حدیث نمبر: 15325
١٥٣٢٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبدة بن سليمان عن هشام بن عروة عن أبيه أن النبي ﷺ اعتمر عام الفتح من الجعرانة، فلما فرغ من عمرته استخلف أبا بكر على مكة وأمره أن يعلم الناس المناسك وأن يؤذن في الناس: "من حج العام فهو آمن ولا يحج بعد العام مشرك، ولا يطوف بالبيت عريان" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتح مکہ والے سال مقام جعرانہ سے عمرہ کیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب عمرہ سے فارغ ہوئے تو حضرت ابوبکر صدیق کو مکہ پر امیر مقرر فرمایا اور ان کو حکم دیا کہ لوگوں کو مناسک حج کی تعلیم دو ، اور لوگوں میں یہ اعلان (بھی) کروا دو کہ جو اس سال حج کرے وہ مامون ہے، اور آج کے بعد مشرک حج نہیں کرسکتا اور بیت اللہ کا طواف برہنہ ہو کر نہیں کیا جاسکتا۔
حدیث نمبر: 15326
١٥٣٢٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن (فضيل) (١) عن (عطاء) (٢) بن السائب عن (سالم) (٣) بن أبي الجعد عن ابن عباس قال: جاء أعرابي إلى النبي ﷺ فقال: السلام عليك يا غلام بني عبد المطلب فقال: "وعليك"، فقال: إني رجل من ⦗٣٩٨⦘ أخوالك من بني سعد بن بكر وإني رسول قومي إليك ووافدهم، وإني سائلك (فمشدد) (٤) (مسألتي) (٥) إياك (ومناشدك) (٦) (فمشيد) (٧) مناشدتي إياك، (قال: "خذ عليك) (٨) يا أخا بني سعد"، قال: فإنا وجدنا في كتابك وأمرتنا رسلك أن (نحج) (٩) البيت العتيق، فأنشدك أهو أمرك بذلك؟ قال: "نعم" (١٠).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے ایک دیہاتی خدمت رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں حاضر ہوا اور عرض کیا : اے بنو عبد المطلب کے بیٹے ! السلام علیکم، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب میں وعلیکم السلاام کہا۔ پھر اس اعرابی نے کہا کہ میں آپ کے ننہال یعنی قبیلہ بنو سعید سے ہوں (یہ قبیلہ حضور کا رضاعی ماموں تھے) اور میں اپنی قوم بھیجا ہوا قاصد ہوں۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک قسم دینے لگا ہوں اور سوال کرنے لگا ہوں، اس قسم اور سوال کا جواب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی کو دینا ہوگا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اے بنی سعد کے بھائی تو خود سے سوال کرلے۔ (یعنی قرابت کی وجہ سے حضور نے اپنے اور اس شخص میں کوئی فرق نہ رکھا) ۔ اس نے عرض کیا بیشک ہم نے آپ کی کتاب (مکتوب) میں پایا ہے اور ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قاصد نے حکم دیا ہے کہ ہم لوگ حج بیت اللہ کریں، کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں اس کا حکم فرمایا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، ہاں۔
حدیث نمبر: 15327
١٥٣٢٧ - (حدثنا أبو بكر) (١) قال: حدثنا ابن فضيل عن عطاء بن السائب عن محارب (عن) (٢) ابن (٣) بريدة: وردنا المدينة (فأتينا) (٤) عبد اللَّه بن عمر فقال: كنا عند رسول اللَّه ﷺ فأتاه رجل جيد الثياب طيب الريح حسن الوجه فقال: السلام عليك يا ⦗٣٩٩⦘ رسول اللَّه، (قال) (٥): "وعليك"، فقال: يا رسول اللَّه (أدنو) (٦) منك؟ (قال) (٧): "أدن" (٨)، (فدنا دنوة) (٩)، فقلنا: ما رأينا كاليوم قط رجلًا أحسن ثوبًا ولا أطيب ريحًا ولا أحسن وجهًا ولا أشد توقيرًا لرسول اللَّه ﷺ، ثم قال: يا رسول اللَّه أدنو منك؟ قال: "نعم"، فدنا دنوه، فقلنا مثل مقالتنا، ثم قال له الثالثة: أدنو منك يا رسول اللَّه؟ قال: "نَعَمٌ"، حتى ألزق ركبتيه بركبة رسول اللَّه ﷺ، [(فقال) (١٠): يا رسول اللَّه ما الإسلام؟ قال رسول اللَّه ﷺ] (١١): "تقيم الصلاة وتؤتي الزكاة وتصوم رمضان وتحج البيت وتغتسل من الجنابة"، قال: صدقت، فقلنا: ما رأينا كاليوم رجلًا، واللَّه لكأنه يعلم رسول اللَّه ﷺ (١٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن بریدہ فرماتے ہیں کہ ہم مدینہ منورہ آئے تو حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہمارے پاس تشریف لائے اور پھر فرمایا : ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک عمدہ لباس، اچھی خوشبو اور خوبصورت شکل والا ایک شخص آیا اور عرض کیا : السلام علیک یا رسول اللہ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب ارشاد فرمایا وعلیک، اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کیا میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب آ جاؤں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا قریب ہو جاؤ، پس وہ تھوڑا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب ہوگیا، ہم نے کہا (دل میں) کہ ہم نے آج کے دن کی طرح نہیں دیکھا کوئی شخص عمدہ کپڑوں میں، اور نہ ہی اچھی خوشبو اور خوبصورت چہرے والا اور نہ ہی اس سے زیادہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی توقیر کرنے والا، پھر اس نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کیا میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب آ جاؤں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ہاں پس وہ تھوڑا سا قریب آگیا، ہم نے پھر اسی طرح سوچا، پھر اس نے تیسری مرتبہ عرض کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کیا میں آپ کے قریب ہو جاؤں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہاں، وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اتنا قریب ہوگیا کہ اس کے گھٹنے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مبارک گھٹنوں کے ساتھ مل گئے، اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! اسلام کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، رمضان کے روزے رکھنا، حج کرنا غسل جنابت کرنا، اس نے عرض کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سچ کہا، ہم نے کہا اللہ کی قسم ہم لوگوں نے آج کے دن کی طرح کبھی کوئی شخص نہیں دیکھا لیکن وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تعلیم دے رہا ہے (یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو تعلیم دے رہے ہیں) ۔
حدیث نمبر: 15328
١٥٣٢٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن فضيل عن عطاء بن السائب عن سعيد ابن جبير عن ابن عباس أن رجلًا أتاه فقال: يا أبا عباس أبدأ بالصفا قبل المروة، (أو أبدأ بالمروة) (١) قبل الصفا؟، أو أصلي قبل أن أطوف (أو أطوف) (٢) قبل أن أصلي، ⦗٤٠٠⦘ أو أذبح قبل أن أحلق؟، أو أحلق قبل أن أذبح؟ فقال ابن عباس: خذ ذلك من قبل القرآن فإنه أجدر أن يحفظ، قال اللَّه (تبارك) (٣) وتعالى: ﴿إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ﴾ (٤) [البقرة: ١٥٨]، فالصفا قبل المروة وقال (تبارك) (٥) وتعالى: ﴿وَلَا تَحْلِقُوا رُءُوسَكُمْ حَتَّى يَبْلُغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ﴾ [البقرة: ١٩٦]، فقال (بالذبح) (٦): قبل الحلق (وقال) (٧) ﵎ (٨): ﴿(طَهِّرْ) (٩) بَيْتِيَ لِلطَّائِفِينَ وَالْقَائِمِينَ وَالرُّكَّعِ السُّجُودِ﴾ [الحج: ٢٦]، فالطواف قبل الصلاة (١٠).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر سے مروی ہے کہ ایک شخص حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں آیا اور عرض کیا کہ میں مروہ سے پہلے صفا پر چڑھوں یا صفا سے پہلے مروہ پر ؟ طواف سے پہلے نماز ادا کروں یا نماز سے پہلے طواف کروں ؟ حلق سے پہلے قربانی کروں یا قربانی سے پہلے حلق کروں ؟ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا : قرآن پاک کی ترتیب سے ان کو ادا کرو (اور حاصل کرو) بیشک وہ یاد کرنے میں آسان ہے (اور تو اس پر قادر ہے) اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ { اِنَّ الصَّفَا وَ الْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَآئِرِ اللّٰہِ } پس صفا پر مروہ سے پہلے چڑھو، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے { وَ لَا تَحْلِقُوْا رُئُ وْسَکُمْ حَتّٰی یَبْلُغَ الْھَدْیُ مَحِلَّہٗ } پس حلق سے پہلے قربانی کرو او اللہ پاک کا ارشاد ہے { طَھِّرَا بَیْتِیَ لِطَّآئِفِیْنَ وَ الْعٰکِفِیْنَ وَ الرُّکَّعِ السُّجُوْدِ } پس نماز سے پہلے طواف کرو۔
حدیث نمبر: 15329
١٥٣٢٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو أسامة عن زكريا (عن) (١) أبي إسحاق عن زيد بن (يثيع) (٢) عن علي قال: بعثني رسول اللَّه ﷺ حين أنزلت براءة بأَرْبع: " (أن) (٣) لايطوف بالبيت عريان، ولا يقرب المسجد (مشرك) (٤) بعد عامهم هذا، ومن كان بينه وبين رسول اللَّه ﷺ عهد فهو إلى مدته، ولا ⦗٤٠١⦘ تدخل الجنّة إلا نفس مسلمة" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب چار براء تیں نازل ہوئیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بھیجا (کہ میں اعلان کروں کہ) کوئی شخص بیت اللہ کا طواف برہنہ ہو کر نہ کرے، آج کے بعد مشرک بیت اللہ کے قریب نہ آئے، اور جس شخص کے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے درمیان کوئی معاھدہ تھا پس وہ اس مدت تک ہے (جو طے ہوئی تھی) اور جنت میں مسلمان کے علاوہ کوئی داخل نہ ہوگا۔
حدیث نمبر: 15330
١٥٣٣٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن (حسين) (١) بن عقيل قال: أملى عليّ الضحاك مناسك الحج.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسین بن عقیل سے مروی ہے کہ مجھے حضرت ضحاک نے مناسک حج لکھوائے۔
حدیث نمبر: 15331
١٥٣٣١ - [حدثنا أبو بكر قال: ثنا الفضل بن دكين عن حسين بن عقيل، قال: أملى عليّ الضحاك مناسك الحج] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسین بن عقیل سے اسی طرح مروی ہے۔
حدیث نمبر: 15332
