کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: کوئی شخص مکہ میں ہو اور وہ عمرہ کرنا چاہے تو کہاں سے عمرہ کرے
حدیث نمبر: 13391
١٣٣٩١ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا ابن عيينة عن عمرو (عن) (١) ابن أوس عن (عبد الرحمن) (٢) بن أبي بكر أن رسول اللَّه ومن أمره أن يردف عائشة، فيعمرها من التنعيم (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن ابی بکر فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حکم فرمایا کہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ جاؤں اور مقام تنعیم سے ان کو عمرہ کرواؤں۔
حدیث نمبر: 13392
١٣٣٩٢ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا وكيع عن هشام الدستوائي عن قتادة عن سعيد ابن المسيب في الرجل يريد العمرة من مكة من أين (يهل) (١)؟ قال: من التنعيم ومنها أهل رسول اللَّه ﷺ (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن المسیب سے دریافت کیا گیا کہ اگر کوئی شخص مکہ میں ہو اور عمرہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہو تو کہاں سے عمرہ کرے ؟ آپ نے فرمایا مقام تنعیم سے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہی سے احرام باندھا تھا۔
حدیث نمبر: 13393
١٣٣٩٣ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا عبدة عن هشام بن عروة عن أبيه أن عائشة كانت (تكون) (١) بمكة، فإذا أرادت أن (تعتمر) (٢) خرجت إلى الجحفة، فأحرمت منها (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا جب مکہ میں ہوتیں اور عمرہ کرنے کا ارادہ کرتیں تو مقام جحفہ چلی جاتیں اور وہاں سے احرام باندھتیں۔
حدیث نمبر: 13394
١٣٣٩٤ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا ابن إدريس عن (عبيد اللَّه) (١) بن عمر عن نافع أن ابن عمر وابن الزبير خرجا من مكة حتى أتيا ذا الحليفة، فأحرما ولم (يدخلا) (٢) المدينة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما اور حضرت ابن زبیر مکہ سے نکل کر ذوالحلیفہ آئے اور وہاں سے عمرہ کا احرام باندھا اور مدینہ میں داخل نہیں ہوئے۔
حدیث نمبر: 13395
١٣٣٩٥ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا وكيع عن (سفيان) (١) عن سلمة بن كهيل عن الحسن (العرني) (٢) عن ابن (أذينة) (٣) (عن أبيه) (٤) أن رجلًا أتى عمر، فسأله عن العمرة، فقال: يا أمير المؤمنين ما (أتيتك) (٥) حتى ركبت الإبل والخيل والسفن، فمن أين أهل؟ قال: ائت عليًا (فاسأله) (٦)، فأتى عليًا، فسأله، فقال: من حيث أبدأت، فرجع إليه فأخبره، فقال: لم (أجد) (٧) لك إلا ما قال علي (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن اذینہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص حضرت عمر کے پاس آیا اور دریافت کیا : اے امیر المؤمنین ! میں اونٹ، گھوڑے یا کشتی پر سوار ہو کر آتا ہوں میں کہاں سے احرام باندھوں ؟ آپ نے فرمایا : حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ ان سے دریافت کرو، وہ شخص حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے دریافت کیا، آپ نے فرمایا جہاں سے تو سفر شروع کرتا ہے وہاں سے، وہ شخص دوبارہ حضرت عمر کے پاس آیا اور آپ کو بتایا، آپ نے فرمایا : میں تیرے لیے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اس جواب کے علاوہ کوئی اور بات نہیں پاتا۔
حدیث نمبر: 13396
١٣٣٩٦ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا وكيع عن شعبة عن الحكم عن (يحيى) (١) بن الجزار (عن ابن أذينة) (٢) قال: سئل عمر عن العمرة (وهو) (٣) بمكة: من أين ⦗٤٧٨⦘ (اعتمر) (٤)؟ (فقال) (٥): ائت علي بن أبي طالب (فاسأله) (٦)، (قال) (٧): فأتيته، فقال: من (حيث) (٨) أبدأت، يعني من ميقات أرضه، قال: فأتى عمر، فأخبره، فقال: ما أجد لك إلا ما قال علي بن أبي طالب (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن اذینہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر مکہ میں تھے آپ سے دریافت کیا گیا کہ کہاں سے عمرہ کے لیے احرام باندھا جائے ؟ آپ نے فرمایا : حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ اور ان سے دریافت کرو، کہتے ہیں پھر میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور آپ سے دریافت کیا، آپ نے فرمایا جہاں سے ابتداء کرے یعنی اپنی زمین کے میقات سے احرام باندھ، وہ کہتے ہیں کہ میں پھر حضرت عمر کے پاس آیا اور آپ کو بتایا، حضرت عمر نے فرمایا : میں تیرے لیے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اس جواب کے علاوہ کوئی اور بات نہیں پاتا۔
حدیث نمبر: 13397
