کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: جو حضرات رات میں جمرات کی رمی کرنے کو ناپسند کرتے ہیں؟
حدیث نمبر: 16012
١٦٠١٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو أسامة عن هشام عن الحسن أنه كره أن ترمى الجمار ليلًا.
مولانا محمد اویس سرور
حسن رات میں رمی کرنے کو ناپسند فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 16012
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 16012، ترقيم محمد عوامة 15551)
حدیث نمبر: 16013
١٦٠١٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن هشام بن عروة عن أبيه أنه كره رمي الجمار (بالليل) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ رات میں رمی کرنے کو ناپسند سمجھتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 16013
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 16013، ترقيم محمد عوامة 15552)
حدیث نمبر: 16014
١٦٠١٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن (عبيد) (١) عن عبيد (اللَّه) (٢) بن عمر عن نافع (أن) (٣) أم سلمة بنت المختار (٤) كانت تحت ابن لعبد اللَّه بن عمر (فولدت) (٥) بالمزدلفة فتخلفت معها صفية، فلم (تضع) (٦) ليلتها تلك ومن الغد، ثم جاءتا منى (من الليل) (٧) فرموا الجمرة فلم ينكر ذلك عليهما عبد اللَّه، ولم يأمرهم أن يقضوا شيئًا (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع سے مروی ہے کہ حضرت ام سلمہ بنت المختار حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے صاحبزادے کی اہلیہ تھیں، انہوں نے مزدلفہ میں بچہ جنا، حضرت صفیہ ان کے ساتھ وہ رات اور اگلے دن کی رات وہاں پیچھے ہی رکی رہیں، پھر وہ دونوں رات کو منیٰ آئیں اور رمی کی، حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ان کے اس عمل پر کوئی نکیر نہ فرمائی اور نہ ہی ان کو کسی چیز کے قضا کرنے کا حکم فرمایا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 16014
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 16014، ترقيم محمد عوامة 15553)
حدیث نمبر: 16015
١٦٠١٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن إدريس عن هشام عن الحسن قال: لا تُرمَى الجمار بالليل.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ رات کو رمی جمار نہیں کی جائے گی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 16015
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 16015، ترقيم محمد عوامة 15554)