١٥٣٣٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا علي بن هاشم عن ابن أبي ليلى عن ابن أبي مليكة عن عبد اللَّه بن عمرو قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "أتى جبربل إبراهيم ﵉ (١) فراح به إلى منى فصلى به الصلوات جميعًا، ثم صلى به الفجر ثم غدا به إلى عرفة فنزل به حيث ينزل الناس، ثم صلى به (الصلاتين) (٢) جميعًا ثم أتى (به) (٣) الموقف حتى إذا كان (كأعجل) (٤) ما يصلي (إنسان) (٥) المغرب أفاض به (فأتى) (٦) ⦗٤٠٢⦘ جمعًا فصلى به الصلاتين (جميعًا) (٧)، ثم بات بها حتى إذا كان (كأعجل) (٨) ما يصلي أحد من الناس الفجر صلى به، ثم وقف حتى إذا كان كأبطأ ما يصلي أحد من الناس الفجر أفاض به إلى منى فرمى الجمرة، ثم ذبح وحلق ثم أفاض به، ثم أوحى اللَّه (تعالى) (٩) (بعد) (١٠) إلى نبيه ﷺ: ﴿أَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا﴾ [النحل: ١٢٣] " (١١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : حضرت جبرئیل ابراہیم کے پاس تشریف لائے پھر ان کے ساتھ منیٰ آئے، پھر ان کے ساتھ تمام نمازیں ادا کیں، پھر فجر کی نماز ادا کی، پھر صبح کے وقت ان کے ساتھ عرفہ آئے اور اس جگہ اترے جہاں لوگ اترتے ہیں پھر ان کے ساتھ دونوں نمازیں اکٹھی ادا کیں، پھر ان کے ساتھ موقف پر تشریف لائے، یہاں تک کہ جب اتنا وقت گزر گیا کہ جس طرح ایک آدمی تیزی سے مغرب ادا کرتا ہے تو آگے چل پڑے، پھر مزدلفہ آئے اور وہاں آ کر دونوں نمازیں اکٹھی ادا کیں، پھر وہیں پر رات گزاری یہاں تک کہ جیسے کوئی شخص نماز فجر ادا کرنے میں جلدی کرتا ہے ان کے ساتھ نماز ادا کی، پھر وہیں ٹھہرے رہے، یہاں تک کہ جیسے کوئی شخص نماز فجر ادا کرنے میں سستی کرتا ہے ان کے ساتھ چلتے ہوئے منیٰ تشریف لائے اور جمرہ کی رمی فرمائی، پھر قربانی کی اور حلق کروایا پھر ان کے ساتھ چلے، پھر اللہ تعالیٰ نے بعد میں اپنے نبی پر وحی فرمائی کہ { اَنِ اتَّبِعْ مِلَّۃَ اِبْرٰھِیْمَ حَنِیْفًا }۔
حدیث نمبر: 15333
١٥٣٣٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون عن التيمي عن أبي (مجلز) (١) في قوله (تعالى) (٢): ﴿وَإِذْ يَرْفَعُ إِبْرَاهِيمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَيْتِ (وَإِسْمَاعِيلُ﴾ [البقرة: ١٢٧]، قال: لما فرغ من البيت) (٣) جاءه جبريل فأراه الطواف بالبيت وأحسبه قال: والصفا والمروة، (قال) (٤) ثم انطلقا إلى العقبة فعرض (لهما) (٥) الشيطان قال: فأخذ جبريل ﵇ (٦) سبع حصيات وأعطى إبراهيم ﵇ (٧) سبع ⦗٤٠٣⦘ حصيات فرمى وكبر، وقال لإبراهيم: ارم وكبر قال: فرميا (وكبرا) (٨) مع كل رمية حتى (أفل) (٩) الشيطان، (ثم) (١٠) انطلقا إلى الجمرة الوسطى فعرض لهما الشيطان فأخذ جبريل (١١) سبع حصيات وأعطى إبراهيم (١٢) سبع حصيات فرميا (وكبرا) (١٣) مع كل رمية حتى (أفل) (١٤) الشيطان، ثم أتيا الجمرة القصوى قال: فعرض لهما الشيطان قال: فأخذ جبريل (١٥) سبع حصيات وأعطى إبراهيم (١٦) سبع حصيات وقال: ارم وكبر، فرميا وكبرا مع كل رمية حتى (أفل) (١٧) (الشيطان) (١٨) ثم أتى به منى فقال: هاهنا (يحلق) (١٩) الناس رؤوسهم، ثم أتى (به) (٢٠) جمعًا فقال: هاهنا يجمع الناس الصلاة، ثم أتى به عرفات فقال: عرفت؟ قال: نعم، قال: فمن ثم سميت عرفات.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو مجلز قرآن پاک کی آیت { وَ اِذْ یَرْفَعُ اِبْرَھٖمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَیْتِ وَ اِسْمٰعِیْلُ } (کی تفسیر میں) فرماتے ہیں کہ جب ابراہیم بیت اللہ کی تعمیر سے فارغ ہوئے تو حضرت جبرئیل آپ کے پاس آئے اور پھر آپ کو طواف کر کے دکھایا اور اچھی طرح کروایا پھر صفا ومروہ کی سعی، پھر وہ دونوں عقبہ کی طرف چلے تو شیطان ان کے سامنے آگیا، حضرت جبرئیل نے سات کنکریاں اٹھائیں اور ابراہیم کو بھی سات کنکریاں دیں اور آپ نے شیطان کو مارتے ہوئے تکبیر پڑھی اور ابراہیم سے فرمایا اس کو مارو اور تکبیر پڑھو، پھر آپ دونوں نے اس کو کنکریاں ماریں اور ہر کنکری کے ساتھ تکبیر پڑھتے یہاں تک کہ شیطان چھپ (کر بھاگ) گیا۔ پھر آپ دونوں حضرات جمرہ وسطی کی طرف چلے تو شیطان پھر آپ کے سامنے آگیا، حضرت جبرئیل نے سات کنکریاں اٹھائیں اور ابراہیم کو بھی سات کنکریاں دیں پھر آپ دونوں نے اس کو کنکریاں ماریں اور ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہتے یہاں تک کہ شیطان چھپ (کر بھاگ) گیا۔ پھر آپ دونوں جمرہ قصویٰ پر تشریف لائے تو شیطان پھر آپ کے سامنے آگیا، حضرت جبرئیل نے سات کنکریاں اٹھائیں اور ابراہیم کو بھی سات کنکریاں دیں اور آپ سے فرمایا اس کو مارو اور تکبیر پڑھو، پھر آپ دونوں نے اس کو کنکریاں ماریں اور ہر کنکری کے ساتھ تکبیر پڑھتے یہاں تک کہ شیطان چھپ (کر بھاگ) گیا۔ پھر حضرت جبرئیل آپ کے ساتھ منیٰ آئے، اور فرمایا کہ یہاں پر لوگ حلق کروائیں گے، پھر آپ کے ساتھ مزدلفہ تشریف لائے اور فرمایا کہ یہاں پر لوگ دو نمازوں کو اکٹھا ادا کریں گے پھر آپ کے ساتھ عرفات آئے اور فرمایا کہ آپ نے جان لیا ؟ آپ نے فرمایا : ہاں، اسی وجہ سے اس جگہ کا نام عرفات پڑگیا۔
