کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: کوئی مشرک نذر مانے اور پھر مسلمان ہو جائے تو اس کے متعلق کیا کہا گیا ہے؟
حدیث نمبر: 12827
١٢٨٢٧ - حدثنا حفص عن عبيد اللَّه بن عمر عن نافع عن ابن عمر (عن عمر) (١) ﵁ (٢) قال: نذرت نذرًا في الجاهلية ثم أسلمت فسألت النبي ﷺ فأمرني أن أوفي (بنذري) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر فرماتے ہیں کہ میں نے زمانہ جاہلیت میں ایک نذر مانی تھی پھر میں مسلمان ہوگیا، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں اپنی نذر پوری کروں۔
حدیث نمبر: 12828
١٢٨٢٨ - حدثنا جرير عن ليث عن طاوس أقال: كل يمين حلف بها هي للَّه (برة) (١) يوفي بها في الإسلام.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاؤس فرماتے ہیں کہ ہر قسم جس کے ساتھ حلف اٹھائی جائے یہ اللہ کے لیے نیکی اور احسان ہے، تو اس کو اسلام میں بھی میں پورا کیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 12829
١٢٨٢٩ - حدثنا حفص عن ليث عن طاوس] (١) في رجل نذر في الجاهلية ثم أسلم، قال: يوفي (بنذره) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاؤس سے دریافت کیا گیا کہ ایک شخص نے جاہلیت میں نذر مانی پھر مسلمان ہوگیا، آپ نے فرمایا : وہ اپنی نذر پوری کرے گا۔
حدیث نمبر: 12830
١٢٨٣٠ - حدثنا وكيع عن الهذلي أن امرأة نذرت أن تسرج في بيعة وهي نصرانية، فأسلمت فأرادت أن توفي (بنذرها) (١)، قال الحسن وقتادة: تسرج في مساجد المسلمين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت الھذلی فرماتے ہیں کہ ایک عورت جو نصرانیہ تھی اس نے نذر مانی کہ وہ کنیسہ میں چراغ جلائے گی پھر وہ مسلمان ہوگئی پھر اس نے اپنی نذر پوری کرنے کا ارادہ کیا، حسن اور حضرت قتادہ نے فرمایا کہ تو مسلمانوں کی مسجدوں میں چراغ جلا لے، اور حضرت ابن سیرین نے فرمایا اس کے ذمہ کچھ بھی نہیں ہے، حضرت الھذلی فرماتے ہیں کہ میں نے ان کے اقوال حضرت شعبی کے سامنے بیان کیئے تو آپ نے فرمایا : اونچا سننے والے (ابن سیرین) نے صحیح کہا ہے اور تیرے ساتھیوں سے غلطی ہوئی ہے، اسلام پچھلی چیزوں کو منہدم کردیتا ہے۔
حدیث نمبر: 12831
١٢٨٣١ - وقال ابن سيرين: ليس عليها شيء.
حدیث نمبر: 12832
١٢٨٣٢ - فعرضت أقاويلهم على الشعبي، فقال: أصاب الأصم وأخطأ (صاحباك) (١) هدم الإسلام ما كان قبله.