کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ صفا ومروہ پر کوئی مخصوص دعا نہیں ہے
حدیث نمبر: 15106
١٥١٠٦ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (وكيع) (١) وابن غياث عن الأعمش عن إبراهيم قال: ليس على الصفا والمروة دعاء موقت فادع بما شئت] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ صفا ومروہ پر کوئی مخصوص اور مقرر دعا نہیں ہے جو دل کرے دعا مانگو۔
حدیث نمبر: 15107
١٥١٠٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن سعيد عن ابن جريج عن عطاء قال: لم يسمع على الصفا والمروة دعاء موقت.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ ہم نے صفا ومروہ پر کوئی مخصوص ومقرر دعا نہیں سنی۔
حدیث نمبر: 15108
١٥١٠٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو عامر العقدي عن أفلح عن القاسم قال: ليس عليها دعاء موقت، فادع بما شئت وسل ما شئت.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قاسم فرماتے ہیں کہ صفا ومروہ پر مخصوص دعا نہیں ہے، جو چاہو دعا مانگ لو اور جو چاہو اللہ سے سوال کرلو۔
حدیث نمبر: 15109
١٥١٠٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو داود الطيالسي عن معاذ بن العلاء قال: سمعت عكرمة بن خالد المخزومي يقول: لا أعلم على الصفا والمروة دعاءً موقتًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ بن خالد المخزومی ارشاد فرماتے ہیں کہ میرے علم میں نہیں ہے کہ صفا ومروہ پر کوئی مخصوص دعا ہے کہ نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 15110
١٥١١٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن (فضيل) (١) عن زكريا عن الشعبي عن وهب بن الأجدع أنه سمع عمر يقول: (يبدأ) (٢) بالصفا و (يستقبل) (٣) البيت، ثم (يكبر) (٤) سبع تكبيرات، بين كل (تكبيرتين) (٥): حمد اللَّه و (الصلاة) (٦) على النبي و ﷺ و (يسأله) (٧) لنفسه وعلى المروة مثل ذلك (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر صفا پہاڑی پر چڑھے اور بیت اللہ کی طرف رخ کیا اور سات تکبیریں پڑھیں، اور ہر دو تکبیروں کے درمیان اللہ کی حمد، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود اور اپنی ذات کے لیے دعا مانگی، اور پھر مروہ پہاڑی پر بھی اسی طرح کیا۔
حدیث نمبر: 15111
١٥١١١ - (حدثنا أبو بكر قال) (١): حدثنا ابن نمير عن (عبيد) (٢) اللَّه عن نافع عن ابن عمر أنه كان (إذا) (٣) صعد (٤) على الصفا استقبل البيت ثم كبر ثلاثًا، ثم ⦗٣٥٠⦘ قال: لا إله إلا اللَّه وحده لا شريك له، له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير، يرفع بها صوته ثم يدعو قليلًا ثم يدعو قليلًا ثم يفعل ذلك على المروة حتى يفعل ذلك سبع مرات، فيكون التكبير (إحدى) (٥) وعشرين (تكبيرة) (٦) فما يكاد (يفرغ) (٧) حتى (يشق) (٨) علينا ونحن شباب (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع سے مروی ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب صفا پر چڑھتے تو کعبہ کی طرف رخ کرتے پھر تین تکبیریں پڑھتے اور پھر یہ دعا پڑھتے : لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَحْدَہُ لاَ شَرِیکَ لَہُ ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ ، وَہُوَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ، اپنی آواز بلند کردیتے اور پھر تھوڑی سے دعا فرماتے ، پھر مروہ پر یہی عمل کرتے، یہاں تک کہ سات چکروں میں سات دفعہ یہ عمل کرتے، پس اکیس تکبیریں بن جاتیں، پس ابھی وہ فراغت کے قریب بھی نہیں ہوتے تھے کہ ہم پہلے ہی تھک جاتے تھے۔ حالانکہ ہم جوان تھے۔
حدیث نمبر: 15112
١٥١١٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون عن (الأصبغ) (١) بن زيد عن القاسم بن أبي أيوب عن سعيد بن جبير أنه كان يقول: يقوم الرجل على الصفا والمروة قدر قراءة (سورة) (٢) النبي ﷺ.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ آدمی صفا ومروہ پر اتنی دیر کھڑا ہو جتنی دیر میں سورة محمد کی تلاوت کی جاتی ہے۔
حدیث نمبر: 15113
١٥١١٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا غندر عن شعبة عن مغيرة قال: قال الحكم لإبراهيم: رأيت أبا بكر بن عبد الرحمن بن الحارث يقوم على الصفا قدر ما يقرأ الرجل عشرين ومائة آية، قال: إنه لفقيه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم نے ابراہیم سے فرمایا : میں نے حضرت ابوبکر بن عبد الرحمن بن حارث کو دیکھا کہ آپ صفا پر اتنی دیر کھڑے رہے جتنی دیر میں آدمی ایک سو بیس آیتوں کی تلاوت کرلے حالانکہ وہ فقیہ بھی تھے۔
حدیث نمبر: 15114
١٥١١٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حاتم بن إسماعيل عن جعفر عن أبيه عن جابر أن النبي ﷺ بدأ بالصفا فرقى ووحد اللَّه وكبره وقال: "لا إله الا اللَّه وحده لا شريك له، له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير، لا إله إلا اللَّه (وحده) (١) أنجز وعده ونصر عبده وهزم الأحزاب وحده". ثم دعا بين ذلك، ⦗٣٥١⦘ (قال مثل ذلك) (٢) ثلاث مرات، ثم نزل (إلى) (٣) المروة حتى (انصبت قدماه) (٤) إلى بطن الوادي حتى إذا (صعدنا) (٥) مشى حتى (٦) أتى المروة، ففعل على المروة كما فعل على الصفا (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صفا سے ابتدا کی اور اس پر چڑھے اور ان الفاظ سے اللہ کی توحید وکبریائی بیان فرمائی : اللہ کے علاوہ کوئی الٰہ نہیں ہے۔ وہ اکیلا ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ اسی کی بادشاہی اور اس ہی کی تمام تعریف ہے اور وہ ہر شی پر قادر ہے۔ اللہ کے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ وہ اکیلا ہے اس نے اپنا وعدہ پورا کیا اور اپنے بندے کی مدد کی اور تن تنہا گروہوں کو شکست دی۔ پھر ان کے درمیان دعا فرمائی، اسی طرح تین بار کیا پھر مروہ کی طرف اترے یہاں تک کہ ہمارے قدم بطن وادی میں پانی کی طرح بہنے لگے، یہاں تک کہ ہم چلتے ہوئے مروہ پر آئے، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مروہ پر بھی وہی کیا جو صفا پر کیا تھا۔