حدیث نمبر: 15334
١٥٣٣٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا داود بن أبي ⦗٤٠٤⦘ هند عن محمد بن (أبي) (١) موسى في قوله (تعالى) (٢): ﴿وَمَنْ يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللَّهِ فَإِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوبِ﴾ [الحج: ٣٢]، (٣) قال: الوقوف بعرفة من شعائر اللَّه، (ويحمع) (٤) من شعائر اللَّه، والجمار من شعائر اللَّه، والبدن من شعائر اللَّه، والحلق من شعائر اللَّه، فمن يعظمها فإنها من تقوى القلوب قال: في قوله (٥): ﴿لَكُمْ فِيهَا مَنَافِعُ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى﴾، [(قال: لكم في كل مشعر منافع) (٦) إلى أجل مسمى قال: لكم في (كل) (٧) مشعر منافع إلى] (٨) أن تخرجوا منه إلى غيره، فالأجل المسمى الخروج منه إلى غيره، ﴿ثُمَّ مَحِلُّهَا إِلَى الْبَيْتِ الْعَتِيقِ﴾ [الحج: ٣٣]، قال: محل هذه الشعائر كلها الطواف بالبيت.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن ابو موسیٰ قرآن پاک کی آیت { وَ مَنْ یُّعَظِّمْ شَعَآئِرَ اللّٰہِ فَاِنَّھَا مِنْ تَقْوَی الْقُلُوْب } کے متعلق فرماتے ہیں کہ وقوف عرفہ شعائر اللہ میں سے ہے، مزدلفہ شعائر اللہ میں سے ہے، جمرات کی رمی کرنا شعائر اللہ میں سے ہے، اونٹ کی قربانی کرنا شعائر اللہ میں سے ہے اور حلق کروانا شعائر اللہ میں سے ہے، پس جو ان شعائر کی تعظیم کرے گا یہ اس کے دل کے تقویٰ کی علامت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد { لَکُمْ فِیْھَا مَنَافِعُ اِلٰٓی اَجَلٍ مُّسَمًّے } کے متعلق فرماتے ہیں کہ مناسک حج میں منافع ہیں یہاں تک کہ اس سے دوسرے کی طرف نکلا جائے، قرآن پاک میں جو اجل مسمی کا تذکرہ اس سے مراد دوسرے مشعر کے طرف جانے تک کا وقت ہے۔ { ثُمَّ مَحِلُّھَآ اِلَے الْبَیْتِ الْعَتِیْقِ } ان تمام شعائر مقام و مرکز بیت اللہ کا طواف ہے۔
حدیث نمبر: 15335
١٥٣٣٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن عيينة عن ابن أبي نجيح عن مجاهد ﴿وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى﴾ [البقرة: ١٢٥]، (قال) (١): هو الحج كله.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد { وَ اتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰھٖمَ مُصَلًّی } یہ تمام کا تمام حج ہے۔
حدیث نمبر: 15336
١٥٣٣٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا إسماعيل بن علية عن التيمي عن أبي (مجلز) (١) قال: كان مع ابن عمر فلما طلعت الشمس أمر براحلته فرحلت، وارتحل ⦗٤٠٥⦘ من منى (فسار) (٢)، قال: (فإن) (٣) كان (لأعجبنا) (٤) إليه (اسفهنا) (٥) رجل كان يحدثه عن النساء ويضحكه، قال: فلما صلى العصر وقف بعرفة فجعل يرفع يديه أو قال: يمد، قال: ولا أدري لعله قد قال: دون أذنيه -وجعل يقول: اللَّه أكبر وللَّه الحمد اللَّه أكبر وللَّه الحمد (اللَّه أكبر وللَّه الحمد) (٦) لا إله إلا اللَّه وحده له الملك وله الحمد، اللهم اهدني بالهدى (وقني) (٧) بالتقوى واغفر لي في الآخرة والأولى، ثم يرد يديه فيسكت كقدر ما كان إنسان قارئا بفاتحة الكتاب، ثم يعود فيرفع يديه ويقول مثل ذلك، فلم يزل يفعل ذلك حتى أفاض، قال: فكان سيره إذا رأى سعة العنق، وإذا رأى (مضيقًا) (٨) أمسك، وإذا أتى جبلًا من تلك الجبال وقف عند كل جبل منها (كقدر) (٩) ما أقول أو يقول القائل (وقفت) (١٠) يداها ولم تقف رجلاها (قال) (١١)، ثم نزل نزلة بالطريق فانطلق واتبعته فقلت: لعله يفعل شيئًا من السنة، فقال: إنما أذهب حيث تعلم فجاء فتوضأ على رسله ثم ركب، ولم يصل حتى أتى جمعًا فأقام فصلى المغرب ثم (انفتل) (١٢) إلينا فقال: الصلاة جامعة (ولم يتجوز بينهما ⦗٤٠٦⦘ بشيء، قلت: ولم يكن بينهما إقامة إلا قوله: الصلاة جامعة) (١٣) أو قال: أذان إلا (ذاك) (١٤)؟ قال: لا، ثم صلى العشاء ركعتين فصلى خمس ركعات للمغرب والعشاء (ولم) (١٥) يتطوع (أو قال) (١٦) الم) (١٧) يتجوز بينهما بشيء، [ثم دعا بطعام فقال: من كان يسمع صوتنا فليأتنا، قال: كأنه يرى أن (ذاك كذاك) (١٨) (ينبغي) (١٩)، (٢٠)، ثم باتوا ثم صلى بنا الصبح (بسواد) (٢١) و (ليس) (٢٢) في السماء (نجم) (٢٣) أعرفه (إلا) (٢٤) أراه، وقرأ بعبس وتولى ولم يقنت قبل الركوع ولا بعده، ثم وقف فذكر من دعائه في هذا الموقف كما فعل في موقفه بالأمس، ثم (أمضى) (٢٥) سيره إذا رأى سعة: العنق وإذا رأى مضيقا أمسك (٢٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو مجلز سے مروی ہے کہ وہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھے، جب سورج طلوع ہوا تو انھوں نے سواری کا حکم فرمایا تو ان کے لیے سواری لائی گئی اور وہ منیٰ سے اس پر سوار ہو کر چل پڑے، راوی فرماتے ہیں کہ پس اگر کوئی بات ہمیں عجیب لگتی تھی تو وہ ہماری نادانی کی وجہ سے تھی، ایک شخص تھا جو ان سے خواتین کے متعلق باتیں کرتا تھا اور ان کو ہنساتا تھا، راوی