حدیث نمبر: 13120
١٣١٢٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الأعلى عن يونس عن الحسن ⦗٤١٢⦘ أن ابن عامر أحرم من خراسان، فعاب ذلك عليه عثمان بن عفان وغيره (وكرهه) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عامر نے خراسان سے احرام باندھا تو حضرت عثمان بن عفان اور دیگر حضرات نے اس کی مذمت کی اور انہوں نے اس کو ناپسند کیا۔
حدیث نمبر: 13121
١٣١٢١ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم التيمي عن (أبيه) (١) عن أبي ذر قال: استمتعوا بثيابكم، فإن (ركابكم) (٢) لا (يغني) (٣) عنكم من اللَّه شيئًا (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ذر فرماتے ہیں کہ اپنے انہی کپڑوں سے فائدہ حاصل کرو، بیشک تمہاری سواری تمہیں اللہ سے کسی چیز میں مستغنی نہیں کرتی۔
حدیث نمبر: 13122
١٣١٢٢ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا ابن مهدي عن سفيان عن منصور عن إبراهيم قال: كان علقمة يستمتع من ثيابه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علقمہ اپنے کپڑوں میں ہی فائدہ اٹھاتے۔
حدیث نمبر: 13123
١٣١٢٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن إسماعيل بن أبي خالد عن شيخ يقال له مسلم أن عمر رأى رجلًا قد أحرم من (مطراس) (١) الهند، فقال: انظروا إلى ما (صنع) (٢) هذا بنفسه، وقد يسر اللَّه عليه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر نے ایک شخص کو دیکھا جس نے قطرسیّ الھیئہ (واسط اور بصرہ کا درمیانی علاقہ) سے احرام باندھا ہوا تھا آپ نے فرمایا : اس شخص کو دیکھو اس نے اپنی طرف سے کیا بنایا ہوا ہے حالانکہ اللہ پاک نے اس پر آسانی فرمائی ہے۔
حدیث نمبر: 13124
١٣١٢٤ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا ابن علية عن سعيد عن قتادة عن الحسن أن عمران بن حصين أحرم من البصرة، فقدم على عمر، فأغلظ له، وقال: يتحدث الناس أن رجلًا [من أصحاب رسول ﷺ أحرم من الأمصار (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمران بن حصین نے بصرہ سے احرام بندھا، پھر وہ حضرت عمر کے پاس آئے تو آپ نے ان سے سخت کلام کیا اور فرمایا : لوگ بیان کریں گے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک شخص شہروں میں سے کسی شہر سے احرام باندھتا تھا۔
حدیث نمبر: 13125
١٣١٢٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو أسامة عن إسماعيل بن أبي خالد عن مسلم (أبي سلمان) (١) أن رجلًا] (٢) أحرم من الكوفة، فرآه عمر سيئ الهيئة، فأخذ بيده وجعل يدور به في الحلق ويقول: انظروا إلى ما صنع هذا بنفسه وقد وسع اللَّه عليه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسلم ابی سلمان کہتے ہیں ایک شخص نے کوفہ سے احرام باندھا، حضرت عمر نے اس کو خستہ حالت میں دیکھا تو اس کو بازو سے پکڑا اور لوگوں کی مجلسوں میں گھمایا اور ساتھ یہ فرما رہے تھے اس شخص کو دیکھو اس نے اپنی طرف سے یہ کام کیا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اس پر آسانی فرمائی ہے۔
حدیث نمبر: 13126
١٣١٢٦ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا وكيع (قال: حدثنا مسكين أبو) (١) هريرة قال: سمعت مجاهدًا وسأله رجل أيهما أفضل، أحرم من بيتي، أو من مسجد قومي، أو من (مصري) (٢)، أو من الوقت فقال مجاهد: إني لأحرم يوم التروية فأخاف أن لا أحل حتى (أجرح) (٣) إحرامي.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد سے ایک شخص نے دریافت کیا کونسا شخص زیادہ افضل ہے، جو اپنے گھر سے احرام باندھے، قوم و قبیلہ کی مسجد سے باندھے یا شہر کی مسجد سے باندھے یا میقات سے باندھے ؟ حضرت مجاہد نے فرمایا میں تو یوم الترویہ کے دن احرام باندھتا ہوں پھر مجھے خوف رہتا ہے کہ میں حلال نہ ہو جاؤں یہاں تک کہ میرا احرام مجھے حرج اور مصیبت میں ڈال دے۔