١٤٤٦٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عباد بن العوام عن يحيى بن سعيد عن عبد الرحمن بن القاسم عن أبيه أنه كان يقدم مكة، فيطوف، ثم يرجع (فيقيل) (١)، فإذا كان بالعشي راح فطاف بين الصفا والمروة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قاسم مکہ مکرمہ تشریف لائے اور آپ نے طواف کیا پھر آپ واپس چلے گئے اور کچھ دیر آرام کیا (قیلولہ) پھر جب شام ہوئی تو آپ چلے اور صفا ومروہ کی سعی کی۔
١٤٤٦٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص بن غياث عن (عبيد اللَّه) (١) (عن) (٢) القاسم مثله.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قاسم سے اسی طرح مروی ہے۔
١٤٤٦٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن حماد بن زيد عن أيوب عن مجاهد قال: لا بأس إذا طاف أن يؤخر السعي حتى (يبرد) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ کوئی حرج نہیں ہے کہ طواف کرنے کے بعد صفا ومروہ کی سعی کو ٹھنڈے وقت تک مؤخر کیا جائے۔
١٤٤٦٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا الفضل بن دكين عن مسعر قال: أخبرني إسحاق مولى لقريش قال: قدم علينا سعيد بن جبير فطاف بالبيت سبعًا وصلى ركعتين، ثم أخر السعي بين الصفا والمروة إلى العشاء.
مولانا محمد اویس سرور
اسحاق فرماتے ہیں کہ حضرت سعید بن جبیر ہمارے پاس مکہ مکرمہ تشریف لائے اور آپ نے طواف کے سات چکر لگائے پھر دو رکعتیں ادا کیں، پھر آپ نے صفا ومروہ کی سعی کو شام تک مؤخر کردیا۔
١٤٤٦٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص بن غياث عن عمرو عن الحسن: أنه كان يكره أن يفرق بين الطواف والسعي.
مولانا محمد اویس سرور
حسن طواف اور سعی کے درمیان تفریق کرنے کو ناپسند سمجھتے تھے۔