فرماتے ہیں کہ جب آپ نے نماز عصر ادا کی تو وقوف عرفہ کیا اور اپنے ہاتھوں کو اٹھایا، یا پھر فرمایا کہ ہاتھوں کو پھیلایا، راوی فرماتے ہیں کہ مجھے نہیں معلوم کہ شاید یوں کہا ہو کہ کانوں سے نیچے تک اٹھایا اور یہ پڑھنے لگے : اللَّہُ أَکْبَرُ وَلِلَّہِ الْحَمْدُ ، اللَّہُ أَکْبَرُ وَلِلَّہِ الْحَمْدُ ، اللَّہُ أَکْبَرُ وَلِلَّہِ الْحَمْدُ ، لاَ إلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَحْدَہُ ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ ، اللَّہُمَّ اہْدِنِی بِالْہُدَی ، وَقِنِی بِالتَّقْوَی ، وَاغْفِرْ لِی فِی الآخِرَۃِ وَالأُولَی ، پھر اپنے ہاتھ نیچے کرلیے اور اتنی دیر خاموش رہے جتنی دیر میں کوئی شخص سورة الفاتحہ پڑھ لیتا ہے پھر لوٹے اور ہاتھوں کو بلند کیا اور پھر وہ دعائیں مانگیں، پھر آپ مسلسل اسی طرح کرتے رہے یہاں تک کہ آپ منیٰ کی طرف لوٹ گئے۔ راوی فرماتے ہیں کہ جب آپ کھلی جگہ دیکھتے تو تیز چلتے اور جب جگہ کی تنگی کو دیکھتے تو رک جاتے، پھر ان پہاڑیوں میں سے کسی پہاڑ پر آتے تو ہر پہاڑ پر اتنی دیر کھڑے ہوتے جتنی دیر میں کوئی شخص یوں کہے : اس کے ہاتھ رک گئے ہیں لیکن اس کی ٹانگیں نہیں رکیں، راوی فرماتے ہیں کہ پھر وہ راستے میں اترے اور پھر چل پڑے اور میں ان کے پیچھے پیچھے چلتا رہا، میں نے کہا کہ شاید وہ سنت کاموں میں سے کوئی کام کرنے کا ارادہ کرتے ہیں، انھوں نے فرمایا کہ میں بیشک گیا ہوں اس طور پر کہ تمہیں تعلیم دوں، پھر آپ آئے اور آہستہ اور توقف کے ساتھ وضو کیا، پھر آپ سواری پر سوار ہوگئے اور مزدلفہ آنے تک نماز نہیں پڑھی، پھر وہاں پر آپ نے مغرب کی نماز ادا کی اور ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا : الصلاۃ جامعۃ کہ نماز مشترکہ ہے اس کے درمیان کسی چیز سے تجاوز نہ کیا جائے (نفل نہ پڑھے جائیں) ۔ C میں نے عرض کیا کہ ان کے درمیان (دو نمازوں کے) اقامت نہ ہو سوائے اس قول کے کہ الصلاۃ جامعۃ ؟ فرمایا کہ نہیں۔ پھر عشاء کی دو رکعتیں ادا فرمائیں، پھر آپ نے مغرب اور عشاء کے لیے پانچ رکعتیں ادا کیں اور ان کے درمیان نفل ادا نہیں کیے، پھر کھانا طلب کیا اور فرمایا کہ جو ہماری آواز سن رہا ہے پس وہ ہمارے پاس آجائے، راوی فرماتے ہیں کہ گویا کہ وہ دیکھ رہے ہیں کہ اسی طرح کرنا مناسب ہے، پھر وہاں پر آپ نے رات گزاری، پھر آپ نے ہمیں فجر کی نماز اندھیرے میں پڑھائی کہ آسمان پر کوئی ستارہ موجود نہ تھا جس کو دیکھا جاتا، اور سورة عبس وتولٰی تلاوت فرمائی اور قنوت نہیں پڑھی نہ رکوع سے پہلے نہ بعد میں، پھر ٹھہرے رہے اور اس جگہ کی دعائیں ذکر فرمائیں جیسا کہ گذشتہ دن عرفات میں ذکر کیں تھیں، پھر آپ چل پڑے، آپ اس طرح چل رہے تھے کہ اگر وسعت دکھیتے تو تیز چلتے اور جب تنگی دیکھتے تو ٹھہر جاتے۔ E راوی فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے خبر دی کہ بیشک وہ وادی جو منیٰ کے سامنے ہے جس کو وادی محسّر کہا جاتا ہے وہاں پر اترا جائے گا۔ F پھر جب اس پر آئے تو اپنے پاؤں سے سواری کو ایڑی لگائی تو میں سمجھ گیا کہ وہ تیز چلنے کا ارادہ رکھتے ہیں انھوں نے سواری کو تھکا دیا، تو میں نے اپنی سواری کو تیز دوڑایا۔ پھر انھوں نے جمرہ کی رمی فرمائی پھر اگلے دن بھی جمرہ کی رمی کی، راوی کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ مجھ سے کہا زوال سے عصر تک (رمی کرو) پھر آگے ہوئے یہاں تک کہ وہ جمرہ اولیٰ اور دوسرے جمرہ کے درمیان ہوگئے، پھر دعاؤں کا ذکر کیا جس طرح (پیچھے) دو جگہوں پر (موقفین میں) ذکر کیا تھا، مگر اس دعا میں ان الفاظ کا بھی اضافہ کیا کہ وأصلح لی یا واتمم لنا مناسکنا، راوی کہتے ہیں کہ اس جگہ اتنی دیر ٹھہرے جتنی دیر میں کوئی شخص سور v ہ یوسف کی تلاوت کرلے پھر درمیانے جمرہ کی رمی کی پھر اسی طرح دعاؤں کا ذکر کیا اور اسی طرح اتنی دیر قیام کیا۔ G راوی فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سالم یا حضرت نافع سے دریافت کیا کہ وہ خاموشی میں بھی کچھ پڑھا کرتے تھے ؟ آپ نے فرمایا کہ سنت میں تو کچھ نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 15337
١٥٣٣٧ - قال: وكان ابن عباس أخبرني أن الوادي الذي بين يديه منى الذي يدعى محسرا يوضع، فلما أتى عليه ركض برجله فعرفت أنه أراد أن ⦗٤٠٧⦘ (يوضع) (١) فأعيته راحلته (فأوضعته) (٢) (فرمى) (٣) الجمرة فلما كان الغد رمى الجمرة قال: أحسبه قال لي: (بهاجرة) (٤) (٥)، ثم تقدم حتى كان بينهما وبين الوسطى فذكر من دعائه (مثل دعائه) (٦) في الموقفين إلا أنه زاد: وأصلح لي أو قال: (وأتمم) (٧) لنا مناسكنا قال: وكان قيامه كقدر ما كان إنسان فيما (يرى) (٨) قارئًا سورة يوسف، (ثم) (٩) رمى الجمرة الوسطى، ثم تقدم فذكر من دعائه نحو ذلك (و) (١٠) من قيامه (نحو ذلك) (١١) (١٢).
حدیث نمبر: 15338
١٥٣٣٨ - قال: فقلت لسالم أو نافع: هل كان يقول في سكوته شيئًا؟ قال: أما من السنة فلا.
