کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ مزدلفہ تمام کا تمام موقف ہے سوائے بطن محسّرکے
حدیث نمبر: 14416
١٤٤١٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا سفيان بن عيينة عن محمد بن المنكدر سمع سعيد بن عبد الرحمن بن يربوع (يخبر) (١) عن (جبير) (٢) بن الحويرث (سمع) (٣) أبا بكر وهو واقف على (قزح) (٤) وهو يقول: يا أيها الناس أصبحوا أصبحوا، ثم دفع فكأني أنظر إلى فخذه قد انكشف مما يحرش بعيره بمحجنه (٥).
مولانا محمد اویس سرور
راوی کہتے ہیں کہ میں نے سنا حضرت ابوبکر صدیق مقام قزح پر کھڑے تھے اور فرما رہے تھے کہ اے لوگو ! جلدی جلدی چلو، پھر آپ نکلے، گویا کہ میں آپ کی ران کو دیکھ رہا ہوں جو اونٹ کو ڈنڈا مارنے کی حرکت کی وجہ سے ظاہر ہوچکی ہے۔
حدیث نمبر: 14417
١٤٤١٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن هشام عن أبيه عن ابن الزبير قال: المزدلفة كلها موقف إلا بطن محسر (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن زبیر ارشاد فرماتے ہیں کہ مزدلفہ تمام کا تمام موقف ہے سوائے بطن محسّر کے۔
حدیث نمبر: 14418
١٤٤١٨ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الأعلى عن هشام عن نافع عن ابن عمر قال: جمع كلها موقف إلا بطن محسر] (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما ارشاد فرماتے ہیں کہ مزدلفہ بطن محسر کے علاوہ تمام کا تمام موقف (ٹھہرنے کی جگہ) ہے۔
حدیث نمبر: 14419
١٤٤١٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن سعيد عن ابن (جريج) (١) عن نافع قال: قلت له: أين كان ابن عمر يقف من جمع؟ قال: كان لا ينتهي يتخلص حتى يقف على قزح (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت نافع سے عرض کیا : حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما مزدلفہ میں کس مقام پر ٹھہرے تھے ؟ آپ نے فرمایا کہ وہ دوسروں سے جدا اور الگ نہیں ہوئے یہاں تک کہ وہ قزح پہاڑی پر ٹھہرے۔
حدیث نمبر: 14420
١٤٤٢٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا علي بن مسهر عن ابن (جريج) (١) قال: سألت عطاء أين منى؟ فقال: ما بين العقبة إلى محسر، فما (أحب) (٢) أن ينزل (أحد) (٣) إلا فيما بين العقبة إلى محسر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء سے دریافت کیا کہ منیٰ کہاں ہے ؟ آپ نے فرمایا : گھاٹی سے لے کر مقام محسّر تک منیٰ ہے، پس مجھے نہیں پسند کہ کوئی شخص اس جگہ کے علاوہ کہیں اور اترے۔
حدیث نمبر: 14421
١٤٤٢١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حميد بن عبد الرحمن عن حسين بن عِقيل عن الضحاك قال: قف خلف المشعر الحرام، فإن لم تقدر فإذا حاذيت به ذكرت اللَّه ودعوته فإنه قال (١): ﴿فَاذْكُرُوا اللَّهَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ﴾ [البقرة: ١٩٨].
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ضحاک فرماتے ہیں کہ مشعرالحرام کے پیچھے کھڑے ہو جاؤ، اگر اس پر قادر نہ ہو تو جب تم اس کے برابر آ جاؤ تو اللہ کا ذکر کرو اور اس سے دعا کرو بیشک اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ { فَاذْکُرُوا اللّٰہَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ }۔
حدیث نمبر: 14422
١٤٤٢٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حميد بن عبد الرحمن (عن) (١) (حسن) (٢) عن مغيرة عن إبراهيم قال: كانوا يستحبون أن يقفوا بالمزدلفة حيال الجبل.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام اس بات کو پسند کرتے تھے کہ مزدلفہ میں پہاڑ کے سامنے وقوف کیا جائے۔