کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ اگرچہ وہ عمرہ کر کے واپس آ جائے پھر بھی وہ حج تمتع کرنے والا ہے
١٣٤٦٩ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا وكيع عن هشام الدستوائي عن قتادة عن سعيد ابن المسيب قال: كان أصحاب النبي ﷺ إذا اعتمروا في أشهر الحج ثم لم يحجوا من عامهم ذلك لم يهدوا (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن المسیب فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام اگر حج کے مہینوں میں عمرہ کرتے اور اس سال حج نہ کر پاتے تو ہدی نہیں بھیجتے تھے۔
١٣٤٧٠ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا ابن مبارك عن (سيف) (١) بن (أبي) (٢) سليمان عن عبد الكريم عن يزيد الفقير أن قومًا من أهل الكوفة تمتعوا ثم خرجوا إلى المدينة فأقبلوا منها بحج، فسألوا ابن عباس فقال: (أنتم) (٣) متمتعون (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یزید الفقیر کہتے ہیں کہ کوفہ کے کچھ لوگوں نے حج تمتع کا ارادہ کیا عمرہ کر کے مدینہ منورہ چلے گئے اور پھر وہاں سے حج کے لیے آئے، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا ؟ آپ نے فرمایا تم حج تمتع کرنے والے ہو۔
١٣٤٧١ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا هشيم عن يونس عن الحسن [قال: عليه الهدي أقام أو لم يقم.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ وہ وہیں پر رہے یا نہ رہے (وہ متمتع ہے) اس پر جانور ذبح کرنا ضروری ہے۔
١٣٤٧٢ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا حفص عن أشعث عن الحسن] (١) قال: من اعتمر في أشهر الحج (ثم حج) (٢) (في) (٣) عامه فهو متمتع.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ جو شخص اشہر حج میں عمرہ کرے پھر اسی سال وہ حج بھی کرے وہ شخص حج تمتع کرنے والا ہے۔