حدیث نمبر: 13750
١٣٧٥٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا سفيان بن عيينة عن أيوب بن موسى عن (نبيه) (١) بن وهب عن أبان بن عثمان أنه أخبره أن عثمان حدث عن رسول اللَّه ﷺ في الرجل إذا اشتكى (عينيه) (٢) وهو محرم (ضمدهما) (٣) بالصبر (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عثمان سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک شخص نے شکایت کی کہ وہ محرم ہے اور اس کی آنکھوں میں تکلیف ہے، اس کی آنکھوں پر ایلوے کی پٹی باندھی۔
حدیث نمبر: 13751
١٣٧٥١ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (سفيان) (١) بن عيينة عن (أيوب بن موسى عن) (٢) نافع عن (ابن عمر) (٣) أنه فعله] (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع سے مروی ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس طرح کیا۔
حدیث نمبر: 13752
١٣٧٥٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبدة بن سليمان ووكيع عن ابن أبي ليلى عن نافع عن بن عمر أنه كان إذا اشتكى (عينه) (١) وهو محرم أقطر فيها الصبر إقطارًا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی آنکھ میں حالت احرام میں تکلیف ہوئی تو آپ نے اس میں ایلوے کے عرق کے کچھ قطرے ڈالے۔
حدیث نمبر: 13753
١٣٧٥٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن إسرائيل وعبد الرحمن بن مهدي عن شعبة كلاهما عن جابر عن عامر عن علقمة قال: لا بأس أن يكتحل المحرم بالصبر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علقمہ فرماتے ہیں حالت احرام میں آنکھوں میں ایلوے کا عرق لگانے میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 13754
١٣٧٥٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (أبو سامة) (١) عن هشام عن (شميسة) (٢) الأزدية (قالت) (٣): دخلت على عائشة وأنا محرمة وأنا أشتكي عيني، فقالت: هلمي (أيحلك) (٤) ومعها محارة فيها صج، (فأبيت) (٥) عليها (فندمت) (٦) بعد (ألا) (٧) أكون تركتها (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شمیسہ الازدیہ فرماتی ہیں کہ میں حالت احرام میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئی میری آنکھوں میں تکلیف تھی، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : قریب آؤ تمہاری آنکھوں میں سرمہ (دوائی) لگاؤں ان کے پاس ایک سپی نما خول تھا جس میں ایلوا موجود تھا، میں نے ان کی بات نہ مانی اور انکار کردیا پھر بعد میں مجھے سخت ندامت ہوئی کہ کاش میں اس کو نہ چھوڑتی (اور لگوا لیتی) ۔
حدیث نمبر: 13755
١٣٧٥٥ - (حدثنا أبو بكر قال) (١): حدثنا أبو معاوية عن هلال بن أبي (ميمون) (٢) عن سعيد بن المسيب قال: لا بأس به.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن المسیب فرماتے ہیں کہ اس کے لگانے میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 13756
١٣٧٥٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن هشام بن (الغاز) (١) عن عطاء قال: إذا اشتكى المحرم عينيه (فليكحلهما) (٢) بالصبر والحضض ولا يكتحل (بكحل) (٣) فيه طيب.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ اگر محرم کی آنکھوں میں تکلیف ہو تو وہ ایلوا یا کوئی دوسری دوائی آنکھوں میں لگا لے لیکن ایسا سرمہ نہ لگائے جس میں خوشبو کی آمیزش ہو۔
حدیث نمبر: 13757
١٣٧٥٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (١) غسان بن مضر عن سعيد بن (يزيد) (٢) قال: جاء رجل إلى الحسن، فقال: يا أبا سعيد (بم) (٣) يكتحل المحرم؟ -وجابر بن زيد إلى جنبه- قال: فسكت الحسن وقال جابر: يكتحل بالعسل، فلم ينكر ذلك الحسن.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن زید سے مروی ہے کہ ایک شخص حسن کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا، اے ابو سعید ! محرم آنکھوں میں کیا لگائے ؟ حضرت جابر بن زید بھی ان کے ساتھ تشریف فرما تھے، حسن خاموش رہے، حضرت جابر نے فرمایا نے فرمایا وہ شہد لگائے، حسن نے آپ کی اس بات کا انکار نہ فرمایا۔
حدیث نمبر: 13758
١٣٧٥٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن يزيد عن أبي العلاء، عن قتادة وأبي هاشم قالا: يكتحل بالصبر والحضض و (المر) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قتادہ اور حضرت ابو ہاشم فرماتے ہیں کہ محرم ایلوا، حضض نامی دوائی اور دوسری کڑوی دوائی آنکھوں میں لگا سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 13759
١٣٧٥٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا غندر عن شعبة عن منصور عن مجاهد أنه كان يكره الكحل الأسود للمحرم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد محرم کے لیے کالے سرمہ کو ناپسند کرتے تھے، راوی کہتے ہیں کہ میں نے ابراہیم سے اس کا ذکر فرمایا آپ نے فرمایا : وہ لال سفوف استعمال کرلے۔
حدیث نمبر: 13760
١٣٧٦٠ - قال: (فذكرت) (١) ذلك لإبراهيم (فقال) (٢): يكتحل (بالذرور) (٣) الأحمر.