کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: عجمی شخص حج کرے اور کسی چیز کا نام نہ لے(یعنی حج و عمرہ میں سے کسی کی تعیین نہ کرے)
حدیث نمبر: 16189
١٦١٨٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن إبراهيم (بن) (١) نافع (٢) أن امرأة أعجمية قدمت فقضت المناسك كلها، غير أنها لم تهل (لشيء) (٣)، فقال عطاء: لا يجزئها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابراہیم بن نافع سے مروی ہے کہ ایک عجمی خاتون حج کے لیے آئی اور اس نے تمام مناسک حج ادا کیے لیکن اس نے حج وعمرہ میں سے کسی کی تعیین نہ کی تھی۔ حضرت عطاء نے فرمایا اس کے لیے کافی نہیں ہے، اور حضرت طاؤس نے فرمایا کہ اس کے لیے یہ حج کافی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ آسانی پیدا کرو مشکل میں مت ڈالو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 16189
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 16189، ترقيم محمد عوامة 15724)
حدیث نمبر: 16190
١٦١٩٠ - وقال طاوس: يجزئها، قال رسول اللَّه ﷺ: "يسروا ولا تعسروا" (١).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 16190
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 16190، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 16191
١٦١٩١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن أبي عدي عن حميد عن بكر أن رجلًا أعجميًا حج فلم يسم حجًا ولا عمرة، وقال: أنا مع الناس، فقال: إني لأرجو أن يكون قد دخل في أحسن ما عملوا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت بکر سے مروی ہے کہ ایک عجمی شخص نے حج کیا، لیکن اس نے حج یا عمرہ کا نام نہیں لیا تھا، اور کہا میں لوگوں کے ساتھ تھا، راوی فرماتے ہیں کہ بیشک میں امید رکھتا ہوں کہ جن لوگوں نے اچھا کیا ان میں وہ بھی داخل ہوا ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 16191
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 16191، ترقيم محمد عوامة 15725)