کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ جب جمرات کی رمی کرے تو وہ پیدل چلے
حدیث نمبر: 14256
١٤٢٥٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (حفص) (١) بن غياث عن جعفر عن أبيه أن النبي ﷺ وأبا بكر وعمر كانوا يمشون إلى الجمار (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جعفر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، حضرت ابوبکر اور حضرت عمر جمرات کی طرف پیدل چل کر جاتے تھے اور علی رضی اللہ عنہ بن حسین بھی جمرات کی طرف پیدل چل جاتے تھے۔
حدیث نمبر: 14257
١٤٢٥٧ - قال: وكان علي بن حسين يمشي إليها.
حدیث نمبر: 14258
١٤٢٥٨ - حدثنا أبو بكر قال: (حدثنا) (١) أبو خالد (الأحمر) (٢) عن ابن جريج عن نافع عن ابن عمر: أنه كان يمشي إليها مقبلًا ومدبرًا (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما پیدل چلتے ہوئے جمرہ کی طرف آتے ہوئے اور جاتے ہوئے رمی کرتے۔
حدیث نمبر: 14259
١٤٢٥٩ - حدثنا أبو بكر (قال) (١): حدثنا أبو (خالد) (٢) عن ابن جريج عن (٣) عطاء، قال: أدركت الناس يمشون (إليها) (٤) مقبلين ومدبرين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ میں نے لوگوں کو پایا وہ رمی کرتے تھے پیدل چلتے ہوئے آتے اور جاتے ہوئے۔
حدیث نمبر: 14260
١٤٢٦٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن محمد بن المنكدر قال: رأيت ابن الزبير (يرمي) (١) الجمار ماشيًا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن المنکدر فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن زبیر کو پیدل چلتے ہوئے رمی کرتے ہوئے دیکھا۔
حدیث نمبر: 14261
١٤٢٦١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (معن) (١) بن عيسى (عن) (٢) عبيدة ابنة (نابل) (٣) قالت: رأيت عائشة بنت سعد ترمي الجمار وهي ماشية.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبیدہ فرماتی ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بنت سعد کو دیکھا وہ پیدل چلتی ہوئی رمی کر رہی تھیں۔
حدیث نمبر: 14262
١٤٢٦٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن نمير عن عبيد اللَّه بن (عمر) (١) عن نافع عن ابن عمر أنه (كان) (٢) يرمي الجمار ماشيًا ذاهبًا (و) (٣) راجعًا (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما پیدل چلتے ہوئے آتے ہوئے اور جاتے ہوئے رمی کرتے۔
حدیث نمبر: 14263
١٤٢٦٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو خالد الأحمر عن ابن جريج عن عطاء قال: لم يكن يوجب المشي إليها، وكان يقول: ولِمَ يركب وهو صحيح.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ جمرات کی طرف پیدل چلتے ہوئے رمی کرنے کو ضروری نہیں کیا گیا اور فرماتے تھے کہ صحیح ہونے کی حالت میں سوار نہ ہونا چاہیے۔
حدیث نمبر: 14264
١٤٢٦٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن نمير عن إبراهيم (بن) (١) نافع عن عطاء (عن) (٢) جابر: أنه كان لا يركب إلى الجمار إلا من ضرورة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر جمرات کی رمی کرتے ہوئے سوار نہ ہوئے سوائے کسی ضرورت کے۔
حدیث نمبر: 14265
١٤٢٦٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سعيد بن السائب عن محمد بن السائب عن أبيه قال: رأيت عمر بن الخطاب رأى رجلًا يقول بامرأته على (بعير ترمي) (١) الجمرة قال: فعلاها بالدرة إنكارًا لركوبها (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ اپنی بیوی کے ساتھ اونٹ پر سوار جمرہ کی رمی کر رہا ہے، آپ نے اس کے سوار ہونے کو ناپسند کرتے ہوئے ان پر کوڑے کو بلند فرمایا۔