حدیث نمبر: 13847
١٣٨٤٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الوهاب الثقفي عن أيوب عن عكرمة قال: كانت هذه الآية نزلت: ﴿لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ﴾ [البقرة: ١٩٨]، قال: في مواسم الحج.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ قرآن پاک کی آیت { لَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَبْتَغُوْا فَضْلاً مِّنْ رَّبِّکُمْ } حج کے زمانے کے متعلق نازل ہوئی ہے۔
حدیث نمبر: 13848
١٣٨٤٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا سفيان بن عيينة عن عمرو عن ابن عباس (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبید اللہ بن ابو یزید اور حضرت ابن الزبیر سے بھی یہی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 13849
١٣٨٤٩ - وعن (عبيد) (١) اللَّه بن أبي (يزيد) (٢) (عن ابن الزبير) (٣): ﴿لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ﴾ (قالا) (٤): (في مواسم الحج) (٥) (٦).
حدیث نمبر: 13850
١٣٨٥٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا غندر عن شعبة عن أبي (أميمة) (١) (أنه) (٢) سأل ابن عمر عن الرجل يحج ويحمل معه تجارة، فقال ابن عمر: لا بأس به، وتلا ⦗٥٠⦘ هذه الآية: ﴿يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِنْ رَبِّهِمْ وَرِضْوَانًا﴾ [المائدة: ٢] (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا گیا کہ کوئی شخص حج کے لیے جائے اور ساتھ سامان تجارت لے جائے ؟ آپ نے فرمایا کوئی حرج نہیں پھر یہ آیت تلاوت فرمائی، { یَبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنْ رَّبِّھِمْ وَ رِضْوَانًا }۔ وہ اللہ تعالیٰ کے فضل اور رضوان کو تلاش کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 13851
١٣٨٥١ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا غندر عن (أشعث) (١) عن الحسن أنه كان لا يرى بأسًا أن يحج الرجل ومعه تجارة.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ اس میں کوئی حرج نہیں کہ حاجی انپے ساتھ سامان تجارت رکھے، اور محمد فرماتے ہیں کہ بیشک اللہ تعالیٰ اس بات پر قادر ہے کہ اس شخص کے لیے (حج اور تجارت) دونوں کو جمع کر دے۔
حدیث نمبر: 13852
١٣٨٥٢ - قال: وقال محمد: إن اللَّه قادر على أن يجمعهما له جميعًا] (١).
حدیث نمبر: 13853
١٣٨٥٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن عمر بن ذر عن مجاهد قال: كانوا لا يتجرون حتى نزلت: ﴿لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ﴾ (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام دوران حج تجارت نہ کرتے تھے، یہاں تک کہ قرآن پاک کی آیت { لَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَبْتَغُوْا فَضْلاً مِّنْ رَّبِّکُمْ } نازل ہوئی (تو تجارت شروع کردی) ۔
حدیث نمبر: 13854
١٣٨٥٤ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن فضيل عن يزيد عن مجاهد عن ابن عباس ﴿لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ﴾] (١) قال: (كانوا) (٢) لا يبيعون ولا يشترون في أيام منى، فأنزل اللَّه تعالى ﴿لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ﴾] (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں صحابہ کرام ایام حج میں خریدو فروخت نہ کرتے تھے، یہاں تک کہ قرآن پاک کی آیت { لَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَبْتَغُوْا فَضْلاً مِّنْ رَّبِّکُمْ } نازل ہوئی تو خریدو فروخت شروع کردی۔
حدیث نمبر: 13855
١٣٨٥٥ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا شبابة عن ورقاء عن ابن (أبي) (١) ⦗٥١⦘ (نجيح) (٢) عن مجاهد (قال) (٣): ﴿لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ﴾] (٤) التجارة في (المواسم) (٥) أحلت لهم، كانوا لا (يتبايعون) (٦) في الجاهلية بعرفة ولا (منى) (٧) (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ { لَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَبْتَغُوْا فَضْلاً مِّنْ رَّبِّکُمْ } نازل ہوئی تو حج کے زمانے میں ان کے لیے تجارت حلال کردی گئی، کیونکہ زمانہ جاہلیت میں منیٰ اور عرفات میں خریدو فروخت نہ کرتے تھے۔