حدیث نمبر: 14115
١٤١١٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن منصور عن كلاب بن (علي) (١) عن منصور بن أبي سليمان عن ابن أخي جبير بن مطعم عن جبير بن مطعم قال: قام رسول اللَّه ﷺ على المروة (و) (٢) بيده (مشقص) (٣) يقصر به (من شعره) (٤) وهو يقول: "دخلت العمرة في الحج (٥) إلى يوم القيامة، لا صرورة في الإسلام"، (قال) (٦): " (ثجوا) (٧) الإبل (ثجًا) (٨) (وعجُّوا) (٩) بالتكبير عجا" (١٠).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جبیر بن مطعم سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مروہ پر کھڑے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دست مبارک میں نیزے کا پھل تھا جس سے آپ نے اپنے بال تھوڑے تھوڑے کاٹے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ ارشاد فرما رہے تھے : میں نے قیامت کے دن تک کے لیے عمرہ کے احکام کو حج کے احکام میں داخل کردیا ہے اسلام میں صرورہ (کنوار پن یا غیر حاجی شخص) نہیں ہے اور اونٹ کا خون بہایا جائے گا قربانی کرتے وقت اور تلبیہ اونچی آواز سے پڑھو۔
حدیث نمبر: 14116
١٤١١٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن سعيد عن ابن (جريج) (١) عن عطاء قال: أحل أصحاب النبي ﷺ وقصروا، ولم (يحلقوا) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں صحابہ کرام نے اپنا احرام کھول دیا قصر کروا کر اور انہوں نے حلق نہ کروایا۔
حدیث نمبر: 14117
١٤١١٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص بن غياث [عن هشام (بن) (١)] (٢) عروة قال: كنت أحج مع أبي (وأعتمر) (٣) ولي (جمة) (٤) إلى منكبي، فما أمرني بحلقها قط، فكنت أقصر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد محترم کے ساتھ حج اور عمرہ کیا میرے بال کندھوں تک تھے میں نے تھوڑے تھوڑے بال کاٹے لیکن آپ نے مجھے حلق کروانے کا حکم نہ دیا۔
حدیث نمبر: 14118
١٤١١٨ - حدثنا أبو بكر (١) قال: حدثنا جرير عن مغيرة عن إبراهيم قال: إذا حج الرجل (أول) (٢) حجة حلق (فإن حج) (٣) مرة أخرى إن شاء حلق وإن شاء قصر والحلق أفضل، وإن اعتمر الرجل ولم يحج قط فإن شاء حلق وإن شاء قصر، فإن كان متمتعا قصرّ ثم حلق.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ جب کوئی شخص پہلا حج کرے تو اس کو چاہئے کہ بالوں کو حلق کروائے، پھر اگر وہ دوسری بار حج کرے تو چاہے حلق کروائے یا قصر لیکن حلق کروانا افضل ہے اور اگر کوئی شخص عمرہ کرے لیکن اس نے پہلے حج نہ کیا ہوا ہو تو اگر وہ چاہے تو حلق کروا لے اگر چاہے تو قصر کروا لے اور اگر وہ تمتع کرے تو قصر کروائے پھر حلق کروائے۔
حدیث نمبر: 14119
١٤١١٩ - حدثنا أبو بكر قال: (حدثنا) (١) عبد الوهاب (عن) (٢) (حبيب) (٣) المعلم (عن عطاء) (٤) سئل عن الصرورة أيحلق أو يقصَّر؟ قال: (أي) (٥) ذلك (شاء) (٦) إن شاء حلق وإن شاء قصر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء سے دریافت کیا گیا کہ پہلا حج کرنے والا شخص حلق کروائے یا قصر ؟ آپ نے فرمایا اس کی مرضی ہے، چاہے تو حلق کروائے چاہے تو قصر کروائے۔
حدیث نمبر: 14120
١٤١٢٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الأعلى عن هشام عن الحسن في الذي لم يحج قط: إن شاء حلق وإن شاء قصر.
مولانا محمد اویس سرور
حسن اس شخص کے متعلق فرماتے ہیں کہ جس نے پہلے حج نہ کیا ہو کہ اگر وہ چاہے تو حلق کروا لے اور اگر وہ چاہے تو قصر کروا لے۔
حدیث نمبر: 14121
١٤١٢١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن أبي عدي عن أشعث عن محمد أن علقمة والأسود حجا أو حج أحدهما أو اعتمر الآخر فحلق أحدهما وقصر (الآخر) (١).
مولانا محمد اویس سرور
محمد فرماتے ہیں کہ حضرت علقمہ اور حضرت اسود نے حج کیا، یا ایک نے ان میں سے حج کیا اور دوسرے نے عمرہ کیا، تو ان میں سے ایک نے حلق کروایا اور دوسرے نے قصر کروایا۔
حدیث نمبر: 14122
١٤١٢٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا غندر عن شعبة عن منصور عن إبراهيم قال: كانوا يحبون أن يحلقوا في أول حجة وأول عمرة.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام اس بات کو پسند فرماتے تھے کہ پہلے حج اور پہلے عمرہ میں حلق کروائیں۔