حدیث نمبر: 15742
١٥٧٤٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو أسامة عن (هشام) (١) عن الحسن ⦗٤٩٨⦘ وعطاء قالا: ليس على أهل مكة رمل ولا على (من) (٢) أهل منها، إلا أن يجيء أحد من أهل مكة (من) (٣) خارج.
مولانا محمد اویس سرور
حسن اور حضرت عطاء ارشاد فرماتے ہیں کہ مکہ والوں پر رمل (اکڑ کر چلنا) نہیں ہے، اور نہ اس شخص پر جو مکہ سے احرام باندھے، سوائے اھل مکہ میں سے اس شخص پر جو باہر سے آئے۔
حدیث نمبر: 15743
١٥٧٤٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن علية عن أيوب (عن نافع) (١) قال: كان ابن عمر (لا) (٢) يرمل إذا أهل من (مكة) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما جب مکہ مکرمہ سے احرام باندھتے تو رمل نہ فرماتے ۔
حدیث نمبر: 15744
١٥٧٤٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن مهدي عن حماد بن سلمة عن حميد قال: أهللنا أنا وبكر من مكة فطفنا بالبيت ورملنا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حمید فرماتے ہیں کہ میں نے اور حضرت ابوبکر صدیق نے مکہ مکرمہ سے احرام باندھا پھر ہم نے بیت اللہ کا طواف کیا اور طواف میں رمل کیا۔
حدیث نمبر: 15745
١٥٧٤٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا الثقفي عن حبيب قال: سئل عطاء عن المجاور إذا أهل من مكة هل (يسعى) (١) الأشواط الثلاثة؟ قال: إنهم يسعون، فأما ابن عباس فإنه قال: إنما ذلك على أهل الآفاق.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء سے بیت اللہ کے پڑوسی کے متعلق سوال کیا گیا کہ جب وہ مکہ سے احرام باندھے تو کیا وہ تین چکروں میں رمل کرے گا ؟ فرمایا کہ وہ رمل کریں گے، بہر حال حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رمل باہر سے احرام باندھ کر آنے والوں کے لیے ہے۔
حدیث نمبر: 15746
١٥٧٤٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا زيد بن حباب عن حرب بن شريح أو (سريج) (١) عن أبي جعفر قال: ليس على أهل مكة رمل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو جعفر فرماتے ہیں کہ مکہ مکرمہ والوں پر رمل نہیں ہے۔