کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: کوئی شخص بغیر حج کیے فوت ہو جائے تو کیا اس کی طرف سے حج کیا جائے گا؟
حدیث نمبر: 15798
١٥٧٩٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا علي بن مسهر عن الشيباني عن يزيد (بن الأصم) (١) عن ابن عباس قال: سأله رجل فقال: (إن أبي) (٢) مات ولم يحج قط أفأحج عنه؟ قال: نعن، فإنك إن لم تزده خيرًا لم تزده شرًا (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک شخص نے دریافت کیا کہ میرے والد بغیر حج کیے فوت ہوگئے ہیں کیا میں ان کی طرف سے حج کرلوں ؟ آپ نے فرمایا کہ ہاں، بیشک اگر تم ان کے لیے خیر میں اضافہ نہ کرسکو تو شر میں بھی اضافہ نہ کرو۔
حدیث نمبر: 15799
١٥٧٩٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو الأحوص عن (طارق) (١) قال: كنت جالسًا عند سعيد بن المسيب فأتاه رجل فقال: إن أبي كان كثير الجهاد ولم يحج أفأحج عنه؟ فقال له سعيد: (قد) (٢) كان رسول اللَّه ﷺ رخص لرجل حج عن أبيه، وهل هو إلا دين (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طارق فرماتے ہیں کہ میں حضرت سعید بن المسیب کے پاس بیٹھا ہوا تھا تو ایک شخص آپ کے پاس آیا اور عرض کیا کہ میرے والد جہاد بہت زیادہ کیا کرتے تھے لیکن انہوں نے حج نہیں کیا تھا، کیا میں ان کی طرف سے حج کرلوں ؟ حضرت سعید بن المسیب نے اس سے فرمایا : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک شخص کو اجازت دی تھی کہ وہ اپنے والد کی طرف سے حج ادا کرے اور کیا یہ قرض نہیں ہے ؟
حدیث نمبر: 15800
١٥٨٠٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا مروان بن معاوية عن قدامة بن عبد اللَّه الرؤاسي قال: سألت سعيد بن جبير عن أخ في مات ولم يحج قط أفاحج عنه؟ قال: هل كان ترك من ولد؟ قال: قلت: لا، إلا صبيًا صغيرًا، قال: حج عنه فإنه لو وجد رسولًا لأرسل إليك أن عجل بها قلت: أحج عنه من مالي أو من ماله؟ قال: لا، بل من ماله.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قدامہ بن عبد اللہ الرواسی فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن جبیر سے دریافت کیا کہ میرے بھائی بنا حج کیے فوت ہوگئے ہیں کیا میں ان کی طرف سے حج کرسکتا ہوں ؟ آپ نے فرمایا کہ کیا اس کی کوئی اولاد ہے ؟ میں نے عرض کیا کہ ایک چھوٹے بچے کے سوا اور کوئی نہیں ہے، آپ نے فرمایا پھر اس کی طرف سے حج کرو، بیشک اگر کوئی قاصد پایا جاتا تو تیری طرف بھیجتا کہ اس کو جلدی ادا کر، میں نے عرض کیا کہ اس کے مال سے حج کروں یا اپنے مال سے ؟ آپ نے فرمایا کہ نہیں بلکہ اس کے مال سے کرو۔ پھر میں نے ابراہیم سے اس کے متعلق دریافت کیا ؟ آپ نے فرمایا کہ اس کی طرف سے حج کرو، پھر میں نے حضرت ضحاک سے دریافت کیا ؟ فرمایا اس کی طرف حج کرو بیشک وہ اس کی طرف سے کافی ہوجائے گا اور اس کے مال سے کرو۔
حدیث نمبر: 15801
١٥٨٠١ - وسألت إبراهيم عنه (فقال: حج عنه) (١).
حدیث نمبر: 15802
١٥٨٠٢ - قال (و) (١) سألت الضحاك فقال: حج عنه فإن ذلك مجزئ عنه، وحج من ماله.
حدیث نمبر: 15803
١٥٨٠٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع (عن سفيان) (١) عن منصور عن مجاهد عن رجل يقال له يوسف كان يكون مع ابن الزبير عن عبد اللَّه بن الزبير قال: جاء رجل إلى النبي ﷺ فقال: يا رسول اللَّه إن أبي مات ولم يحج أفأحج عنه؟ قال: "أنت أكبر ولده؟ "، قال: نعم، قال: "فحج عن أبيك أفرأيت لو كان على أبيك دين فقضيته" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن زبیر سے مروی ہے کہ ایک شخص خدمت نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میرے والد بنا حج کیے فوت ہوگئے ہیں، کیا میں ان کی طرف سے حج کرسکتا ہوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کیا تو ان کا بڑا لڑکا ہے ؟ اس شخص نے عرض کیا کہ جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تو پھر اپنے والد کی طرف سے حج کر، تیرا کیا خیال ہے اگر تیرے والد پر قرضہ ہوتا تو تو اس کو ادا نہ کرتا ؟
حدیث نمبر: 15804
١٥٨٠٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن أسلم (المنقري) (١) عن عطاء قال: يحج عن الميت وإن لم يوص.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ مرنے والے کی طرف سے حج کیا جائے گا اگرچہ وہ وصیت نہ بھی کرے۔