کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: جب شیطان کو کنکر مارے تو کون سی دعا پڑھے
حدیث نمبر: 14569
١٤٥٦٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن إدريس عن ليث (١) عن محمد بن عبد الرحمن بن يزيد عن أبيه قال: أفضت مع عبد اللَّه، فرمى سبع حصيات (يكبر مع كل حصاة) (٢)، واستبطن الوادي حتى إذا فرغ (قال) (٣): اللهم اجعله حجًا مبرورًا وذنبًا (مغفورًا) (٤) ثم قال: (هكذا رأيت) (٥) الذي (أنزلت) (٦) عليه سورة البقرة (صنع) (٧) (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن عبد الرحمن ابن یزید کے والد فرماتے ہیں کہ میں حضرت عبد اللہ کے ساتھ عرفہ سے منیٰ آیا، آپ نے شیطان کو سات کنکریاں ماریں اور ہر کنکری پر تکبیر پڑھی اور پھر وادی میں اترے، جب رمی کر کے فارغ ہوئے تو یہ دعا پڑھی، ” اے اللہ اس حج کو حج مقبول بنا اور اس کے ذریعہ گناہوں کو معاف فرما “ پھر فرمایا کہ جن پر سورة البقرہ نازل ہوئی ہے (حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ) ان کو میں نے اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 14569
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لحال ليث، أخرجه أحمد (٤٥٦١)، وأبو يعلى (٥١٨٥)، والبيهقي ٥/ ١٢٩، وأصله عند البخاري (١٧٤٧)، ومسلم (١٢٩٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 14569، ترقيم محمد عوامة 14213)
حدیث نمبر: 14570
١٤٥٧٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو الأحوص عن (أبي) (١) إسحاق عن الهيثم (بن حنش) (٢) قال: سمعت ابن عمر حين رمى الجمار يقول: اللهم اجعله حجًا مبرورًا وذنبًا مغفورًا (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت الھیثم بن حنش فرماتے ہیں کہ میں نے سنا حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے جب رمی فرمائی تو یہ دعا پڑھی : ” اے اللہ اس حج کو حج مقبول بنا اور اس کے ذریعہ گناہوں کو معاف فرما “
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 14570
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 14570، ترقيم محمد عوامة 14214)
حدیث نمبر: 14571
١٤٥٧١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن الأعمش (عن إبراهيم) (١) قال: ليس على الوقوف عند الجمرتين دعاء مؤقت، فادع بما شئت.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ جمروں کے پاس ٹھہرتے وقت کے لیے کوئی دعا مخصوص نہیں ہے، جو دعا مانگنا چاہو مانگ لو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 14571
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 14571، ترقيم محمد عوامة 14215)
حدیث نمبر: 14572
١٤٥٧٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن أبي عدي عن أشعث قال: كان الحسن يقول: (يدعو) (١) عند الجمار (كلها) (٢) ولا يؤقت شيئًا.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ ہر جمرہ کے پاس دعا مانگو لیکن اس کے لیے کوئی دعا مخصوص نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 14572
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 14572، ترقيم محمد عوامة 14216)
حدیث نمبر: 14573
١٤٥٧٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن مهدي عن سفيان عن مغيرة قال: قلت لإبراهيم: ما أقول إذا رميت الجمرة؟ (قال) (١) قل: اللهم اجعله حجًا مبرورًا وذنبًا مغفورًا، قال: (قلت) (٢): أقوله مع كل حصاة؟ قال: نعم إن شئت.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابراہیم سے فرمایا : جب میں جمرہ کی رمی کروں تو کون سی دعا پڑھوں ؟ آپ نے فرمایا یہ دعا پڑھ : ” اے اللہ اس حج کو حج مقبول بنا اور اس کے ذریعہ گناہوں کو معاف فرما “ میں نے عرض کیا کہ کیا ہر کنکری پر یہ دعا پڑھوں ؟ آپ نے فرمایا ی جی ہاں اگر تم چاہو تو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 14573
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 14573، ترقيم محمد عوامة 14217)
حدیث نمبر: 14574
١٤٥٧٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو خالد عن ابن جريج قال: قلت لعطاء: في الجمرة شيء مؤقت لا (يزاد) (١) عليه؟ قال: لا (٢)، إلا قول جابر (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء سے عرض کیا کہ کیا جمرات کی رمی کرتے وقت دعا مخصوص ہے اس پر اضافہ نہیں کرسکتے ؟ آپ نے فرمایا کہ نہیں ایسا نہیں ہے سوائے حضرت جابر کے قول کے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 14574
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ أبو خالد صدوق.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 14574، ترقيم محمد عوامة 14218)