حدیث نمبر: 14672
١٤٦٧٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن عيينة عن عبد اللَّه بن أبي بكر عن أبيه عن أبي البداح بن عدي عن أبيه أن النبي ﷺ رخص (للرعاء) (١) أن يرموا يومًا (ويدعوا) (٢) يومًا (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو البداح بن عدی کے والد سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چرواہوں کو اجازت دی ہے کہ وہ ایک دن رمی کریں اور ایک دن رمی کو چھوڑ دیں۔
حدیث نمبر: 14673
١٤٦٧٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (١) ابن عيينة عن ابن (جريج) (٢) عن عطاء أن النبي ﷺ رخص (للرعاء) (٣) أن يرموا ليلًا (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چرواہوں کو اجازت دی ہے کہ وہ رات میں رمی کرلیں۔
حدیث نمبر: 14674
١٤٦٧٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حماد بن خالد عن ابن أبي (ذئب) (١) عن عطاء: أن عمر رخص للرعاء أن يبيتوا عن منى (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء سے مروی ہے کہ حضرت عمر نے چرواہوں کو رخصت دی تھی کہ وہ رات منیٰ میں گزار لیں، راوی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت زہری سے اس کا ذکر کیا ؟ آپ نے فرمایا کہ چرواہے رات میں رمی تو کرتے تھے لیکن رات وہاں نہیں گزارتے تھے۔
حدیث نمبر: 14675
١٤٦٧٥ - قال: فذكرت ذلك (١) للزهري (فقال) (٢): الرعاء يرمون ليلًا ولا يبيتون.
حدیث نمبر: 14676
١٤٦٧٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن نمير عن (عبيد اللَّه) (١) عن نافع عن ابن عمر أنه كان يجعل رمي الجمار نوائب بين رعاء الإبل، يأمر (الذين) (٢) عنده فيرمون إذا (زالت) (٣) الشمس، ثم يذهبون إلى الإبل ويأتي (الذين) (٤) في الإبل فيرمون ثم يمكثون حتى يرمونها من الغد إذا زالت الشمس (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے جمرات کی رمی کو ایک مرتبہ اونٹوں کے چرواہوں کے درمیان اس طرح بنایا کہ آپ نے حکم فرمایا جو ان کے پاس تھے، تو انھوں نے سورج کے زائد ہونے پر رمی کی پھر وہ اپنے اونٹوں کے پاس چلے گئے، اور وہ چرواہے آگئے جو اونٹوں کے پاس تھے، پھر وہ ٹھہرے رہے یہاں تک کہ اگلی صبح زوال شمس کے بعد انھوں نے رمی کی۔