حدیث نمبر: 15339
١٥٣٣٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حاتم بن إسماعيل عن جعفر عن أبيه قال: دخلنا على جابر بن عبد اللَّه (فسأل عن القوم؟) (١) حتى انتهى إليَّ فقلت: أنا محمد ⦗٤٠٨⦘ ابن علي بن حسين، فأهوى بيده إلى رأسي فنزع (زري) (٢) الأعلى، ثم نزع (زري) (٣) الأسفل، ثم وضع (كفه) (٤) بين (ثديي) (٥) وأنا يومئذ غلام شاب فقال: مرحبا بك يا ابن أخي سل عم شئت، فسألته وهو أعمى وجاء وقت الصلاة، (فقام في نساجة) (٦) ملتحفا بها، كلما وضعها على منكبه رجع طرفاها إليه من صغرها، ورداؤه إلى جنبه على المشجب، فصلى بنا فقلت: أخبرني عن حجة رسول اللَّه ﷺ. فقال (بيده) (٧) فعقد تسعًا (فقال) (٨): إن رسول اللَّه ﷺ مكث تسع سنين (لا) (٩) يحج ثم أذن في الناس (بالحج) (١٠) في العاشرة: أن رسول اللَّه ﷺ حاج، فقدم المدينة بشر كثير كلهم يلتمس أن يأتم برسول اللَّه ﷺ ويعمل مثل عمله، فخرجنا معه حتى أتينا ذا الحليفة، فولدت أسماء بنت عميس محمد بن أبي بكر، فأرسلت إلى رسول اللَّه ﷺ (في المسجد) (١١) كيف أصنع؟ (قال) (١٢): اغتسلي واستذفري بثوب وأحرمي. فصلى رسول اللَّه ﷺ (١٣) في ⦗٤٠٩⦘ المسجد (فركب) (١٤) (القصواء) (١٥) حتى إذا استوت به (راحلته) (١٦) على البيداء نظرت إلى مدى بصري من بين يديه من راكب وماش، وعن يمينه مثل ذلك (وعن يساره مثل ذلك، ومن خلفه مثل ذلك) (١٧) ورسول اللَّه ﷺ (بين أظهرنا) (١٨) وعليه ينزل القرآن وهو يعرف تأويله (وما) (١٩) عمل به من شيء عملنا به، فأهل بالتوحيد: "لبيك اللهم لبيك، لبيك لا شريك لك لبيك، إن الحمد والنعمة لك والملك، لا شريك لك" وأهل الناس بهذا الذي يهلون به، (فلم يرد عليهم رسول اللَّه ﷺ) (٢٠) شيئًا (منه) (٢١) ولزم رسول اللَّه ﷺ تلبيته، وقال جابر: [لسنا (ننوي) (٢٢) إلا الحج] (٢٣)، لسنا نعرف العمرة حتى إذا أتينا البيت معه استلم الركن (فرمل) (٢٤) ثلاثًا ومشى أربعًا، ثم (نفذ) (٢٥) إلى مقام إبراهيم فقرأ: ﴿وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى﴾ [البقرة: ١٢٥]، فجعل المقام بينه وبين البيت (٢٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جعفر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ہم حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، آپ نے لوگوں سے سوال کرنا شروع کیا یہاں تک کہ آپ ہمارے پاس پہنچ گئے، میں نے عرض کیا کہ میں محمد بن علی رضی اللہ عنہ بن حسین ہوں، آپ نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا، پھر میرا اوپر والا بٹن کھولا اور پھر اس کے نیچے والا بٹن کھولا اور اپنا ہاتھ مبارک میرے سینہ پر رکھا میں اس وقت نوجوان تھا، فرمایا اے میرے بھتیجے آپ کو خوش آمدید، پوچھ جو پوچھنا چاہتا ہے ؟ میں نے ان سے دریافت کیا اس حال میں کہ وہ نابینا تھے، (اتنے میں) نماز کا وقت ہوگیا تو وہ بےسلہ ہوا کپڑا اوڑھ کر کھڑے ہوگئے، جب بھی اس کو کندھے پر ڈالتے تو وہ چھوٹا ہونے کی وجہ سے اس کے کونے واپس ان کی طرف آتے، اور ان کی چادر ہینگر پر لٹکی ہوئی تھی، پھر انھوں نے ہمیں نماز پڑھائی، (نماز کے بعد) میں نے عرض کیا کہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حج کے بارے میں بتائیں ؟ آپ نے اپنے ہاتھ کے اشارہ سے نو کا عدد بنایا اور فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نو سال تک بغیر حج کیے مدینہ منورہ میں رہے، پھر دس ہجری کو لوگوں میں اعلان کردیا گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حج کے لیے تشریف لے جا رہے ہیں، (یہ سن کر) بہت سارے لوگ مدینہ منورہ آنا شروع ہوگئے ہر کوئی یہ چاہتا تھا کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حج کا سفر کرے اور آپ کے عمل کی طرح عمل کرے، پھر ہم لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نکلے یہاں تک کہ ہم ذوالحلیفہ پہنچے تو حضرت اسماء بنت عمیس کے ہاں محمد بن ابی بکر کی ولادت ہوئی، انھوں نے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس مسجد میں پیغام بھیجا کہ میں کیا کروں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : غسل کرلو اور (شرم گاہ) پر کپڑا باندھ لو اور پھر احرام باندھ لو۔ C آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسجد میں نماز پڑھائی اور پھر قصواء نامی اونٹنی پر سوار ہوگئے، پھر جب آپ کی اونٹنی مقام بیدا پر پہنچی تو میں نے اپنے آگے دیکھا لوگوں کو جن میں کچھ سوار اور کچھ پیدل ہیں، اور داہنی طرف بھی اسی طرح اور بائیں طرف بھی اسی طرح اور پیچھے بھی اسی طرح اس حال میں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے درمیان تھے اور آپ پر قرآن نازل ہو رہا تھا اور وہ اس کی تفسیر جانتے تھے، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کوئی عمل نہیں کیا مگر ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ وہ عمل کیا، پھر توحید کا تلبیہ پڑھا (جس کے الفاظ یہ ہیں) ، لَبَّیْکَ اللَّہُمَّ لَبَّیْکَ ، لَبَّیْکَ لاَ شَرِیکَ لَکَ لَبَّیْکَ ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَۃَ لَکَ وَالْمُلْکَ ، لاَ شَرِیکَ لَکَ لوگوں نے بھی انہی الفاظ کے ساتھ تلبیہ پڑھا پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان پر کسی بات کو رد نہ فرمایا اس میں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تلبیہ کو لازم فرمایا۔ جابر ارشاد فرماتے ہیں کہ ہم لوگوں نے صرف حج کی نیت کی ہوئی تھی ہمیں عمرے کے بارے میں معلوم نہ تھا، یہاں تک کہ جب ہم لوگ بیت اللہ آئے رکن کا استلام کیا اور طواف کیا جس میں تین چکروں میں رمل کیا اور چار چکر چل کر پورے کیے پھر مقام ابراہیم کے بارے میں حکم نافذ کیا اور قرآن پاک کی آیت { وَ اتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰھٖمَ مُصَلًّی } تلاوت فرمائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مقام ابراھیم کو اپنے اور بیت اللہ درمیان رکھا، میرے والد فرماتے تھے کہ مجھے نہیں معلوم کہ اس کا ذکر کیا ہو مگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تلاوت فرمائی دو رکعتوں میں { قُلْ ہُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ، قُلْ ٰٓیاََیُّہَا الْکٰفِرُوْنَ } پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رکن کی طرف لوٹے اور اس کا استلام فرمایا : پھر دروازے سے صفا کی طرف نکلے پھر جب آپ صفا کے قریب ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے { اِنَّ الصَّفَا وَ الْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَآئِرِ اللّٰہِ } تلاوت فرمائی (اور فرمایا کہ) میں اس سے ابتداء کروں گا جس سے اللہ تعالیٰ نے ابتداء کی، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صفا سے ابتداء کی اور اس پر چڑھے یہاں تک کہ بیت اللہ کو دیکھا (جو نظر آ رہا تھا) پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیت اللہ کی طرف رخ کیا اور ان الفاظ میں اللہ کی توحید اور بڑائی بیان کی، لاَ إلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَحْدَہُ لاَ شَرِیکَ لَہُ ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ ، وَہُوَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ، لاَ إلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَحْدَہُ ، أَنْجَزَ وَعدَہُ ، وَنَصَرَ عَبْدَہُ ، وَہَزَمَ الأَحْزَابَ وَحْدَہُ پھر اس کے درمیان دعا فرمائی پھر اسی طرح (یہی دعا) تین بار مانگی۔ E پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مروہ کی طرف اترے یہاں تک کہ آپ (صلی اللہ ع
حدیث نمبر: 15340
١٥٣٤٠ - فكان أبي يقول: ولا أعلمه ذكره إلا عن النبي ﷺ كان يقرأ في الركعتين: ﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ﴾ و ﴿قُلْ يَاأَيُّهَا الْكَافِرُونَ﴾ (١).
حدیث نمبر: 15341
١٥٣٤١ - ثم رجع إلى الركن فاستلمه ثم خرج من الباب إلى الصفا، فلما دنا من الصفا قرأ: ﴿إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ﴾ [البقرة: ١٥٨]، (ابدأ بما بدأ اللَّه به) (١) فبدأ بالصفا فرقى عليه حتى رأى البيت، فاستقبل البيت ووحد اللَّه وكبره وقال: "لا إله إلا اللَّه وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير لا إله إلا اللَّه وحده، (أنجز وعده و) (٢) نصر عبده، وهزم الأحزاب وحده"، ثم دعا بين ذلك، (ثم) (٣) (قال (مثل) (٤) ذلك) (٥) ثلاث مرات، ثم نزل إلى المروة حتى (إذا) (٦) انصبت قدماه إلى بطن الوادي (سعى) (٧)، حتى إذا صعدنا مشى، حتى أتى المروة ففعل على المروة كما فعل على الصفا، حتى إذا كان آخر (طواف) (٨) ⦗٤١١⦘ (على) (٩) المروة قال: "إني لو استقبلت (من) (١٠) أمري ما استدبْرتُ لم أَسق الهدي وجعلتُهَا عُمْرَةً فمن كان منكم ليس معه هديٌ فليحلُّ وليجعلها عمرة"، فقام سراقة ا (بن مالك) (١١) بن جعشم فقال: يا رسول اللَّه لعامنا هذا (أم للأبد) (١٢) فشبك رسول اللَّه ﷺ أصابعه واحدة في الأخرى وقال: "دخلت العمرة في الحج. . . " مرتين "لا بلِ لأبد أبد". وقدم علي من اليمن ببدن النبي ﷺ فوجد فاطمة ممن حل ولبست (ثيابًا صبيغًا (١٣) واكتحلت، فأنكر ذلك عليها فقالت: أبي أمرني بهذا.
حدیث نمبر: 15342
١٥٣٤٢ - قال: فكان علي يقول بالعراق: فذهبت إلى رسول اللَّه ﷺ محرشًا على فاطمة للذي صنعت مستفتيا لرسول اللَّه فيما ذكرت عنه، قال: (فأخبرته) (١) (٢) أني أنكرت ذلك عليها فقال: "صدقت صدقت"، قال: "ما قلت حين فرضت الحج؟ " قال: قلت: اللهم إني أهل بما أهل به رسولك، قال: "فإن معي الهدي فلا تحل" (٣).
