کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ حاجی کا آخری عمل بیت اللہ کا طواف ہونا چاہئے
١٤١١٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا سفيان بن عيينة عن سليمان بن أبي مسلم عن طاوس قال بعض أصحابنا: هو عن ابن عباس قال: كان الناس (ينصرفون) (١) ⦗١١٦⦘ كل وجه فقال رسول اللَّه ﷺ: "لا ينفر أحد حتى يكون آخر عهده بالبيت" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ لوگ حج کر کے جس طرح چاہتے تھے چلے جاتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کوئی شخص بھی واپس نہ جائے جب تک کہ اس کا آخری عمل بیت اللہ کا طواف نہ ہو۔
١٤١١١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن ليث عن طاوس وعطاء أن عمر كان يرد من خرج ولم يكن آخر عهده بالبيت (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر اس شخص کو واپس بھیج دیتے جس کا آخری عمل بیت اللہ کا طواف نہ ہوتا۔
١٤١١٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (أبو خالد الأحمر عن عبيد اللَّه عن نافع عن ابن عمر) (١) (عن عمر) (٢) قال: لا ينفر أحد (٣) حتى (يطوف) (٤) بالبيت، فإن آخر النسك الطواف بالبيت (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر ارشاد فرماتے ہیں کہ جب تک کوئی شخص طواف نہ کرلے وہ واپس نہ جائے، بیشک حج کا آخری عمل طواف ہونا چاہئے۔
١٤١١٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا سفيان بن عيينة عن ابن طاوس عن أبيه عن ابن عباس قال: أمر الناس أن يكون آخر عهدهم بالبيت وخفف عن الحيّض (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ لوگوں کو حکم دیا گیا کہ ان کا آخری عمل بیت اللہ کا طواف ہو اور حیض والی عورتوں سے یہ حکم ہلکا کردیا گیا ہے (ان کے لیے اس میں تخفیف کردی گئی ہے) ۔
١٤١١٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا سفيان بن عيينة عن ابن أبي نجيح عن طاوس قال: كانوا ينفرون من (منى) (١) فقيل لهم: يكون آخر عهدكم بالبيت ورخص (للحيّض) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاؤس فرماتے ہیں کہ حاجی حضرات منیٰ سے ہی واپس لوٹ جایا کرتے تھے، ان کو حکم دیا گیا کہ ان کا آخری عمل بیت اللہ کا طواف ہو، لیکن حیض والی عورتوں کے لیے اس میں تخفیف کردی گئی۔