کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: کسی شخص نے خود پہلے حج نہ کیا ہو لیکن وہ دوسرے شخص کی طرف سے حج ادا کرے
١٣٨٥٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو معاوية عن ابن أبي ليلى عن عطاء قال: سمع النبي ﷺ رجلًا يقول: لبيك عن شبرمة، فقال: "إن كنت حججت (فلبِّ) (١) عن شبرمة، وإلا (فلبِّ) (٢) عن نفسك" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سنا ایک شخص نے شبرمہ کی طرف سے تلبیہ پڑھ رہا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر تو نے پہلے حج کیا ہوا ہے تو پھر شبرمہ کی طرف سے تلبیہ پڑھ وگرنہ اپنی طرف سے ہی تلبیہ پڑھ۔
١٣٨٥٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن (بشر) (١) قال: حدثنا سعيد عن قتادة عن سعيد بن جبير عن ابن عباس عن النبي ﷺ بنحوه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اسی طرح مروی ہے۔
١٣٨٥٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الوهاب الثقفي عن أيوب عن أبي قلابة أن ابن عباس سمع رجلًا يقول: لبيك عن شبرمة، (فقال) (١): ويحك وما شبرمة؟ فذو رجلًا بينه و (بينه قرابة) (٢)، قال: حججت (٣) قط؟ قال: لا، قال: فاجعل هذه عنك (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے سنا ایک شخص شبرمہ کی طرف سے تلبیہ کہہ رہا تھا آپ نے فرمایا : تیرا ناس ہو یہ شبرمہ کون ہے ؟ تو اس شخص نے اپنے اور اس کے درمیان قرابت کو ذکر کیا، آپ نے دریافت فرمایا : تو نے پہلے حج کیا ہوا ہے ؟ اس شخص نے عرض کیا کہ نہیں آپ فرمایا پھر اس حج کو اپنی طرف سے ہی ادا کر۔
١٣٨٥٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا حميد بن الأسود عن جعفر عن أبيه أن عليًّا كان لا يرى بأسًا أن يحج (الصرورة) (١) عن الرجل (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے کہ ایک شخص نے پہلے خود حج تو نہ کیا ہو لیکن وہ کسی کے لیے حج کرے۔
١٣٨٦٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن عمر بن (ذر) (١) عن مجاهد في الرجل يحج عن الرجل ولم يكن حج قط، قال: يجزئ عنه (و) (٢) عن صاحبه الأول.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد سے دریافت کیا گیا کہ ایک شخص نے خود حج نہیں کیا ہوا تو کیا وہ دوسرے شخص کے لیے کرسکتا ہے ؟ آپ نے فرمایا یہ حج اس کے اور اس کے ساتھی کی طرف سے کافی ہوجائے گا۔
١٣٨٦٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون عن هشام عن الحسن أنه كان لا يرى بأسًا أن يحج (الصرورة) (١) عن الرجل.
مولانا محمد اویس سرور
حسن اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے کہ ایک شخص نے پہلے خود حج تو نہ کیا ہو لیکن وہ کسی کے لیے حج کرے۔
١٣٨٦٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن داود (عن) (١) سعيد ابن المسيب قال: إن اللَّه (تعالى) (٢) لواسع لهما جميعًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن المسیب فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس ایک حج کو ہی دونوں کی طرف سے وسیع فرما دے گا (اور دونوں کی طرف سے قبول کرے گا) ۔