کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: طواف کے سات چکر ملا کر (لگاتار) کرنا، اور کن حضرات نے اس میں اجازت دی ہے؟
حدیث نمبر: 15448
١٥٤٤٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن فضيل عن ليث عن طاوس عن عائشة أنها كانت لا ترى بأسًا أن يطوف الرجل ثلاثة أسباع أو خمسة ثم يصلي (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کوئی حرج نہیں سمجھتی تھی کہ طواف کرنے والا تین بار یا پانچ بار طواف کرے پھر وہ نماز پڑھے۔
حدیث نمبر: 15449
١٥٤٤٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن إدريس عن ابن (جريج) (١) عن عطاء عن عائشة أنها كانت تقرن بين الأسابيع (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا طواف کے کئی چکر ملا کر کرتیں (کئی طواف کرتیں پھر نماز پڑھتیں) ۔
حدیث نمبر: 15450
١٥٤٥٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (أبو بكر عن) (١) ليث عن عطاء عن عائشة قالت: لا بأس أن يطوف الرجل ثلاثة أسباع أو خمسة، ثم يصلي (ركعتين) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ارشاد فرماتی ہیں کہ کوئی حرج نہیں کہ کوئی شخص تین یا پانچ طواف اکٹھے کرے پھر وہ دو رکعتیں ادا کرے۔
حدیث نمبر: 15451
١٥٤٥١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن ابن أبي نجيح عن مجاهد أنه قرن مرة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد نے ایک بار ملا کر (کئی) طواف کیے۔
حدیث نمبر: 15452
١٥٤٥٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن عمر بن ذر عن مجاهد أنه أنكره وقال: ما فعله أحد إلا رجل من قريش، المسور بن مخرمة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد نے اس کا انکار فرمایا اور فرمایا کہ سوائے ایک قریشی کے کسی نے بھی ایسا نہیں کیا جس کا نام مسور بن مخرمہ ہے۔
حدیث نمبر: 15453
١٥٤٥٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبيد اللَّه عن حنظلة عن طاوس أنه طاف ثلاثة أسباع، ثم صلى ست ركعات.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاؤس نے اکٹھے چھ طواف کیے پھر چھ رکعتیں بعد میں اکٹھی ادا فرمائیں۔
حدیث نمبر: 15454
١٥٤٥٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن سعيد عن ابن (جريج) (١) عن عطاء أن طاوسًا والمسور بن مخرمة كانا يقرنان بين الأسابيع (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاؤس اور حضرت مسور بن مخرمہ کئی طواف ایک ساتھ ملایا کرتے تھے اور حضرت عطاء ایسا کرنے میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 15455
١٥٤٥٥ - وكان عطاء لا يرى بذلك بأسًا.
حدیث نمبر: 15456
١٥٤٥٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن عبد الملك قال: جاورت بمكة وثمة سعيد بن جبير وعلي بن حسين، فطاف علي بن حسين ثلاثة أسابيع وصلى لكل أسبوع ركعتين، ثم أتى الحجر فاستلمه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الملک فرماتے ہیں کہ میں مکہ مکرمہ میں رہا وہاں حضرت سعید بن جبیر اور حضرت علی رضی اللہ عنہ بن حسین بھی تھے، حضرت علی رضی اللہ عنہ بن حسین نے تین طواف اکٹھے کیے اور پھر ہر طواف کے بدلے (سات چکروں کے بدلے) دو رکعتیں ادا فرمائیں اور پھر حجر اسود پر تشریف لائے اور اس کا استلام کیا، حضرت سعید بن جبیر نے دن کے وقت ایسا فرماتے تھے۔
حدیث نمبر: 15457
١٥٤٥٧ - وكان سعيد بن جبير يفعله بالنهار.
حدیث نمبر: 15458
١٥٤٥٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن عبد اللَّه بن مسلم قال: ذكروا عند القاسم أن عائشة كانت تقرن بين الأسابيع فقال: اتقوا اللَّه ولا تقولوا على أم المؤمنين ما لم تكن تفعل (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قاسم کے سامنے لوگوں نے ذکر کیا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کئی طواف ملا کر اکٹھے فرمایا کرتی تھیں، آپ نے فرمایا لوگو ! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور ام المؤمنین کے متعلق ایسی بات نہ کرو جو وہ نہیں کیا کرتی تھیں۔
حدیث نمبر: 15459
١٥٤٥٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن سليم عن إسماعيل بن أمية عن الزهري قال: مضت السنة أن مع كل (أسبوع) (١) ركعتين (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زھری فرماتے ہیں کہ سنت گزر چکی ہے کہ ہر سات چکروں پر دو رکعات ادا کرنا ضروری ہیں۔
حدیث نمبر: 15460
١٥٤٦٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا معن بن عيسى (عن) (١) خالد بن أبي بكر قال: رأيت القاسم بن محمد وسالما وعبيد اللَّه بن عبد اللَّه يصلون عند كل (سبوع) (٢) ركعتين، ولا يقرنون بين السبوع.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خالد بن ابوبکر فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت قاسم بن محمد، حضرت سالم اور حضرت عبید اللہ بن عبد اللہ کو دیکھا وہ طواف کے ہر سات چکروں پر دو رکعتیں ادا فرماتے ، اور کئی طواف ملا کر نہ کرتے۔
حدیث نمبر: 15461
١٥٤٦١ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا معن عن (١) زيد بن السائب قال: رأيت خارجة بن زيد يصلي عند كل أسبوع ركعتين] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن السائب فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت خارجہ بن زید کو دیکھا کہ آپ نے طواف کے ہر سات چکروں پر دو رکعتیں ادا فرمائیں۔
حدیث نمبر: 15462
١٥٤٦٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا معن عن مالك بن أنس عن هشام بن عروة عن أبيه أنه كان لا يقرن بين السبوع ويصلي لكل (سبوع) (١) ركعتين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ کئی طواف اکٹھے ملا کر نہ کرتے تھے اور ہر طواف پر دو رکعتیں ادا فرماتے تھے۔
حدیث نمبر: 15463
١٥٤٦٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا معن (بن عيسى) (١) عن ثابت بن قيس قال: رأيت عراك بن مالك يصلي عند كل (سبوع) (٢) ركعتين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ثابت بن قیس فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عراک بن مالک کو دیکھا کہ آپ نے ہر طواف پر (سات چکروں پر) دو رکعتیں ادا فرمائیں۔
حدیث نمبر: 15464
١٥٤٦٤ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن عمرو عن الحسن قال: لكل سبوع ركعتان] (١) لا يجزئ منها تطوع ولا فريضة.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ طواف کے ہر سات چکروں پر دو رکعتیں ہیں، کوئی نفل اور فرض نماز اس کی جگہ کافی نہ ہوں گی۔