کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جب دوران طواف حجر اسود کے برابر ہو تو اس کی طرف دیکھے اور تکبیر کہے
حدیث نمبر: 13624
١٣٦٢٤ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا أبو الأحوص عن أبي (يعفور) (١) قال: خطبنا رجل من خزاعة كان أميرا على (الحاج) (٢) بمكة، فقال: (يا) (٣) أيها الناس إن عمر كان رجلًا شديدًا، وإن رسول اللَّه ﷺ قال له: "يا عمر إنك رجل شديد (تؤذي) (٤) الضعيف فإذا طفت بالبيت (فرأيت) (٥) من الحجر خلوة فادْنُ منه وإلا (فَكَبرْ) (٦) وهلل وامض" (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو یعفور فرماتے ہیں کہ خزاعہ کے ایک شخص نے جو حاجیوں پر امیر تھا ہمیں مکہ میں خطبہ دیا اور فرمایا : اے لوگو ! حضرت عمر بڑے طاقور اور مضبوط جسم کے مالک تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا : اے عمر تو قوی شخص ہے، تو کمزور کو تکلیف پہنچاتا ہے، جب تو بیت اللہ کا طواف کرے اور حجر اسود کو خالی دیکھے تو اس کے قریب ہوجا (اور اگر رش ہو تو) تکبیر وتہلیل کہہ کر گذر جا۔
حدیث نمبر: 13625
١٣٦٢٥ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا ابن فضيل عن حجاج عن عطاء عن ابن عباس قال: إذا حاذيت به، فكبر وادع وصل على النبي ﷺ (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما ارشاد فرماتے ہیں کہ جب حجر اسود کے برابر آ جاؤ تو تکبیر کہو اور دعا کرو اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجو۔
حدیث نمبر: 13626
١٣٦٢٦ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا حفص عن عاصم قال: رأيت أنس بن مالك يطوف بالبيت حتى إذا حاذى بالحجر نظر إليه (أو) (١) التفت إليه، فكبر نحوه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عاصم فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت انس کو طواف کرتے ہوئے دیکھا جب آپ حجر اسود کے برابر آتے تو اس کی طرف متوجہ ہوتے اور تکبیر پڑھتے۔
حدیث نمبر: 13627
١٣٦٢٧ - حدثنا أبو بكر (قال: ثنا) (١) ابن فضيل عن عاصم قال: رأيت أنسًا يستقبل الأركان بالتكبير (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عاصم فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت انس کو ارکان کا استقبال (استلام) تکبیر کے ساتھ کرتے ہوئے دیکھا۔
حدیث نمبر: 13628
١٣٦٢٨ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا عبدة بن سليمان (عن) (١) هشام بن عروة قال: كان أبي إذا غلب استقبله وكبر (ومضى) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام فرماتے ہیں کہ میرے والد محترم حضرت عروہ جب ازد حام دیکھتے تو حجر اسود کے سامنے آ کر تکبیر کہتے اور گذر جاتے۔
حدیث نمبر: 13629
١٣٦٢٩ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا ابن فضيل عن عبد الملك قال رأيت سعيد بن جبير حين استفتح الطواف استقبل الحجر ولم (يمسه) (١)، ورفع يديه وكبر
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الملک فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن جبیر کو دیکھا کہ آپ نے طواف کی ابتداء حجر اسود کے سامنے آ کر کی لیکن اس کو ہاتھ نہ لگایا تکبیر کہی اور ہاتھوں کو بلند کیا، راوی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء سے دریافت کیا ؟ آپ نے فرمایا : تکبیر کہو اور تکبیر کہتے وقت ہاتھوں کو نہ اٹھاؤ۔
حدیث نمبر: 13630
١٣٦٣٠ - فسألت عطاء فقال: كبر ولا ترفع يديك بالتكبير.
حدیث نمبر: 13631
١٣٦٣١ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا وكيع عن محمد بن (برجان) (١) قال: رأيت مجاهدًا إذا مر بالحجر نظر إليه فكبر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن برجان فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت مجاہد کو طواف کرتے ہوئے دیکھا، جب آپ حجر اسود کے پاس سے گذرتے تو اس کی طرف دیکھ کر تکبیر پڑھتے۔