کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: حج قران کرنے والا اگر بیوی سے شرعی ملاقات کر لے تو اس پر کیا لازم ہے؟
حدیث نمبر: 13864
١٣٨٦٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن فضيل عن ليث عن مجاهد في الرجل يكون محرما بحجة وعمرة وامرأته محرمة بحجة وعمرة فيقع عليها، قال: يمضيان (لحجهما) (١) وعمرتهما ويهريق كل واحد منهما دمًا، وعليهما العمرة والحج من قابل، ولا يمران بالمكان الذي أصابا فيه ما أصابا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد سے دریافت کیا گیا کہ کوئی شخص حج اور عمرے کا احرام باندھے اور اس کی بیوی بھی حج و عمرے کا احرام باندھے اور پھر وہ آپس میں شرعی ملاقات کرلیں، آپ نے فرمایا : وہ دونوں اپنے حج و عمرے کو جاری رکھیں اور ہر ایک پر قربانی لازم ہے اور آئندہ سال حج وعمرہ کی قضاء لازم ہے اور آئندہ سال اس جگہ سے نہ گزریں جہاں یہ واقعہ پیش آیا تھا۔
حدیث نمبر: 13865
١٣٨٦٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا سهل بن يوسف عن عمرو عن الحسن في الذي يقع بأهله وقد أهل بهما، قال: عليه بدنتان.
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے دریافت کیا گیا کہ کوئی شخص حج وعمرہ کا احرام باندھے ہو اور وہ بیوی سے شرعی ملاقات کرلے ؟ آپ نے فرمایا : اس پر دو قربانیاں ہیں۔
حدیث نمبر: 13866
١٣٨٦٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (حفص) (١) بن غياث عن ابن جريج عن عطاء قال: القارن (وغير القارن) (٢) سواء في جزاء الصيد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ حج قران کرنے والا ہو یا قران کرنے والا نہ ہو شکار کی جزاء میں وہ دونوں برابر ہیں۔