١٣٣٩٧ - (حدثنا أبو بكر قال) (١): ثنا (أبو) (٢) (الأحوص) (٣) عن أبي الحارث (التيمي) (٤) قال: تمتعت، (فلقيت ابن عباس فقلت: إني تمتعت) (٥) وأنا أريد (أن) (٦) أهل بالحج، فمن أين أهل بالحج؟ قال: من حيث شئت، (قال) (٧): قلت من المسجد؟ قال: من المسجد (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو الحارث التیمی فرماتے ہیں کہ میں نے حج تمتع کیا اور میری حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ملاقات ہوئی، میں نے ان سے فرمایا کہ میں حج تمتع کر رہا ہوں اب میں حج کے لیے احرام باندھنا چاہتا ہوں میں کہاں سے حج کے لیے احرام باندھوں ؟ آپ نے فرمایا جہاں سے احرام باندھنا چاہے باندھ لے، میں نے عرض کیا مسجد سے باندھ لوں ؟ آپ نے فرمایا ہاں مسجد سے باندھ لو۔
حدیث نمبر: 13398
١٣٣٩٨ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا معتمر عن أبي معن قال: قلت لجابر بن زيد وأنا بمكة، من أين أحرم؟ فقال: إن شئت [من خلف (المقام) (١) وإن شئت ⦗٤٧٩⦘ فمن (رحلك) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو معن فرماتے ہیں کہ میں نے مکہ میں حضرت جابر بن زید سے دریافت کیا کہ میں کہاں سے احرام باندھوں ؟ آپ نے فرمایا اگر چاہے تو میقات کے پیچھے سے باندھ لو اور اگر چاہو تو جہاں سے سفر شروع کیا تھا وہاں سے باندھ لو۔
حدیث نمبر: 13399
١٣٣٩٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد السلام عن هشام أن القاسم وسالمًا كانا بمكة، (فأرادا) (١) أن (يعتمرا) (٢)، فخرجا حتى أهلا من ذي الحليفة] (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قاسم اور حضرت سالم مکہ میں تھے انہوں نے عمرہ کرنے کا ارادہ کیا تو مکہ سے ذوالحلیفہ پر آ کر احرام باندھا۔
حدیث نمبر: 13400
١٣٤٠٠ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا حفص بن غياث عن همام قال: سئل الحسن عن رجل قدم مكة معتمرًا، ثم أراد أن يحج عن أمه، فقال: يخرج إلى وقته.
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے دریافت کیا گیا کہ ایک شخص مکہ میں عمرہ کرنے آیا پھر اس نے اپنی والدہ کی طرف سے حج کا ارادہ کیا (تو احرام کہاں سے باندھے ؟ ) آپ نے فرمایا وہ میقات جائے وہاں سے باندھے اور حضرت عطاء نے فرمایا وہ مکہ سے ہی احرام باندھے۔
حدیث نمبر: 13401
١٣٤٠١ - وقال عطاء (يحرم) (١) من مكة.
حدیث نمبر: 13402
١٣٤٠٢ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا ابن فضيل (عن) (١) داود بن أبي هند قال: كنت (قاطنًا) (٢) بمكة، فسألت (مجاهدًا) (٣) من أين أحرم؟ قال: من حيث شئت، قلت: من ذات عرق؟ (٤) فإنها حدنا، قال: إذا كنت بمكة فأحرم من حيث شئت، وإذا جئت من بلد آخر فلا تجاوز الحد حتى (تحرم) (٥)، فإن رسول اللَّه ﷺ (قد) (٦) أحرم من الجعرانة وهو مقبل من الطائف (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت داو ‘ د بن ابو ھند فرماتے ہیں کہ میں مکہ میں مقیم تھا میں نے حضرت مجاہد سے دریافت کیا کہ میں کہاں سے احرام باندھوں ؟ آپ نے فرمایا جہاں سے چاہو باندھ لو، میں نے عرض کیا ذات عرق سے باندھ لوں وہ ہماری حد ہے ؟ آپ نے فرمایا جب تم مکہ میں مقیم ہو تو جہاں سے چاہو احرام باندھ لو، اور جب کسی دوسرے شہر سے آؤ تو احرام باندھے بغیر میقات سے تجاوز نہ کرو، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے طائف سے آتے ہوئے مقام جعرانہ سے احرام باندھا تھا۔
حدیث نمبر: 13403
١٣٤٠٣ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا وكيع عن شعبة عن مسلم (القري) (١) قال: قلت لابن عباس: إن أمي حجت ولم (تعتمر) (٢)، فمن أين أعتمر عنها؟ (فقال) (٣): من وجهك الذي جئت (منه) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسلم القری کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عرض کیا میری والدہ نے حج کیا ہوا ہے لیکن عمرہ نہیں کیا ہوا تو ان کو عمرہ کے لیے احرام کہاں سے بندھواؤں ؟ آپ نے فرمایا : جہاں سے تو آیا ہے وہاں سے ہی احرام بندھواؤ۔
حدیث نمبر: 13404
١٣٤٠٤ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا مروان بن معاوية عن محمد بن (سوقة) (١) عن سعيد بن جبير سمعته يقول: ﴿وَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلَّهِ﴾ [البقرة: ١٩٦]، فسأله رجل ما تمام العمرة؟ فقال: أن (تعتمر) (٢) من حيث أبدأت.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر نے قرآن کی آیت { وَ اَتِمُّوا الْحَجَّ وَ الْعُمْرَۃَ لِلّٰہِ } تلاوت فرمائی ان سے ایک شخص نے دریافت کیا، عمرہ کا اتمام کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : جہاں سے تم آ رہے ہو وہاں سے عمرہ کا احرام باندھو یہ عمرہ کا اتمام ہے۔