کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: جو قرآن پاک میں لفظ اَوْ آیا ہے تو اس کو اس میں اختیار ہے اور جو یہ آیا ہے وہ نہ پائے تو پہلے پہلا، پھر اس کے بعد والا
حدیث نمبر: 12862
١٢٨٦٢ - حدثنا حفص عن ليث عن مجاهد عن ابن عباس قال: كل شيء في القرآن: "أو، أو" فهو فيه مخير، وكل شيء فيه: ﴿فَمَنْ لَمْ يَجِدْ﴾ [البقرة: ١٩٦]، فالذي يليه، فإن لم يجد فالذي يليه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما ارشاد فرماتے ہیں کہ قرآن پاک میں جہاں لفظ اَوْ آیا ہے اس میں بندے کو اختیار ہے اور جہاں فمن لم یجد آیا ہے تو اس میں وہ اس کے بعد والے پر عمل کرے اگر وہ نہ پائے تو وہ جو اس کے بعد والے پر عمل کرے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأيمان والنذور والكفارات / حدیث: 12862
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لحال ليث.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12862، ترقيم محمد عوامة 12595)
حدیث نمبر: 12863
١٢٨٦٣ - حدثنا أسباط بن محمد عن داود بن أبي هند عن عكرمة مثله.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ سے بھی اسی طرح مرو ی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأيمان والنذور والكفارات / حدیث: 12863
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12863، ترقيم محمد عوامة 12596)
حدیث نمبر: 12864
١٢٨٦٤ - حدثنا يزيد بن هارون عن المسعودي عن حماد عن إبراهيم قال: ما كان في القرآن: "أو، أو" فصاحبه مخير.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ قرآن میں جہاں بھی (دو چیزیں) لفظ اَوْ کے ساتھ آئی ہیں تو اس کے کرنے والے کو اس میں اختیار ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأيمان والنذور والكفارات / حدیث: 12864
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12864، ترقيم محمد عوامة 12597)