١٤٥٠٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن جرير بن حازم عن عبد اللَّه بن (عبيد) (١) بن عمير عن عبد الرحمن بن أبي عمار (عن جابر بن عبد اللَّه) (٢) قال: ⦗٢٠٨⦘ جعل (٣) رسول اللَّه ﷺ في الضبع كبشا (يصيبه) (٤) المحرم، وجعله من (الصيد) (٥) (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بجو کے بدلے میں مینڈھا کو رکھا اگر اس کو محرم قتل کر دے، اور اس کو شکار میں سے شمار فرمایا۔
١٤٥٠٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو الأحوص عن سماك عن عكرمة قال: قتل رجل ضبعًا وهو محرم، فأتى (عليًا) (١)، فسأله، فجعل فيه كبشًا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ایک شخص نے حالت احرام میں بجو کو قتل کردیا پھر وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس سوال کرنے کے لیے آیا ؟ آپ نے اس پر مینڈھا کو لازم فرمایا۔
١٤٥٠٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد اللَّه بن نمير عن حجاج عن ابن أبي نجيح عن مجاهد عن علي في الضبع إذا عدا على المحرم (فليقتله) (١) فإن قتله من غير أن يعدو عليه ففيه شاة مسنة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بجو اگر محرم پر حملہ آور ہو اور محرم اس کو قتل کر دے (تو اس پر کچھ نہیں) اور اگر بغیر حملہ کیے وہ اس کو قتل کر دے تو اس پر ایک چار سالہ بکری لازم ہے۔
١٤٥٠٥ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن نمير عن حجاج عن أبي الزبير عن جابر عن (عمر) (١) مثله] (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر سے بھی اسی طرح مروی ہے۔
١٤٥٠٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن حجاج عن ابن أبي نجيح عن مجاهد عن علي في الضبع إذا (لم يعد كبش) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بجو اگر حملہ آور نہ ہو اور محرم اس کو قتل کر دے تو اس پر مینڈھا لازم ہے، حضرت عطاء بھی اسی طرح فرماتے ہیں۔
١٤٥٠٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن شعبة عن سماك (عن) (١) عكرمة عن ابن عباس، أن مروان سأله فقال: فيه كبش (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروان نے سوال کیا ؟ آپ نے فرمایا اس پر مینڈھا لازم ہے۔