کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: کوئی شخص کھانے پر قسم کھا لے
حدیث نمبر: 13042
١٣٠٤٢ - حدثنا وكيع عن أسلم مولى عنبسة أنه قال: سألت سعيد بن المسيب عن امرأة حلفت لا تشرب من لبن عنز لزوجها، فشربت، (قال) (١): ليس عليها شيء، ليس في الطعام والشراب يمين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسلم فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن المسیب سے دریافت کیا کہ ایک عورت نے قسم کھائی ہے کہ وہ اپنے شوہر کی بکری کا دودھ نہیں پیئے گی پھر اس نے پی لیا ؟ فرمایا اس پر کچھ نہیں ہے، کھانے پینے میں قسم نہیں ہوتی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأيمان والنذور والكفارات / حدیث: 13042
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 13042، ترقيم محمد عوامة 12765)
حدیث نمبر: 13043
١٣٠٤٣ - حدثنا جعفر (بن) (١) ابن عون عن أبي العميس عن قيس بن مسلم عن طارق بن شهاب قال: كان رجل له أعنز، فحلف أن لا يشرب من ألبانها، فلما رأت امرأته ذلك حلفت أن لا تشرب من ألبانها، (فخلوا) (٢) الأعنز وضيعوهن، فأتى عبد اللَّه فذكر (له ذلك) (٣) فقال: إنما ذا من الشيطان، ارجعا إلى أحسن ما كنتما عليه واشربا (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طارق بن شہاب سے مروی ہے کہ ایک شخص کے پاس کچھ بکریاں تھیں اس نے قسم کھالی کہ ان کا دودھ نہیں پیئے گا، جب اس کی بیوی نے یہ دیکھا تو اس نے قسم کھالی کہ وہ انکا دودھ نہیں پیئے گی، پس بکریاں خشک اور برباد ہوگئیں، پھر وہ حضرت عبد اللہ کے پاس آیا اور اس کا ذکر کیا، آپ نے فرمایا یہ شیطان کی طرف سے ہے، تم دونوں لوٹو اس کی طرف سے جو تم دونوں کے لیے سب سے اچھا ہے اور پھر اس کا دودھ پیؤ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأيمان والنذور والكفارات / حدیث: 13043
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 13043، ترقيم محمد عوامة 12766)
حدیث نمبر: 13044
١٣٠٤٤ - حدثنا جرير (عن) (١) عبد العزيز بن رفيع عن مجاهد قال: كان لرجل من الأنصار ضيف، فأبطأ عن أهله، فقال: (عشيتم) (٢) (٣)؟ قالوا: لا. قال: (لا) (٤) واللَّه لا أطعم الليلة [من عشائكم، فقالت (امرأته) (٥): إذًا واللَّه لا أطعمه، قال: فقال الضيف: و (أنا) (٦) واللَّه لا أطعمه أيضًا] (٧)، قال: فقال: يبيت ضيفي بغير طعام، قربوا طعامكم، فأكلوا معه فلما أصبح غدا إلى رسول اللَّه ﷺ فأخبره بذلك، فقال: "أطعت اللَّه وعصيت الشيطان" (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد سے مروی ہے کہ انصار میں سے ایک شخص کے مہمان تھے اس کے گھر والوں نے دیر کردی، انصاری نے پوچھا تم نے میرے مہمان کو رات کا کھانا کھلایا ہے ؟ انہوں نے کہا نہیں، انصاری نے کہا تب میں بھی اللہ کی قسم رات کو تمہارا کھانا نہیں کھاؤں گا، اس کی بیوی نے کہا تب میں بھی نہیں کھاؤں گی، مہمان نے کہا اللہ کی قسم میں بھی نہیں کھاؤں گا، انصاری نے کہا میرا مہمان بغیر کھانے کے رات گزارے ! اپنا کھانا لاؤ پھر اس نے ان کے ساتھ کھایا، پھر صبح جا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سارے واقعہ کی قبر دی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تو نے اللہ کی اطاعت کی اور شیطان کی نافرمانی کی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأيمان والنذور والكفارات / حدیث: 13044
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل، أخرجه عبد الرزاق (٨/ ١٦٠٤٥)، وابن أبي الدنيا في إكرام الضيف (٨٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 13044، ترقيم محمد عوامة 12767)