حدیث نمبر: 15357
١٥٣٥٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد العزيز العمي قال: سئل (مطر) (١) وأنا أسمع عن امرأة استأذنت زوجها في الحج فلم يأذن لها، فاستأذنته أن تزور فأذن لها، فضمت عليها ثيابًا لها بيضًا (فصرخت) (٢) بالحج قال: فأتوا الحسن فسألوه، فقال ⦗٤١٨⦘ الحسن: (اللكعة) (٣) ليس لها ذاك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مطر سے مروی ہے کہ ایک خاتون نے اپنے شوہر سے حج کی اجازت مانگی لیکن شوہر نے اس کو اجازت نہ دی، پھر اس نے خاوند سے بیت اللہ کی زیارت کی اجازت مانگی تو شوہر نے اجازت دے دی، پھر اس خاتون نے اس پر سفید کپڑوں کو ملا لیا اور حج کے لیے فریاد تلبیہ (آواز) کرنے لگی، لوگ حسن کے پاس آئے اور آپ سے دریافت کیا ؟ حسن نے ارشاد فرمایا : احمقو ! اس کو یہ جائز ہے، حضرت مطر فرماتے ہیں کہ حضرت قتادہ سے دریافت کیا گیا ؟ آپ نے فرمایا کہ وہ خاتون محرمہ (شمار ہوگی) ہے، حضرت مطرئ فرماتے ہیں کہ پھر میں مکہ مکرمہ گیا اور میں نے حضرت حکم بن عتیبہ سے دریافت کیا ؟ آپ نے فرمایا کہ وہ خاتون محرمہ ہے، حضرت مطرئ فرماتے ہیں کہ پھر میں نے ایک شخص کے ذمہ لگایا کہ حضرت عطاء بن ابی رباح سے پوچھے ؟ آپ نے فرمایا کہ نہیں ! آنکھوں کی ٹھنڈک نہیں ہے اس پر یہ نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 15358
١٥٣٥٨ - قال مطر: وسئل قتادة فقال: هي محرمة.
حدیث نمبر: 15359
١٥٣٥٩ - قال مطر: فانطلقت إلى مكة فسألت الحكم بن (عتيبة) (١) فقال هي: محرمة.
حدیث نمبر: 15360
١٥٣٦٠ - قال مطر: فأمرت رجلًا فسأل عطاء بن أبي رباح فقال: لا، ولا نعمت عين؛ ليس لها ذلك.
حدیث نمبر: 15361
١٥٣٦١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (وكيع قال: حدثنا) (١) أبو عوانة عن منصور عن إبراهيم قال: إذا كانت الفريضة وكان لها محرم، فلا بأس أن تخرج ولا تستأذن زوجها.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ حج جب فرض ہوجائے اور خاتون کے ساتھ کوئی محرم بھی موجود ہو تو پھر کوئی حرج نہیں کہ وہ شوہر سے اجازت لیے بغیر حج کے لیے نکل جائے۔
حدیث نمبر: 15362
١٥٣٦٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا فضيل بن عياض عن (هشام) (١) عن الحسن في المرأة التي لم تحج، قال: تستأذن زوجها فإذا أذن لها فذاك أحب إلي، وإن لم يأذن لها خرجت مع ذي محرم، فإن ذلك فريضة من فرائض اللَّه ليس (له) (٢) (عليها) (٣) فيها طاعة.
مولانا محمد اویس سرور
حسن اس خاتون کے متعلق فرماتے ہیں جس نے حج نہ کیا ہو کہ وہ اپنے شوہر سے اجازت لے اگر شوہر اجازت دے دے تو یہ میرے نزدیک بہت اچھا ہے اور اگر شوہر اجازت نہ دے تو وہ خاتون اپنے کسی محرم کے ساتھ حج پر چلی جائے کیونکہ حج اللہ تعالیٰ کے فرائض میں سے ایک فریضہ ہے اس میں کسی کی اطاعت نہیں ہے (سوائے اللہ تعالیٰ کے)