١٥٢٨١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو خالد (الأحمر) (١) عن ابن (جريج) (٢) عن عطاء قال: قلت له: ﴿(وَ) (٣) الْبُدْنَ جَعَلْنَاهَا لَكُمْ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ﴾ [الحج: ٣٦]، ما البدنة؟ قال: البعير والبقرة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء سے عرض کیا اللہ پاک کا ارشاد ہے، { وَالْبُدْنَ جَعَلْنَاہَا لَکُمْ مِنْ شَعَائِرِ اللہِ } البدنہ سے کیا مراد ہے ؟ آپ نے فرمایا : اونٹ اور گائے۔
١٥٢٨٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو خالد عن ابن (جريج) (١) عمن سمع سعيد بن المسيب يقول: البعير والبقرة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن المسیب فرماتے ہیں کہ اس سے مراد اونٹ اور گائے ہے۔
١٥٢٨٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن ابن أبي نجيح عن مجاهد قال: لا تكون البدن إلا من الإبل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں البدن صرف اونٹ میں سے ہی ہو۔
١٥٢٨٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن علية عن ابن عون قال: قال القاسم بن محمد: أن الشاة لن تعدو أن تكون (نسيكة) (١)، وأن البقرة من البدن.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قاسم بن محمد فرماتے ہیں کہ بکری کو قربانی میں سے شمار نہیں کیا جائے گا، بیشک گائے بھی البدن میں شامل ہے۔
١٥٢٨٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن أبيه عن عبد الكريم قال: اختلف عطاء والحكم فقال عطاء: هي من الإبل (والبقر) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الکریم فرماتے ہیں کہ حضرت عطاء اور حضرت حکم کا اس بارے میں اختلاف ہوا، حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ گائے اور اونٹ میں سے ہو اور حضرت حکم فرماتے ہیں صرف اونٹ میں سے ہو۔
١٥٢٨٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن حماد بن زيد عن سليمان بن يعقوب عن أبيه قال: مات رجل من الحي وأوصى أن ينحر عنه بدنة (فسألت) (١) ابن عباس عن البقرة فقال: تجزئ، قال (٢): من أي قوم أنت؟ قال: قلت: من بني رباح قال: وأني لبني رباح البقر؟ إنما البقر للأزد وعبد القيس (٣).
مولانا محمد اویس سرور
یعقوب سے مروی ہے کہ میرے محلہ کا ایک شخص فوت ہوا اور اس نے وصیت کی کہ اس کی طرف سے بدنہ کی قربانی کی جائے، میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا کہ گائے ذبح کی جاسکتی ہے ؟ آپ نے فرمایا کافی ہوجائے گی، آپ نے پوچھا کہ تو کون سی قوم میں سے ہے ؟ میں نے عرض کیا بنو رباح سے، آپ نے فرمایا بنو رباح کے پاس گائے کہاں سے آگئی ؟ گائے تو ازد اور قبیلہ عبد قیس کے پاس ہوتی ہیں۔