کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: جس شخص کو غلاف کعبہ کی خوشبو لگ جائے تو وہ کیا کرے؟
حدیث نمبر: 14014
١٤٠١٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص بن غياث عن حجاج قال: سألت عطاء عن الرجل يصيبه (من طيب) (١) الكعبة، فقال: لا يضره.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء سے دریافت کیا گیا کہ اگر کسی شخص کو غلاف کعبہ کی خوشبو لگ جائے ؟ آپ نے فرمایا اس کو کوئی نقصان نہیں دے گی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 14014
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 14014، ترقيم محمد عوامة 13687)
حدیث نمبر: 14015
١٤٠١٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا مروان بن معاوية عن صالح بن حيان قال: رأيت أنس بن مالك أصاب ثوبه من خلوق الكعبة وهو محرم. فلم يغسله (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت صالح بن حیان فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو حالت احرام میں دیکھا آپ کے کپڑوں کو غلاف کعبہ کی خوشبو لگی ہوئی تھی لیکن آپ نے اس کو دھویا نہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 14015
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف صالح بن حيان.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 14015، ترقيم محمد عوامة 13688)
حدیث نمبر: 14016
١٤٠١٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا شريك عن جابر عن أبي جعفر قال: رأيت ابن عمر خارجًا من الكعبة وقد تلطخ صدره من طيبها (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو جعفر فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا آپ کعبہ سے نکلے تو آپ کا سینہ اس کی خوشبو میں لت پت تھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 14016
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لحال جابر.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 14016، ترقيم محمد عوامة 13689)
حدیث نمبر: 14017
١٤٠١٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو معاوية عن حجاج قال: رأيت في ثوب عمرو بن شعيب ردعًا من خلوق الكعبة، فقلت له: (ما) (١) هذا في ثوبك وأنت محرم؟ فقال: إن هذا لا يكره هاهنا، إنما (سميت بكة) (٢) لأن الناس (يتباكون) (٣) بها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حجاج فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمرو بن شعیب کے کپڑوں کو کعبہ کی خوشبو میں لت پت دیکھا، میں نے ان سے عرض کیا : یہ آپ کے کپڑوں میں لگا ہوا ہے حالانکہ آپ حالت احرام میں ہیں ؟ آپ نے فرمایا یہ چیزیں یہاں پر ناپسندیدہ اور مکروہ نہیں ہیں بیشک اس کا نام (مکہ) بکہ رکھا گیا تھا کیونکہ یہاں پر لوگ ایک دوسرے کو دھکا دیتے ہیں اور دھکم پیل ہوتی ہے، (جس کی وجہ سے یہ خوشبو وغیرہ کپڑوں کو لگ جاتی ہے) ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 14017
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 14017، ترقيم محمد عوامة 13690)