کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اللہ کے ارشاد {وَ مَنْ یُّعَظِّمْ شَعَآئِرَ اللّٰہِ} کی تفسیر میں جو وارد ہوا ہے اس کا بیان
حدیث نمبر: 14725
١٤٧٢٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن ابن أبي ليلى عن ابن أبي نجيح عن مجاهد عن ابن عباس: ﴿وَمَنْ يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللَّهِ (فَإِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوبِ) (١)﴾ [الحج: ٣٢] قال: في (الاستسمان) (٢) وإلا ستحسان والاستعظام (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما قرآن پاک کی آیت { وَ مَنْ یُّعَظِّمْ شَعَآئِرَ اللّٰہِ فَاِنَّھَا مِنْ تَقْوَی الْقُلُوْبِ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ موٹا اونٹ تلاش کرنا اور عمدہ وبڑا تلاش کرنا تقویٰ میں سے ہے۔
حدیث نمبر: 14726
١٤٧٢٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (يزيد بن هارون) (١) عن داود بن أبي هند عن محمد بن أبي موسى قال في قوله: ﴿وَمَنْ يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللَّهِ فَإِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوبِ﴾ قال: الوقوف بعرفة من شعائر اللَّه، (ويجمع) (٢) من شعائر اللَّه، والبدن من شعائر اللَّه (٣)، والحلق من شعائر اللَّه (والرمي من شعائر اللَّه) (٤)، فمن يعظمها فإنها من تقوى القلوب.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن ابو موسیٰ اللہ تعالیٰ کے ارشاد { وَ مَنْ یُّعَظِّمْ شَعَآئِرَ اللّٰہِ فَاِنَّھَا مِنْ تَقْوَی الْقُلُوْبِ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ وقوف عرفہ شعائر اللہ میں سے ہے، مزدلفہ کا قیام شعائر اللہ میں سے ہے، اونٹ کی قربانی کرنا شعائر اللہ میں سے ہے، پس جو شخص ان کی تعظیم کرے گا، پس یہ اس کے دل کے تقویٰ میں سے ہے (دل کے تقویٰ کی علامت ہے) ۔
حدیث نمبر: 14727
١٤٧٢٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الوهاب عن حبيب المعلم عن عطاء أنه سئل عن شعائر اللَّه فقال: حرمات اللَّه: اجتناب سخط اللَّه وإتباع طاعته، (فذلك) (١) من شعائر اللَّه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء سے شعائر اللہ کے متعلق دریافت کیا گیا ؟ آپ نے فرمایا : اللہ کی حرمات، اللہ کی ناراضگی سے اجتناب کرو، اس کی طاعات کی اتباع کرو، یہی شعائر اللہ ہیں۔
حدیث نمبر: 14728
١٤٧٢٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن غيلان عن الحكم عن مجاهد ﴿وَمَنْ يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللَّهِ﴾ قال: استعظامها واستحسانها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد قرآن پاک کی آیت { وَ مَنْ یُّعَظِّمْ شَعَآئِرَ اللّٰہِ } کے متعلق فرماتے ہیں کہ اس کی عظمت کرنا اور اس کو اچھا سمجھنا کہ اس کا بڑا سمجھنا اور اس کا عمدہ کرنا ہے۔