حدیث نمبر: 15369
١٥٣٦٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن شعبة عن أبي بشر عن سعيد ابن جبير عن ابن عباس قال: جاء رجل إلى النبي ﷺ فقال: إن أختي ماتت ولم تحج أفأحج عنها؟ قال: "أرأيت لو كان عليها دين فقضيته، واللَّه أحق بالوفاء والقضاء" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک شخص خدمت نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں حاضر ہوا اور عرض کیا میری بہن کا انتقال ہوگیا اور اس نے حج نہیں کیا ہوا تھا کیا میں اس کی طرف سے حج کرلوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تیرا کیا خیال ہے اگر اس پر قرض ہوتا تو وہ ادا کرتا ؟ بیشک اللہ تعالیٰ اس بات کا زیادہ حق دار ہے کہ اس کے حق کو ادا کیا جائے۔
حدیث نمبر: 15370
١٥٣٧٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن منصور عن مجاهد عن رجل يقال له يوسف عن ابن الزبير قال: أتى النبي ﷺ رجل فقال: يا رسول ⦗٤٢١⦘ اللَّه إن (أبي) (١) مات ولم يحج أفأحج عنه؟ قال: " (أنت) (٢) أكبر (ولده؟) (٣) " قال: نعم، قال: "فحج عن (أبيك) (٤) أرأيت لو كان على (أبيك) (٥) دين فقضيته؟ " (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن زبیر سے مروی ہے کہ ایک شخص خدمت نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میرے والد فوت ہوگئے ہیں انھوں نے حج نہیں کیا ہوا تھا، کیا میں ان کی طرف سے حج کرلوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ کیا تو ان کا بڑا بیٹا ہے ؟ اس شخص نے عرض کیا کہ جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ پھر تو اپنے والد کی طرف حج ادا کر، تیرا کیا خیال ہے اگر تیرے والد پر قرضہ ہوتا تو کیا تو وہ ادا نہ کرتا ؟۔
حدیث نمبر: 15371
١٥٣٧١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن أسلم عن عطاء قال: يحج عن الميت وإن لم يوص به.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ میت کی طرف سے حج کیا جائے گا اگرچہ اس نے اس کی وصیت نہ بھی کی ہو۔