جب وہ چلیں تو مجھے بتاؤ، جب حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے جانے کا ارادہ فرمایا تو لوگوں نے عرض کیا ابھی سورج مائل ہوناشروع نہیں ہوا، آپ بیٹھ گئے، تھوڑی دیر بعد آپ نے پھرجانے کا ارادہ فرمایا تو لوگوں نے پھر کہا کہ ابھی سورج زائل نہیں ہوا، آپ پھر بیٹھ گئے، پھر جب لوگوں نے کہا کہ سورج زائل ہوگیا ہے تو آپ چل پڑے۔