کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: کوئی شخص حالت احرام میں بیوی سے شرعی ملاقات کر لے
حدیث نمبر: 13546
١٣٥٤٦ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا ابن عيينة عن يزيد (بن) (١) يزيد بن جابر قال: سألت (مجاهدًا) (٢) عن المحرم يواقع امرأته، فقال: كان ذلك على عهد عمر بن الخطاب، فقال: يقضيان حجهما، واللَّه أعلم بحجهما، (ثم) (٣) يرجعان حلالا كل واحد منهما لصاحبه، فإذا كان من قابل حجا (وأهديا) (٤) (وتفرقا) (٥) من المكان الذي (أصابها) (٦) (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یزید بن یزید بن جابر فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت مجاہد سے اس شخص کے متعلق دریافت کیا جو حالت احرام میں بیوی سے شرعی ملاقات کرلے ؟ آپ نے فرمایا کہ حضرت عمر بن خطاب کے دور میں بھی ایسا ہوا تھا، آپ نے فرمایا تھا وہ دونوں حج کی قضاء کریں گے اللہ تعالیٰ ہی ان دونوں کے حج کو زیادہ جانتا ہے پھر وہ دونوں احرام کھول کر واپس لوٹ جائیں گے، ان میں سے ہر ایک دوسرے کے لیے حلال ہونے کا سبب ہے، جب اگلا سال آئے تو وہ دونوں حج کریں اور قربانی کریں اور جس جگہ یہ معاملہ پیش آیا تھا اس جگہ دونوں علیحدہ علیحدہ ہوجائیں (اور اپنا حج مکمل کریں) ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 13546
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 13546، ترقيم محمد عوامة 13244)
حدیث نمبر: 13547
١٣٥٤٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو بكر بن عياش عن عبد العزيز بن ⦗٥١٧⦘ (رفيع) (١) عن عبد اللَّه بن وهبان عن ابن عباس قال: جاء (رجل) (٢) إلى ابن عباس، فقال: إني وقعت على امرأتي وأنا محرم، فقال: اللَّه أعلم (بحجكما) (٣)، امضيا لوجهكما، وعليكما الحج من قابل، فإذا انتهيت إلى المكان الذي واقعت فيه، فتفرقا، ثم لا تجتمعا حتى تقضيا حجكما (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس ایک شخص آیا او عرض کیا کہ میں نے حالت احرام میں اپنی بیوی سے شرعی ملاقات کرلی ہے ؟ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ ہی تمہارے حج کو زیادہ جانتا ہے تم دونوں واپس چلے جاؤ اور تم پر آئندہ سال حج کرنا ہے، پھر جب آئندہ سال تم اس جگہ پر پہنچ جاؤ جہاں پر تم نے اپنی بیوی سے شرعی ملاقات کی تھی تو تم دونوں الگ الگ ہوجانا اور جب تک تم دونوں حج مکمل نہ کرلو ایک دوسرے کے ساتھ اکٹھے نہ ہونا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 13547
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 13547، ترقيم محمد عوامة 13245)
حدیث نمبر: 13548
١٣٥٤٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن أشعث عن الحكم عن علي قال: على كل واحد منهما بدنة، فإذا حجَّا (من) (١) قابل تفرقا من المكان الذي (أصابها) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علیای سے شخص کے متعلق فرماتے ہیں کہ ان دونوں پر اونٹ قربان کرنا ہے پھر جب وہ آئندہ سال حج کے لیے آئیں تو اس جگہ سے علیحدہ ہوجائیں جہاں پر یہ واقعہ اور کام رونما ہوا تھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 13548
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 13548، ترقيم محمد عوامة 13246)
حدیث نمبر: 13549
١٣٥٤٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن سعيد عن ابن جريج قال: حدثني سعيد بن (خرشيد) (١) أبي رجلًا استفتى جابر بن زيد والحسن بن محمد عن رجل وامرأته (أهلا) (٢) بالحج. ثم وقع عليها، (فقالا) (٣): يتمان حجهما وعليهما الحج من قابل، وإن (كان) (٤) (ذا) (٥) ميسرة أهدى جزورًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن خرشید سے مروی ہے کہ ایک شخص نے حضرت جابر بن زید اور حضرت حسن بن محمد سے مسئلہ دریافت کیا کہ میاں بیوی نے حج کے لیے احرام باندھا پھر آپس میں شرعی ملاقات کرلی، آپ دونوں نے فرمایا : وہ دونوں حج مکمل کریں اور آئندہ سال حج کی قضاء لازم ہے اور اگر وہ صاحب استطاعت ہیں تو ان پر اونٹنی قربان کرنا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 13549
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 13549، ترقيم محمد عوامة 13247)
حدیث نمبر: 13550
١٣٥٥٠ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا ابن نمير عن (عبيد اللَّه) (١) بن عمر عن عمرو بن شعيب عن أبيه قال: أتى رجل (عبد اللَّه) (٢) بن (عمرو) (٣)، فسأله عن محرم وقع بامرأته (٤)، فأشار له إلى عبد اللَّه بن (عمر) (٥) فلم يعرفه الرجل، قال شعيب: فذهبت معه، (فسأله) (٦)، فقال: بطل حجه، قال: فيقعد؟ (قال) (٧): لا: بل يخرج مع الناس، فيصنع ما يصنعون، فإذا أدركه قابل حج وأهدى، فرجعا إلى عبد اللَّه بن (عمرو) (٨)، فأخبراه، فأرسلنا إلى ابن عباس (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعیب فرماتے ہیں کہ ایک شخص حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور دریافت کیا کہ ایک شخص نے حالت احرام میں بیوی سے شرعی ملاقات کرلی ہے ؟ آپ نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی طرف اشارہ کردیا کہ ان سے دریافت کرو، وہ شخص ان کو نہیں جانتا تھا، حضرت شعیب فرماتے ہیں کہ میں اس کے ساتھ ان کے پاس گیا اور پھر ان سے دریافت کیا ؟ آپ نے فرمایا اس کا حج باطل ہوگیا ہے، اس نے عرض کیا تو کیا وہ بیٹھ جائے ؟ آپ نے فرمایا نہیں بلکہ وہ لوگوں کے ساتھ جائے اور جس طرح لوگ کرتے ہیں اسی طرح کرتا رہے، پھر جب آئندہ سال آئے تو حج کی قضاء کرے اور قربانی کرے، حضرت شعیب فرماتے ہیں کہ ہم دونوں حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آئے اور آپ کو خبر دی، پھر حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما و نے ہمیں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بھیجا، حضرت شعیب فرماتے ہیں کہ پھر میں اس کے ساتھ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے ان سے دریافت کیا ؟ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بھی وہی فرمایا جو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا تھا، پھر وہ شخص حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما و کے پاس واپس آیا اور آپ کو خبر دی، پھر اس شخص نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما و سے دریافت کیا کہ آپ کی کیا رائے ہے ؟ آپ نے فرمایا وہی جو ان دونوں حضرات کی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 13550
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ شعيب صدوق.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 13550، ترقيم محمد عوامة 13248)
حدیث نمبر: 13551
١٣٥٥١ - قال شعيب: فذهبت إلى ابن عباس معه، فسأله، (فقال له) (١) مثل ما قال ابن (عمر) (٢)، فرجع إليه فأخبره (٣).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 13551
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ شعيب صدوق.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 13551، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 13552
١٣٥٥٢ - فقال له الرجل: ما تقول أنت؟ فقال مثل ما قالا (١).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 13552
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ شعيب صدوق.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 13552، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 13553
١٣٥٥٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو خالد الأحمر عن يحيى بن سعيد عن سعيد بن المسيب (قال) (١): يمضيان (لوجههما) (٢) ويقضيان حجهما ويرجعان حيث أحبا، فإذا كان قابل أهلًا من حيث كانا أهلا (بحجّهما) (٣) الذي (أفسدا) (٤) وأهديا (وتفرقا) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن المسیب ایسے شخص کے متعلق فرماتے ہیں کہ وہ چلیں اور اپنے حج کو مکمل کریں اور جہاں سے چاہیں لوٹ جائیں، پھر جب آئندہ سال آئے تو وہاں سے حج کے لیے احرام باندھیں جہاں سے انہوں نے فاسد کیا تھا اور دو قربانیاں کریں اور دونوں جدا ہوجائیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 13553
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 13553، ترقيم محمد عوامة 13249)
حدیث نمبر: 13554
١٣٥٥٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (محمد) (١) بن فضيل عن ليث عن مجاهد وعطاء قالا: يتمان على حجهما وعلى كل واحد منهما دم، وإن كان واحدا أجزاهما وعليهما الحج من قابل ولا يتفرقان.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد اور حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ وہ دونوں حج مکمل کریں اور ہر ایک پر ایک دم ہے اگرچہ ایک ان دونوں کی طرف سے کافی ہو، اور ان پر آئندہ سال حج کرنا ہے لیکن وہ دونوں آئندہ سال علیحدہ علیحدہ نہ ہوں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 13554
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 13554، ترقيم محمد عوامة 13250)
حدیث نمبر: 13555
١٣٥٥٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا هشيم عن يونس عن الحسن، أنه كان لا يعرف التفريق في الرجل إذا (واقع) (١) وهو محرم.
مولانا محمد اویس سرور
حسن اس شخص کے متعلق جو بیوی سے حالت احرام میں شرعی ملاقات کرے جدا ہونا ضروری نہیں سمجھتے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 13555
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 13555، ترقيم محمد عوامة 13251)
حدیث نمبر: 13556
١٣٥٥٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا غندر عن شعبة عن الحكم و (حماد) (١) (قالا) (٢): يقضيان نسكهما وعليهما (هدي) (٣) ويحجان (من) (٤) قابل، فإذا أتيا المكان الذي وقع بها (فيه) (٥) لم يجتمعا حتى يحلا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم اور حضرت حماد ایسے شخص کے متعلق فرماتے ہیں کہ اپنا حج مکمل کریں ان پر دو قربانیاں ہیں اور آئندہ سال حج کی قضائ، پھر جب وہ آئندہ سال اس جگہ پر پہنچ جائیں جہاں یہ معاملہ رونما ہوا تھا تو علیحدہ علیحدہ ہوجائیں پھر جب تک احرام نہ کھول لیں آپس میں ملاقات نہ کریں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 13556
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 13556، ترقيم محمد عوامة 13252)