کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: کوئی بچہ مکہ مکرمہ کے کبوتروں سے کھیلتے ہوئے انہیں مار دے
حدیث نمبر: 15277
١٥٢٧٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن ابن (جريج) (١) عن عطاء عن ابن عباس في صبي (يعبث) (٢) أصاب حمامة من حمام (الحرم) (٣) فقال: اذبح عن ابنك شاة (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما اس بچہ کے متعلق فرماتے ہیں جو حرم کے کبوتروں میں سے کوئی کبوتر مار دے تو فرمایا (اس کے والد سے) اپنے بچے کی طرف سے بکری ذبح کر۔
حدیث نمبر: 15278
١٥٢٧٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا علي بن مسهر عن عبد اللَّه بن عمر عن أبيه قال: قدمنا ونحن غلمان مع حفص بن عاصم فأخذنا فرخًا بمكة في منزلنا فلعبنا (وعبثنا) (١) به حتى قتلناه، فقالت (له) (٢) إمرأته عائشة ابنة مطيع بن الأسود: فأمر بكبش فذبح فتصدق (به) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر فرماتے ہیں کہ ہم جب چھوٹے تھے تو ہم حضرت حفص بن عاصم کے ساتھ آئے اور ہم نے اپنے مکان میں کبوتری کا بچہ پکڑ کر اس سے کھیل کود شروع کردیا یہاں تک کہ وہ مرگیا، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بنت مطیع بن الاسود نے ان سے کہا تو انھوں کہا کہ بکری ذبح کی جائے، پس بکری ذبح کر کے صدقہ کی گئی۔
حدیث نمبر: 15279
١٥٢٧٩ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو أسامة عن هشام (بن) (١) عروة قال: عبث بعض بني عروة بفرخ من حمام مكة، (فأمر أبي) (٢) بشاة فذبحت ثم تصدق (بها) (٣)] (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام بن عروہ سے مروی ہے کہ حضرت عروہ کے کچھ بچے مکہ مکرمہ کی کبوتری کے بچوں سے کھیل رہے تھے، میرے والد محترم نے بکری ذبح کرنے کا حکم دیا تو وہ ذبح کی گئی اور پھر اس کا گوشت صدقہ کیا گیا۔
حدیث نمبر: 15280
١٥٢٨٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا سهل بن يوسف عن عمرو عن الحسن قال: (إذا) (١) أصاب شيئًا من الصيد -يعني: الصبي- كان (٢) على الذي يحج به.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ اگر بچہ کوئی شکار وغیرہ ہلاک کر دے تو اس کا دم اس پر ہے جو اس کے ساتھ حج کر رہا ہے۔