کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: کوئی شخص یوں کہے کہ مجھ پر بیت اللہ کی طرف چلنا ہے اور یوں نہ کہے کہ مجھ پر نذر ہے بیت اللہ کی طرف یا کعبہ کی طرف پیدل چلنا، تو کیا اس پر کچھ لازم ہو گا؟
١٢٨٢٢ - حدثنا أبو أسامة قال: حدثنا عبيد اللَّه بن عمر عن نافع عن ابن عمر في الرجل يقول: عليّ المشي إلى الكعبة قال: هذا نذر، فليمش (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا گیا ایک شخص کہتا ہے مجھ پر کعبہ کی طرف چلنا ہے، آپ نے فرمایا یہ نذر ہے اس کو چاہئے کہ پیدل چلے۔
١٢٨٢٣ - حدثنا حماد بن خالد الخياط عن محمد بن هلال سمع سعيد بن المسيب يقول: من قال: عليّ المشي إلى بيت اللَّه، فليس بشيء، إلا (١) أن يقول: عليّ نذر مشي إلى الكعبة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن ھلال فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن المسیب سے سنا آپ فرماتے ہیں کہ جو شخص یوں کہے مجھ پر بیت اللہ کی طرف پیدل چلنا ہے تو یہ کچھ بھی نہیں ہے جب تک وہ یوں نہ کہے مجھ پر نذر ہے کہ میں کعبہ کی طرف پیدل چلوں۔
١٢٨٢٤ - [حدثنا عبد اللَّه بن نمير عن هشام بن عروة قال: جعل رجل منا عليه المشي إلى البيت (١) فأتى القاسم فسأله عن ذلك فقال: يمشي إلى البيت] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام بن عروہ فرماتے ہیں کہ ہم میں سے ایک شخص نے کہا مجھ پر کسی چیز میں بیت اللہ کی طرف چلنا ہے، پھر وہ حضرت قاسم کے پاس آیا اور آپ سے دریافت کیا، آپ نے فرمایا : وہ بیت اللہ کی طرف پیدل جائے۔
١٢٨٢٥ - حدثنا معتمر (١) عن ليث عن أبي معشر عن يزيد (عن) (٢) إبراهيم التيمي قال: إذا قال الرجل: للَّه عليّ أو عليه حجة فسواء، وإذا قال: (للَّه) (٣) (عليَّ) (٤) نذر (أو) (٥) عليَّ (للَّه) (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یزید ابی ابراہیم التیمی فرماتے ہیں کہ جب کوئی شخص یوں کہے اللہ کے لیے مجھ پر ہے یا مجھ پر حج کرنا ہے تو یہ دونوں برابر ہیں، اور جب یوں کہے مجھ پر نذر ہے یا اللہ کے لیے مجھ پر ہے تو یہ دونوں برابر ہیں۔
١٢٨٢٦ - حدثنا عمر (بن أيوب) (١) عن عمر بن زيد قال: جاء (رجلان) (٢) إلى القاسم (فسألاه) (٣) وأنا أسمع (عن) (٤) رجل جعل عليه المشي إلى بيت اللَّه قال: فقال القاسم: أنذر؟ (قال) (٥): لا، قال: فليكفر يمينه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر بن زید فرماتے ہیں کہ دو شخص حضرت قاسم کے پاس آئے اور سوال کیا میں اس وقت سن رہا تھا کہ ایک شخص نے کہا کہ مجھ پر بیت اللہ کی طرف پیدل چلنا ہے آپ نے دریافت فرمایا کیا اس نے نذر مانی تھی ؟ انہوں نے کہا نہیں، آپ نے فرمایا : پھر اس کو چاہئے کہ اپنی قسم کا کفارہ ادا کرے۔