کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر کوئی شخص حج میں بیمار ہو جائے تو اس کے ساتھ کیا کیا جائے ؟
١٤٣٦٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير بن عبد الحميد عن مغيرة عن إبراهيم قال: يشهد بالمريض المناسك كلها ويطاف به على محمل، فإذا رمى الجمار وضع في (كفه) (١) ثم رمى به من كفه.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ مریض کو تمام مناسک حج میں حاضر کیا جائے گا اور اس کو پالکی میں طواف کروایا جائے گا اور جب وہ رمی کرنے کا ارادہ کرے تو اس کی ہتھیلی پر پتھر رکھے جائیں گے پھر اس کی ہتھیلی سے کنکر اٹھا کر رمی کی جائے گی۔
١٤٣٦٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن ليث عن عطاء قال: يُرمي عنه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ اس کی طرف سے رمی کی جائے گی۔
١٤٣٦٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (معتمر) (١) عن ليث عن طاوس قال: المريض يُرمى عنه ويطاف عنه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاوؤس فرماتے ہیں کہ مریض کی طرف سے طواف کیا جائے گا اور رمی کی جائے گی۔
١٤٣٦٨ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو أسامة عن هشام عن الحسن وعطاء قالا (١): يرمى عنه] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حسن اور حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ اس کی طرف سے رمی کی جائے گی۔
١٤٣٦٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (وكيع) (١) عن عبد الجبار بن (ورد) (٢) قال: ⦗١٧٨⦘ أرسلني أبي إلى مجاهد وهو مريض أسأله عن رمي الجمار، قال: يرمي (عنه) (٣) (أولى) (٤) أهله به.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الجبار بن ورد فرماتے ہیں کہ میرے والد بیمار تھے انھوں نے مجھے حضرت مجاہد کے پاس جمرات کی رمی کے متعلق دریافت کرنے کے لیے بھیجا ؟ آپ نے فرمایا ان کی طرف سے جو گھر والوں میں سے قریبی ہے وہ رمی کرے۔
١٤٣٧٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا شريك (عن) (١) إبراهيم بن المهاجر عن عطاء قال: يستأجر المريض من يطوف عنه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ جو مریض کی طرف سے طواف کرے مریض اس کو اجرت دے۔
١٤٣٧١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن حنظلة قال: سئل طاوس عن امرأة مريضة قال: يرمي (عنها) (١) بعض أهلها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاؤس سے ایک مریضہ خاتون کے بارے میں دریافت کیا گیا ؟ آپ نے فرمایا : اس کی طر ف سے اس کے گھر والوں میں سے کوئی ایک رمی کرے۔