حدیث نمبر: 13329
١٣٣٢٩ - حدثنا أبو بكر قال: (ثنا) (١) (حميد بن) (٢) عبد الرحمن ⦗٤٦٢⦘ (الرؤاسي) (٣) عن أبيه عن أبي الزبير (عن جابر) (٤) قال: إذا لم يكن في الثوب المعصفر طيب فلا بأس (به) (٥) للمحرم أن يلبسه (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ جب زرد رنگ کے کپڑے سے خوشبو ختم ہوگئی ہو تو محرم کے لیے اس کے استعمال میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 13330
١٣٣٣٠ - حدثنا أبو بكر قال: (حدثنا) (١) حميد عن أبيه عن (أبي) (٢) الزبير قال: كنت عند ابن عمر (فأتاه) (٣) رجل عليه ثوبان معصفران وهو محرم، فقال: في (هذين) (٤) (علي) (٥) بأس؟ قال: فيهما طيب؟ (قال: لا) (٦) قال: فلا بأس به (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو زبیر کہتے ہیں کہ میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا آپ کے پاس ایک شخص آیا جو حالت احرام میں تھا اور اس پر دو زرد رنگ کے کپڑے تھے اس نے پوچھا ان کپڑوں کے پہننے میں کوئی حرج ہے ؟ آپ نے فرمایا : ان میں خوشبو ہے ؟ اس نے عرض کیا نہیں، آپ نے فرمایا پھر اس میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 13331
١٣٣٣١ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا ابن علية عن عبد الرحمن بن إسحاق قال: حدثني أبي قال: رأيت نافع بن جبير (بالعرج) (١) عليه معصفر وهو محرم، فقال له عمي إسحاق: ما هذا قال: (إنه لا) (٢) (ينفض -أو إنها لا تنفض) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن اسحاق کہتے ہیں کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا کہ انہوں نے حضرت نافع بن جبیر کو عرج مقام میں زرد رنگ کے لباس میں دیکھا اس وقت وہ حالت احرام تھے میرے چچا اسحاق نے ان سے فرمایا : یہ کیا ہے ؟ انہوں نے کہا : اس کا رنگ نہیں نکلتا، (پکا رنگ ہے دھونے سے نہیں اترتا) ۔
حدیث نمبر: 13332
١٣٣٣٢ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا عبد الأعلى عن هشام عن عطاء قال: لا بأس به.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