حدیث نمبر: 12980
١٢٩٨٠ - حدثنا ابن عيينة عن الزهري عن حميد بن (عبد) (١) الرحمن عن أبي هريرة قال: أتي رجل النبي ﷺ فقال: هلكت (فقال) (٢): "وما أهلكك؟ " قال: وقعت على امرأتي في رمضان، فقال النبي ﷺ: "أعتق رقبة"، فقال: لا أجدها فقال: " (صم) (٣) شهرين متتابعين"، قال: لا أقوى قال: "فأطعم ستين مسكينًا" قال: لا أجد فقال: "اجلس"، فجلس فبينما هو كذلك إذ أتي بعَرْق فيه تمر، فقال له النبي ﷺ: "اذهب فتصدق به"، فقال: يا رسول اللَّه والذي بعثك بالحق ما بين لابتيها أهل بيت أحوج إليه منا، قال: فضحك النبي ﷺ حتى بدت أنيابه ثم قال: "انطلق فأطعمه عيالك" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا میں ھلاک ہوگیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا کس نے تجھے ہلاک کردیا ؟ اس نے عرض کیا کہ میں نے رمضان میں اپنی بیوی سے شرعی ملاقات کرلی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : غلام آزاد کر، اس نے عرض کیا میں غلام نہیں پاتا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا دو مہینوں کے لگاتار روزے رکھ لے، اس نے عرض کیا میں اس کی طاقت نہیں رکھتا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : پھر ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا، اس نے عرض کیا میں وہ بھی نہیں پاتا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بیٹھ جا، وہ بیٹھ گیا اسی دوران نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں کچھ کھجوریں آئیں، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا : اس کو لے جا اور جا کر صدقہ کر دے، اس نے عرض اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے مدینہ کی دونوں گھاٹیوں کے درمیان کوئی گھر ایسا نہیں جو ہم سے زیادہ ضرورت مند ہو، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ سن کر اتنا مسکرائے کہ آپ کے دانت مبارک ظاہر ہوگئے پھر فرمایا : یہ لے کر اپنے عیال کو کھلا دے۔
حدیث نمبر: 12981
١٢٩٨١ - حدثنا أبو خالد (الأحمر) (١) عن ابن عجلان عن المطلب بن السائب بن أبي وداعة عن سعيد بن المسيب قال: جاء رجل إلى النبي ﷺ فقال: إني أفطرت يومًا من رمضان فقال له النبي ﷺ: "تصدق واستغفر اللَّه وصم يومًا مكانه" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن المسیب سے مروی ہے کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میں نے رمضان کا ایک روزہ افطار کرلیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : صدقہ کر، اللہ تعالیٰ سے استغفار کر اور اس دن کی جگہ ایک روزہ کی قضا کر۔
حدیث نمبر: 12982
١٢٩٨٢ - حدثنا وكيع عن سفيان عن حبيب بن أبي ثابت عن ابن المطوس عن المطوس عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "من أفطر يومًا من رمضان من غير رخصة لم يجزه صيام الدهر" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس شخص نے رمضان کا ایک بھی روزہ بغیر عذر کے چھوڑ دیا وہ ساری زندگی بھی روزے رکھ لے اس کا بدلہ نہیں ہوسکتا (ثواب میں اس تک نہیں پہنچ سکتا) ۔
حدیث نمبر: 12983
١٢٩٨٣ - حدثنا أبو خالد عن أشعث عن المغيرة بن عبد اللَّه اليشكري عن عبد اللَّه بن الحارث قال: (قال عبد اللَّه) (١): من أفطر يومًا من رمضان متعمدًا من غير سفر ولا مرض لم يقضه أبدًا وإن صام الدهر كله (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں کہ جو شخص رمضان کا روزہ بغیر مرض، بغیر عذر کے جان بوجھ کر افطار کرلے وہ اس کی قضا نہیں کرسکتا اگرچہ ساری زندگی بھی روزہ رکھ لے۔
حدیث نمبر: 12984
١٢٩٨٤ - حدثنا أبو معاوية عن عمر بن يعلى الثقفي عن عرفجة عن علي قال: من أفطر يومًا من رمضان متعمدًا لم يقضه أبدًا (طول) (١) الدهر (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جو شخص رمضان کا روزہ جان بوجھ کر نہ رکھے وہ چاہے ساری زندگی روزے رکھ لے اس کی قضا نہیں بن سکتی۔
حدیث نمبر: 12985
١٢٩٨٥ - حدثنا شريك عن مغيرة عن إبراهيم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو خالد اور حضرت عامر سے دریافت کیا گیا کہ کوئی شخص جان بوجھ کر رمضان کا روزہ نہ رکھے تو ؟ آپ نے فرمایا اللہ سے استغفار کرے اور توبہ کرے، اور دوبارہ ایسا نہ کرے اور اس کی جگہ ایک دن کی قضا کرے۔
حدیث نمبر: 12986
١٢٩٨٦ - وعن ابن أبي خالد عن عامر في الذي يفطر يومًا من رمضان (متعمدًا) (١)، (قالا) (٢): يستغفر اللَّه (٣) ويتوب إليه، (ولا يعد) (٤) ويقضي يومًا مكانه.
