حدیث نمبر: 14691
١٤٦٩١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن فضيل عن حصين عن أبي مالك قال: موضع البيت (بكة) (١) وما سوى ذلك (مكة) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو مالک فرماتے ہیں کہ بیت اللہ کی جگہ بکہ ہے اور جو جگہ اس کے علاوہ ہے وہ مکہ ہے۔
حدیث نمبر: 14692
١٤٦٩٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا كثير بن هشام عن جعفر بن برقان قال: سمعت عكرمة يقول: بكة ما حول البيت ومكة ما وراء ذلك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ خانہ کعبہ کے اردگردوالی جگہ بکہ ہے اور جو اس سے ہٹ کر ہے وہ مکہ ہے۔
حدیث نمبر: 14693
١٤٦٩٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن الأسود (بن قيس) (١) عن (أخيه) (٢) عن (ابن) (٣) الزبير قال: إنما سميت بكة، لأن الناس يجيئون من كل جانب حجاجًا (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن زبیر ارشاد فرماتے ہیں کہ اس کا نام بکہ اس لیے رکھا گیا ہے کیونکہ لوگ یہاں حج کرنے کے لیے آتے ہیں۔
حدیث نمبر: 14694
١٤٦٩٤ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن حماد قال: سمعت -سعيد بن جبير وسئل لم سميت بكة-؟ قال: لأنهم يتباكون فيها] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر سے دریافت کیا گیا کہ اس کا نام بکہ کیوں رکھا گیا ہے ؟ آپ نے فرمایا کیونکہ لوگ یہاں پر ہجوم کرتے ہیں اور رش کی وجہ سے ایک دوسرے کو دھکے لگتے ہیں۔
حدیث نمبر: 14695
١٤٦٩٥ - [[حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (محمد) (١) بن (ميمون) (٢) [عن جعفر عن أبيه قال: بكة إنما سميت بكة لتباكي الناس فيها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن سعید فرماتے ہیں کہ اس کا نام بکہ اس لیے رکھا گیا ہے کیونکہ لوگ یہاں پر ہجوم کرتے ہیں اور رش کی وجہ سے دھکے لگتے ہیں۔
حدیث نمبر: 14696
١٤٦٩٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو معاوية عن حجاج] (١) عن عمرو بن (شعيب) (٢) قال: إنما سميت بكة، لأن الناس يتباكون بها]] (٣).
حدیث نمبر: 14697
١٤٦٩٧ - حدثنا أبو بكر (١) قال: حدثنا جعفر بن عون عن مسعر عن (عتبة) (٢) ابن قيس عن ابن عمر قال: (بكة) (٣)؛ بكت (بكاء) (٤) الذكر فيها كالأنثى (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما ارشاد فرماتے ہیں کہ مکہ ہجوم سے بھر دیا گیا ہے، اس نام میں مذکر اور مؤنث دونوں ہی استعمال ہوتے (یعنی یہ نام مذکر بھی اور مونث بھی دونوں طرح سے استعمال کیا سکتا ہے) ۔
حدیث نمبر: 14698
١٤٦٩٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون عن حجاج عن الحكم عن مجاهد قال: إنما سميت بكة؛ لأن الناس (يبك) (١) بعضهم بعضًا (فيها) (٢)، وإنه يحل فيها ما لا يحل في غيرها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ اس کا نام بکہ اس لیے رکھا گیا ہے کیونکہ یہاں لوگ بعض بعض کو دھکیلتے ہیں، اور یہاں پر وہ چیزیں بھی حلال ہیں جو اس کے علاوہ حلال نہیں۔
حدیث نمبر: 14699
١٤٦٩٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن فضيل عن عطية قال: بكة موضع البيت وما حوله مكة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطیہ فرماتے ہیں کہ خانہ کعبہ کی جگہ بکہ ہے اور جو اس کے ارد گرد ہے وہ مکہ ہے۔