کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: کوئی شخص فوت ہو جائے اور اس کے ذمہ اعتکاف باقی رہ گیا ہو
حدیث نمبر: 12971
١٢٩٧١ - حدثنا أبو (الأحوص) (١) عن إبراهيم بن مهاجر عن عامر بن مصعب ⦗٣٧١⦘ أن عائشة اعتكفت عن (أخيها بعد ما مات) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر بن مصعب سے مروی ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنے بھائی کی وفات کے بعد اس کی جگہ اعتکاف کیا۔
حدیث نمبر: 12972
١٢٩٧٢ - حدثنا جرير عن ليث قال: سئل طاوس عن امرأة ماتت وعليها أن تعتكف سنة في المسجد الحرام، ولها (أربعة) (١) (بنين) (٢) كلهم يحب أن يقضي عنها، قال طاوس: اعتكفوا أربعتكم في المسجد الحرام ثلاثة أشهر وصوموا.
حدیث نمبر: 12973
١٢٩٧٣ - حدثنا عبد الصمد بن عبد الوارث عن حماد بن سلمة عن (عبيد اللَّه ابن) (١) عبد اللَّه بن عتبة أن امرأة نذرت أن تعتكف عشرة أيام، فماتت (فلم) (٢) تعتكف، فقال ابن عباس (٣): اعتكف عن أمك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ سے مروی ہے کہ ایک عورت نے نذر مانی تھی کہ وہ دس دن اعتکاف کرے گی اور وہ فوت ہوگئی ہے اعتکاف نہیں کرسکی، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : اپنی والدہ کی طرف سے اعتکاف کر۔
حدیث نمبر: 12974
١٢٩٧٤ - حدثنا وكيع عن الحكم عن إبراهيم قال: لا (يقضى) (١) عن ميت اعتكاف.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ میت کی طرف سے اعتکاف کی قضا نہیں کی جائے گی۔
حدیث نمبر: 12975
١٢٩٧٥ - حدثنا معتمر بن سليمان عن أبيه قال: كان طاوس يقول في النذر على الميت: يقضيه ورثته بينهم: إن كان على رجل صوم سنة إن شاؤوا صاموا كل إنسان ثلاثة أشهر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاؤس میت پر نذر کے متعلق فرماتے ہیں ان کے ورثاء کے درمیان فیصلہ کیا جائے گا اور اگر کسی شخص کے ذمہ سال کے روزے ہوں تو اگر ورثاء چاہیں تو روزے رکھ لیں، ورثاء میں سے ہر کوئی تین مہینے رکھے گا۔