حدیث نمبر: 12987
١٢٩٨٧ - حدثنا وكيع عن هشام عن قتادة عن ابن المسيب في الرجل يفطر يومًا من رمضان متعمدًا قال: عليه صيام شهر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن المسیب فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص رمضان کا ایک روزہ جان بوجھ کر چھوڑ دے اس پر اس کی قضا میں ایک مہینے کے روزے ہیں۔
حدیث نمبر: 12988
١٢٩٨٨ - حدثنا وكيع عن سفيان عن حماد عن إبراهيم قال: عليه صيام ثلاثة آلاف يوم.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں اس پر تین ہزار دنوں کے روزے ہیں (بطور قضا) ۔
حدیث نمبر: 12989
١٢٩٨٩ - حدثنا الثقفي عن خالد الحذاء قال: قال عاصم: سألت جابر بن زيد (أبا) (١) الشعثاء فقلت: أبلغك في من أفطر (يومًا) (٢) من رمضان، ماذا عليه؟ قال: لا، ولكن (ليصم) (٣) يومًا مكانه ويصنع (مع) (٤) ذلك معروفًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عاصم فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر بن زید ابو الشعثائ سے سوال کیا کہ کیا آپ تک کوئی بات پہنچی ہے اس شخص کے متعلق جو رمضان کا ایک روز افطار کرلے تو وہ کیا کرے ؟ آپ نے فرمایا نہیں، لیکن اس کی جگہ ایک دن کی قضا کرلے اور اس کے ساتھ نیکی بھی کرے۔
حدیث نمبر: 12990
١٢٩٩٠ - حدثنا أبو خالد عن أشعث عن حماد عن إبراهيم قال: يتوب و (يستغفر) (١) ويصوم يومًا مكانه.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ توبہ استغفار کرے اور اس کی جگہ ایک دن کی قضا کرے۔
حدیث نمبر: 12991
١٢٩٩١ - حدثنا عبدة عن (سعيد) (١) عن يعلى بن (حكيم) (٢) عن سعيد بن جبير في رجل أفطر يومًا من رمضان متعمدًا قال: يستغفر اللَّه من ذلك، ويتوب إليه ويقضي يومًا مكانه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر اس شخص کے متعلق فرماتے ہیں جو رمضان کا روزہ جان بوجھ کر افطار کرلے، فرمایا اس استغفار کرے توبہ کرے اور اس کے بدلے ایک روزے کی قضا کرے۔
حدیث نمبر: 12992
١٢٩٩٢ - حدثنا وكيع عن جرير بن حازم عن يعلى بن (حكيم) (١) عن سعيد بن جبير قال قلت له: رجل أفطر يومًا من رمضان متعمدا ما كفارته؟ قال: ما أدري ما كفارته، ذنب أصابه، يستغفر اللَّه، ويقضي يومًا مكانه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یعلی رضی اللہ عنہ بن حکیم فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن جبیر سے دریافت کیا کہ کوئی شخص رمضان کا روزہ جان بوجھ کر افطار کرلے اس پر کیا کفارہ ہے ؟ آپ نے فرمایا مجھے نہیں معلوم کیا کفارہ ہے ؟ اس کو گناہ ملا ہے، استغفار کرے اور اس کی جگہ ایک دن کی قضا کرے۔
حدیث نمبر: 12993
١٢٩٩٣ - حدثنا ابن فضيل عن (مغيرة) (١) عن إبراهيم قال: يقضي يومًا مكانه ويستغفر اللَّه.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ استغفار کرے اور اس کے بدلے ایک دن کی قضا کرے۔
حدیث نمبر: 12994
١٢٩٩٤ - حدثنا يزيد بن هارون عن يحيى بن سعيد عن عبد الرحمن بن القاسم عن محمد بن جعفر بن الزبير عن عباد بن عبد اللَّه بن الزبير عن عائشة (قالت) (١): أتي النبي ﷺ رجل فذكر أنه احترق، فسأله عن أمره، فذكر أنه وقع على امرأته في رمضان، فأتى رسول اللَّه ﷺ بمكتل يدعى (الفرق) (٢) فيه تمر، فقال: "أين المحترق؟ " فقام الرجل، فقال: "تصدق بهذا" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص نے ذکر کیا کہ وہ جل گیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے متعلق دریافت کیا تو اس نے ذکر کیا کہ اس رمضان میں اپنی بیوی سے جماع کرلیا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک ٹوکری لائی گئی جسے عَرْق کہتے ہیں اس میں کچھ کھجوریں تھیں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا : جلا ہوا شخص کہاں ہے ؟ ایک شخص کھڑا ہوا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اس کو صدقہ کردو۔