حدیث نمبر: 13602
١٣٦٠٢ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا هشيم عن أبي بشر عن جابر بن زيد قال: سألته عن القملة (أجدها) (١) على وجهي وأنا محرم، قال: ألقها عن وجهك (فليس) (٢) لها فيه نصيب.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو بشر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر بن زید سے دریافت کیا کہ میں نے حالت احرام میں چہرے پر جوں پائی ہے ؟ آپ نے فرمایا اس کو پھینک دے اس میں تیرے لیے کوئی حصہ نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 13603
١٣٦٠٣ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا حفص عن التيمي عن أبي (مجلز) (١) قال: جاءت امرأة إلى ابن عمر، فسألته، (فقالت) (٢): إني وجدت قملة (فألقيها أو قتلتها) (٣) قال: ما القملة من الصيد (٤).
مولانا محمد اویس سرور
ایک عورت حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آئی اور عرض کیا کہ اگر میں جوں پاؤں تو اس کو پھینک دوں یا مار دوں ؟ آپ نے فرمایا : جوں شکار میں سے نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 13604
١٣٦٠٤ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا أبو الأحوص عن (العلاء) (١) بن المسيب قال: قال رجل لعطاء: أطرح القملة تدب علي؟ قال: نعم، (قال) (٢): (فأتقمل؟) (٣) ⦗٥٣٠⦘ قال: يكره أن (تقمل) (٤) ثيابك وأنت محرم، قال: قلت: القراد والقملة تدبّ عليّ، قال: انبذ عنك ما ليس منك.
مولانا محمد اویس سرور
ایک شخص نے حضرت عطاء سے دریافت کیا کہ جوں میرے اوپر رینگے تو اس کو پھینک دوں ؟ آپ نے فرمایا : ہاں، اس شخص نے عرض کیا : میں جو ؤں کو ڈھونڈ کر مار دوں ؟ آپ نے فرمایا کہ حالت احرام میں کپڑوں سے جو ؤں کو ڈھونڈ کر مارنے کو ناپسند کیا گیا ہے، راوی کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ چچڑی اور جوں اگر میرے اوپر رینگے تو کیا کروں ؟ آپ نے فرمایا اس کو پھینک کر دور کر دے تجھ پر کوئی جرمانہ نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 13605
١٣٦٠٥ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا ابن علية عن عيينة بن عبد الرحمن قال: سئل عكرمة بن خالد المخزومي (عن المحرم) (١) يرى القملة في ثوبه، قال: يأخذها أخذا (رفيقًا) (٢) (ويضعها) (٣) على الأرض ولا (يتفلى) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ بن خالد المخزومی سے دریافت کیا گیا کہ اگر محرم کپڑوں پر جو ؤیں دیکھے تو ؟ آپ نے فرمایا : اس کو آرام سے پکڑ کر پھینک دے لیکن خود جو ؤیں تلاش نہ کرے۔
حدیث نمبر: 13606
١٣٦٠٦ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا وكيع عن هشام بن الغاز عن عطاء، قال: يلقي المحرم عنه القملة إن شاء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ اگر محرم چاہے تو اپنے اوپر سے جوں پھینک دے۔
حدیث نمبر: 13607
١٣٦٠٧ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا معتمر بن سليمان عن أبيه قال: علق (بي) (١) قراد وأنا محرم، فقلت (لطلق) (٢) بن حبيب، فقال: اطرحه، (أبعد) (٣) اللَّه القراد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت معتمر کے والد فرماتے ہیں کہ میری ساتھ چیچڑی چمٹ گئی میں حالت احرام میں تھا، میں نے حضرت طلق بن حبیب سے دریافت کیا ؟ آپ نے فرمایا اس کو پھینک دے اللہ تعالیٰ چچڑی کو تجھ سے دور کرے۔