حدیث نمبر: 15394
١٥٣٩٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون عن هشام عن الحسن وعطاء قالا: في العبد يعتق بعد ما ينفر الناس من عرفات أو قال (يحتلم) (١) الغلام (أو تحيض الجارية) (٢) أو يجمع فرجعوا إلى عرفات فوقفوا قبل طلوع الفجر، فقد أجزأت عنهم حجة الإسلام.
مولانا محمد اویس سرور
حسن اور حضرت عطاء اس غلام کے متعلق فرماتے ہیں جس کو اس وقت آزاد کیا جائے جب لوگ عرفات سے چلے جائیں، یا فرمایا کہ بچے کو احتلام ہوجائے (بالغ ہوجائے) یا لڑکی کو حیض آجائے تو یہ سب لوٹیں گے واپس عرفات کی طرف اور صبح تک وہاں ٹھہریں گے، ان کا یہ ٹھہرنا ان کی طرف سے صبح میں کافی ہوجائے گا اور ان کا حج ادا ہوجائے گا جو اسلام کا حج ان کے ذمہ لازم تھا۔