کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: کوئی شخص یا عورت عمرہ کے لئے احرام باندھے پھر خدشہ لاحق ہو جائے
حدیث نمبر: 16112
١٦١١٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص بن غياث عن أبي (حنيفة) (١) عن حماد عن إبراهيم قال: إذا (أهلت) (٢) بعمرة فخافت فوت الحج أهلت بالحج، وقضت العمرة وعليها دم، والعمرة.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ عورت اگر عمرہ کے لئے احرام باندھے پھر اس کو حج کے فوت ہوجانے کا اندیشہ ہو تو وہ حج کے لئے احرام باندھ لے اور عمرہ کی قضا کرے اور اس پر دم اور عمرہ لازم ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 16112
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 16112، ترقيم محمد عوامة 15648)
حدیث نمبر: 16113
١٦١١٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن مهدي عن سفيان عن ابن أبي نجيح عن مجاهد وعطاء قال: سألتهما عن امرأة قدمت مكة (معتمرة) (١) فحاضت فخشيت أن يفوتها الحج، (فقالا) (٢): (تهل) (٣) بالحج وتقضي.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابو نجیح فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت مجاہد اور حضرت عطاء سے دریافت کیا کہ عورت عمرہ کا احرام باندھ کر مکہ آئے پھر اس کو حیض آجائے اور اس کو حج کے فوت ہوجانے کا اندیشہ ہو ؟ آپ نے فرمایا کہ وہ حج کے لئے تلبیہ پڑھے اور عمرے کی قضا کرے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 16113
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 16113، ترقيم محمد عوامة 15649)
حدیث نمبر: 16114
١٦١١٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن سعيد عن عمرو عن الحسن في رجل أهل بعمرة فجاء والناس وقوف بعرفة فقال: إن علم أنه يدرك مكة أتاها (فحل) (١) من عمرته، وإلا أهل بالحج (وطاف) (٢) طوافين.
مولانا محمد اویس سرور
حسن اس شخص کے متعلق فرماتے ہیں جو عمرہ کا احرام باندھے اور جب وہ آئے تو لوگ عرفات میں ٹھہرے ہوں تو اگر اس کو یقین ہو کہ مکہ جاسکتا ہے (یعنی جانے سے حج نہیں نکلے گا) تو اپنے عمرہ سے حلال ہوجائے (یعنی مکہ سے عمرہ مکمل کر کے حلالی بن کر آجائے) ورنہ حج کے لئے تلبیہ پڑھے اور دو طواف کرے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 16114
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 16114، ترقيم محمد عوامة 15650)
حدیث نمبر: 16115
١٦١١٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو معاوية عن زياد بن سعد عن ابن طاوس عن أبيه قال: تكون رافضة للعمرة، وعليها دم، وعمرة مكانها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاؤس فرماتے ہیں کہ اگر خاتون عمرہ کو چھوڑنے والی ہو (اندیشہ کی وجہ سے) تو اس پر دم اور اس عمرہ کی قضا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 16115
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 16115، ترقيم محمد عوامة 15651)