حدیث نمبر: 15343
١٥٣٤٣ - قال: (فكان) (١) جماعة الهدي الذي قدم به علي من اليمن (والذي) (٢) أتى به النبي ﷺ مائة، قال: فحل الناس كلهم وقصروا إلا النبي ﷺ ومن كان معه هدي، فلما كان يوم التروية توجهوا إلى منى فأهلوا بالجج، وركب رسول اللَّه ﷺ فصلى بها الظهر والعصر والمغرب والعشاء والصبح، ثم مكث قليلًا حتى طلعت الشمس وأمر بقبة من شعر (فضربت) (٣) له بنمرة، فسار رسول اللَّه ﷺ ولا (تشك) (٤) قريش إلا أنه (واقف) (٥) عند المشعر الحرام كما كانت قريش تصنع في الجاهلية، فأجاز رسول اللَّه ﷺ (حتى) (٦) أتى عرفة فوجد القبة قد ضربت له بنمرة، فنزل بها حتى إذا زاغت الشمس أمر (بالقصواء) (٧) فرحلت له، فأتى بطن الوادي فخطب الناس (فقال) (٨): "إن دماءكم (وأموالكم) (٩) حرام عليكم كحرمة يومكم هذا في شهركم هذا في بلدكم هذا، ألا كل شيء من أمر الجاهلية تحت قدمي موضوع، ودماء الجاهلية موضوعة، وإن أول دم أضع من دمائنا دم (ابن) (١٠) ربيعة ابن الحارث كان مسترضعًا في بني سعد فقتلته هذيل، وربا أهل الجاهلية موضوع، وأول ربا أضع (ربانا) (١١) ربا عباس بن عبد المطلب فإنه كله موضوع، فاتقوا اللَّه في ⦗٤١٣⦘ النساء، فإنكم أخذتموهن (بأمر) (١٢) اللَّه واستحللتم فروجهن بكلمة اللَّه، ولكم عليهن إلا يوطئن فرشكم أحدا تكرهونه، فإن فعلن ذلك فاضربوهن ضربًا غير مبرح ولهن عليكم رزقهن وكسوتهن بالمعروف، وقد تركت فيكم ما لن تضلوا بعده إن اعتصمتم به كتاب اللَّه، وأنتم تسألون عني فما أنتم قائلون؟ " قالوا: نشهد أن قد بلغت وأديت ونصحت وقال بإصبعه السبابة (يرفعها إلى السماء) (١٣) وينكتها إلى الناس: " (اللهم اشهد) (١٤)، اللهم اشهد" ثلاث مرات، ثم أذن (ثم) (١٥) (أقام فصلى الظهر ثم أقام فصلى العصر) (١٦) (١٧) ولم يصل بينهما شيئًا، ثم ركب رسول اللَّه ﷺ حتى أتى الوقف، فجعل بطن ناقته القصواء إلى الصخرات وجعل (حبل) (١٨) المشاة بين يديه، واستقبل القبلة فلم يزل واقفا حتى (غربت) (١٩) الشمس وذهبت الصفرة قليلًا حتى غاب القرص، وأردف أسامة خلفه، (ودفع) (٢٠) رسول اللَّه ﷺ وقد (شنق) (٢١) للقصواء الزمام حتى إن رأسها ليصيب مورك (رحله) (٢٢)، ويقول بيده ⦗٤١٤⦘ اليمنى: "أيها الناس السكينة (السكينة) (٢٣) " كلما أتى جبلًا من الجبال أرخى لها قليلًا حتى (تصعده) (٢٤) حتى أتى المزدلفة فصلى بها المغرب والعشاء بأذان واحد وإقامتين ولم يسبح بينهما شيئًا، ثم اضطجع رسول اللَّه ﷺ حتى طلع الفجر، (فصلى) (٢٥) حين تبين له الصبح بأذان وإقامة، ثم ركب القصواء حتى أتى المشعر الحرام فاستقبل القبلة فدعاه وكبره وهلله ووحده (فلم) (٢٦) يزل واقفًا حتى أسفر جدًا، فدفع قبل أن تطلع الشمس، وأردف الفضل بن عباس وكان (رجلًا) (٢٧) حسن الشعر أبيض وسيمًا، فلما دفع رسول اللَّه ﷺ مرت ظُعنٌ يجرين، فطفق الفضل ينظر إليهن، فوضع رسول اللَّه ﷺ يده على وجهه، فحول الفضل وجهه إلى الشق الآخر ينظر، فحول رسول اللَّه ﷺ يده من الشق الآخر على وجه الفضل، (فصرف) (٢٨) وجهه من الشق الآخر ينظر حتى أتى (محسرًا) (٢٩) (فحرك) (٣٠) قليلًا، ثم سلك الطريق الوسطى التي تخرج إلى الجمرة الكبرى، حتى أتى الجمرة التي عند الشجرة فرماها بسبع حصيات يكبر مع كل حصاة منها مثل حصى الخذف، رمى (من) (٣١) بطن الوادي، ثم انصرف (إلى) (٣٢) المنحر، فنحر ثلاثًا وستين بيده، ثم أعطى عليًّا فنحر ما غبر (منها) (٣٣)، وأشركه في هديه ⦗٤١٥⦘ وأمر (من) (٣٤) كل بدنة ببضعة فجعلت في قدر فطبخت، فأكلا من لحمها وشربا من مرقها، ثم ركب رسول اللَّه ﷺ فأفاض إلى البيت فصلى بمكة الظهر، فأتى بني عبد المطلب يسقون على زمزم فقال: "انزعوا بني عبد المطلب، فلولا أن تغلبكم الناس على سقايتكم لنزعت معكم"، فناولوه دلوا فشرب منه (٣٥).
حدیث نمبر: 15344
١٥٣٤٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو (الأحوص) (١) عن أبي إسحاق عن مسروق (قال) (٢): أمرتم في الكتاب بإقامة أربع: بإقامة الصلاة، وإيتاء الزكاة، و (إقام) (٣) الحج والعمرة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسروق سے مروی ہے کہ کتاب اللہ میں تمہیں چار چیزوں کا حکم دیا گیا ہے، نماز قائم کرنے کا، زکوٰۃ ادا کرنے کا، حج ادا کرنے کا اور عمرہ کرنے کا۔
حدیث نمبر: 15345
١٥٣٤٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد اللَّه بن نمير عن عبد الملك عن عطاء أنه سئل عن الدجاجة السندية يخرج بها من الحرم (فقال) (١): لا، هي صيد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء سے دریافت کیا گیا کہ سندیہ مرغی جو حرم سے نکالی جاتی ہے (اس کا کیا حکم ہے ؟ ) آپ نے فرمایا کہ نہیں وہ شکار ہے۔
حدیث نمبر: 15346
١٥٣٤٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (أبو) (١) أسامة عن ابن جريج عن عطاء أن أزواج النبي ﷺ كن يطفن مع الرجال (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ ازواج مطہرات مردوں کے ساتھ طواف کیا کرتی تھیں، حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ ایک عورت نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا : آؤ حجر اسود کا استلام کریں، آپ نے فرمایا : اس کو چھوڑ دو اور اس سے آگے نکل جاؤ (بغیر بوسہ دیئے) ۔
حدیث نمبر: 15347
١٥٣٤٧ - قال عطاء: وقالت امرأة لعائشة: تعالي إلى الحجر فاستلميه (قالت) (١): (انفذي) (٢) عنك (٣).