کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: عرفہ کے دن تکبیر پڑھنا افضل ہے یا تلبیہ پڑھنا؟
حدیث نمبر: 15750
١٥٧٥٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن فضيل عن إسماعيل عن وبرة (بن) (١) عبد الرحمن قال: ذكر لابن عمر التلبية يوم عرفة فقال: التكبير أحب إلي (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے سامنے عرفہ کے دن تلبیہ پڑھنے کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ تکبیر پڑھنا میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 15750
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 15750، ترقيم محمد عوامة 15301)
حدیث نمبر: 15751
١٥٧٥١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو (نعيم) (١) عن معمر عن أبي جعفر أنه قال: أقطع التلبية إذا انطلقت إلى عرفة، وكبر وهلل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو جعفر فرماتے ہیں کہ جب عرفہ کی طرف چلو تو تلبیہ پڑھنا چھوڑ دو اور تکبیر وتہلیل پڑھو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 15751
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 15751، ترقيم محمد عوامة 15302)
حدیث نمبر: 15752
١٥٧٥٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو بكر بن عياش عن أبي إسحاق عن عبد الرحمن بن يزيد قال: كنت مع ابن مسعود (بعرفة) (١) فلبى، فقال: رجل من هذا الملبي في هذا اليوم؟ فالتفت إليه ابن مسعود فقال: لبيك عدد التراب لبيك (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن یزید فرماتے ہیں کہ میں حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ عرفہ میں تھا کہ تلبیہ پڑھا گیا، ایک شخص نے کہا کہ آج کے دن تلبیہ پڑھنے والا کون ہے ؟ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اس کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : پڑھو پڑھو کثرت سے پڑھو (اتنی کثرت سے پڑھو جتنی مٹی کے ذرات ہیں) ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 15752
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 15752، ترقيم محمد عوامة 15303)
حدیث نمبر: 15753
١٥٧٥٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن فضيل وحفص عن يحيى بن سعيد عن (عبد الرحمن) (١) بن أبي سلمة عن ابن عمر قال: غدونا مع رسول اللَّه ﷺ من منى إلى عرفات، فمنا المكبر ومنا الملبي (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ہم لوگ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ منیٰ سے عرفات کی طرف چلے، ہم میں سے کچھ لوگ تکبیر پڑھنے والے تھے اور کچھ لوگ تلبیہ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 15753
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (١٢٨٤)، وأحمد (٤٤٥٨)، وأبو داود (١٨١٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 15753، ترقيم محمد عوامة 15304)
حدیث نمبر: 15754
١٥٧٥٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن زياد بن أبي مسلم قال: سمعت (أبا العالية) (١) قال: سمعت ابن عباس بعرفة يقول: لبيك اللهم لبيك (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو العالیہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرفہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کو تلبیہ پڑھتے ہوئے دیکھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 15754
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ زياد صدوق.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 15754، ترقيم محمد عوامة 15305)
حدیث نمبر: 15755
١٥٧٥٥ - حدثنا أبو بكر قال: (حدثنا) (١) وكيع عن الأعمش عن حبيب عن سعيد ابن جبير عن ابن عباس قال: ذكر له أن معاوية نهى عن التلبية فجاء حتى أخذ بعمودي الفسطاط ثم لبى، ثم قال: علم أن عليًا كان يلبي في هذا اليوم فأحب أن يخالفه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ذکر کیا گیا کہ حضرت معاویہ اس دن تلبیہ پڑھنے سے منع کرتے ہیں، آپ تشریف لائے اور خیمہ کے دو ستونوں کو پکڑا پھر تلبیہ پڑھا اور فرمایا : معاویہ جانتے تھے کہ علی رضی اللہ عنہ اس دن تلبیہ پڑھتے تھے لیکن انہوں نے علی رضی اللہ عنہ کی مخالف فعل کو پسند کیا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 15755
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 15755، ترقيم محمد عوامة 15306)
حدیث نمبر: 15756
١٥٧٥٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن إسماعيل عن إبراهيم: لبى ابن مسعود بعرفة (فقيل: من هذا الملبي) (١)؟ فقيل: ابن مسعود، فسكتوا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت ابن مسعود نے عرفہ میں تلبیہ پڑھا، لوگوں نے کہا یہ تلبیہ پڑھنے والا کون ہے ؟ کہا گیا کہ حضرت ابن مسعود، پس لوگ خاموش ہوگئے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 15756
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 15756، ترقيم محمد عوامة 15307)
حدیث نمبر: 15757
١٥٧٥٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الأعلى عن داود عن عكرمة بن خالد قال: (لبى) (١) رسول اللَّه ﷺ وهو واقف بعرفات (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ بن خالد سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عرفہ میں وقوف کے دوران تلبیہ پڑھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 15757
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ عكرمة ليس من الصحابة.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 15757، ترقيم محمد عوامة 15308)
حدیث نمبر: 15758
١٥٧٥٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو الأحوص عن أبي يعفور قال: كنت أسير مع ابن عمر وابن الحنفية من منى إلى عرفات، فكان ابن عمر يكبر، وكان ابن الحنفية يلبى (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن یعفور فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما اور حضرت ابن الحنفیہ کے ساتھ منیٰ سے عرفات کی طرف چلا، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما تکبیر پڑھ رہے تھے اور حضرت ابن الحنفیہ تلبیہ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 15758
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 15758، ترقيم محمد عوامة 15309)
حدیث نمبر: 15759
١٥٧٥٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا الفضل بن دكين عن مالك بن أنس قال: حدثنا أبو بكر الثقفي قال: سألت أنسا كيف كنتم تصنعون مع رسول اللَّه ﷺ؟ قال: كان يلبي الملبي فلا ينكر عليه، ويكبر (المكبر) (١) فلا ينكر عليه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن ابوبکر الثقفی فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت انس سے دریافت کیا کہ آپ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کس طرح کرتے تھے ؟ آپ نے فرمایا تلبیہ پڑھنے والے تلبیہ پڑھتے تھے ان کو روکا نہیں جاتا تھا اور تکبیر پڑھنے والے تکبیر پڑھتے تھے ان کو روکا نہیں جاتا تھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 15759
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٩٧٠)، ومسلم (١٢٨٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 15759، ترقيم محمد عوامة 15310)