حدیث نمبر: 16084
١٦٠٨٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن المسعودي عن جامع بن شداد عن عبد الرحمن بن يزيد (أن) (١) عبد اللَّه لما أتى إلى (جمرة) (٢) العقبة استبطن الوادي، واستقبل (الكعبة) (٣) وجعلها على حاجبه الأيمن، ثم رماها بسبع حصيات يكبر مع كل حصاة (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ جب جمرہ عقبہ کی رمی کے لیے تشریف لاتے تو بطن وادی میں آتے اور قبلہ کی طرف رخ فرماتے اور اس کو داہنی طرف رکھتے اور سات کنکریوں سے رمی فرماتے اور ہر کنکری کے ساتھ تکبیر پڑھتے۔
حدیث نمبر: 16085
١٦٠٨٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا غندر عن شعبة عن الحكم عن إبراهيم عن عبد الرحمن بن يزيد أنه حج مع عبد اللَّه وأنه رمى الجمرة بسبع حصيات، وجعل البيت عن يساره ومنى عن يمينه، ثم قال: هذا مقام الذي أنزلت عليه سورة البقرة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن یزید نے حضرت عبد اللہ کے ساتھ حج کیا، انہوں نے سات کنکریوں کے ساتھ رمی فرمائی، کعبہ کو بائیں طرف اور منیٰ کو دائیں طرف رکھا اور پھر فرمایا یہ وہ جگہ ہے جہاں پر سورة البقرہ نازل ہوئی تھی۔
حدیث نمبر: 16086
١٦٠٨٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا إسماعيل بن عياش عن ليث عن عطاء وطاوس ومجاهد وسعيد بن جبير أنهم كانوا إذا رموا الجمار استقبلوا البيت.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء ، حضرت طاؤس، حضرت مجاہد اور حضرت سعید بن جبیر جب رمی کرتے تو قبلہ کی طرف رخ کرلیتے۔
حدیث نمبر: 16087
١٦٠٨٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن حجاج قال: رأيت عطاء وعبد الرحمن بن الأسود وعمرو بن دينار يقومون عن يسار الجمرة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حجاج فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء اور حضرت عبد الرحمن بن الاسود اور حضرت عمرو بن دینار کو دیکھا کہ وہ جمرہ کی بائیں طرف کھڑے ہوتے تھے۔