کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: مرد اور عورت پیدل چلنے کی قسم اٹھا لے لیکن اس کی طاقت نہ رکھیں
حدیث نمبر: 12811
١٢٨١١ - حدثنا أبو خالد الأحمر وابن فضيل عن يحيى بن سعيد عن (عبيد) (١) اللَّه بن (زحر) (٢) عن أبي سعيد الرعيني عن (عبد) (٣) اللَّه بن مالك عن عقبة بن عامر الجهني قال: (نذرت) (٤) أختي أن تمشي حافية إلى بيت اللَّه غير مختمرة، فسألت النبي ﷺ فقال: "مر أختك فلتختمر (ولتركب) (٥) ولتصم ثلاثة أيام" (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عقبہ بن عامر فرماتے ہیں کہ میری بہن نے نذر مانی کہ وہ ننگے پاؤ بغیر چادر اوڑھے بیت اللہ کی طرف جائے گی، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کے متعلق دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اپنی بہن کو حکم دے کہ وہ چادر اوڑھ کر سوار ہو کر جائے اور تین دن کے روزے (بطور کفارہ) رکھ لے۔
حدیث نمبر: 12812
١٢٨١٢ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا حميد عن ثابت عن أنس قال: رأى رسول اللَّه ﷺ رجلًا (يهادى) (١) بين ابنيه فقال: "ما هذا؟ " فقالوا: نذر أن يمشي ⦗٣٣٠⦘ إلى بيت اللَّه، فقال: "إن اللَّه لغني عن تعذيب هذا لنفسه" ثم أمره فركب (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا وہ اپنے دو بچوں کے درمیان لڑکھڑا کر چل رہا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا یہ کیا ہے ؟ انہوں نے عرض کیا، انہوں نے نذر مانی ہے کہ بیت اللہ پیدل چل کر جائیں گے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بیشک اللہ تعالیٰ اس بات سے بےنیاز ہے کہ یہ شخص اپنے آپ کو تکلیف دے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو حکم دیا تو وہ سوار ہوگئے۔
حدیث نمبر: 12813
١٢٨١٣ - حدثنا ابن أدريس عن عبيد اللَّه بن (عمر وعن) (١) مالك بن أنس عن (عروة) (٢) بن أذينة قال عبيد اللَّه: (جدته) (٣) وقال مالك: (إن) (٤) أمه جعلت عليها [المشي فمشت حتى انتهت إلى (السقيا) (٥) ثم عجزت (فما مشت) (٦)] (٧) فسألت ابن عمر فقال: مروها أن تعود من العام المقبل فتمشي من حيث عجزت (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ بن اذینہ سے مروی ہے کہ حضرت عبید اللہ فرماتے ہیں اس کی دادی تھی اور حضرت مالک فرماتے ہیں کہ ان کی والدہ تھی، انہوں نے نذر مانی کہ وہ پیدل چلے گی، پھر جب وہ چل کر سقیا مقام پر پہنچی تو مزید چلنے سے عاجز آگئی، میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا ؟ آپ نے فرمایا اس کو حکم دو کہ اگلے سال دوبارہ آئے اور جہاں سے چلنے میں عاجز ہوئی ہے وہاں سے دوبارہ چلے۔
حدیث نمبر: 12814
١٢٨١٤ - حدثنا ابن نمير قال: حدثنا إسماعيل بن أبي خالد عن الشعبي أنه سئل عن رجل نذر أن يمشي إلى الكعبة، فمشى نصف الطريق وركب نصفه، (قال: فقال عامر: قال) (١) ابن عباس: يركب ما مشى ويمشي ما ركب من قابل، (و) (٢) يهدي بدنة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی سے سوال کیا گیا کہ ایک شخص نے نذر مانی ہے کہ پید ل کعبہ جائے گا، پس وہ آدھا راستہ پیدل اور آدھا سوار ہو کر گیا ہے ؟ فرمایا کہ حضرت عامر سے مروی ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : آئندہ سال جتنا پیدل چلا ہے اتنا سوار ہو اور جتنا سوار ہوا ہے اتنا پیدل چلے، اور ایک اونٹ ھدیہ کرے (قربان کرے) ۔
حدیث نمبر: 12815
١٢٨١٥ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن سعيد عن قتادة عن الحسن عن علي قال: (من قال:) (١) عليه المشي إن شاء ركب (و) (٢) أهدى (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جو شخص یوں کہے میرے اوپر پیدل چلنا ہے، تو اگر وہ چاہے تو سوار ہوجائے اور (اونٹ) ھدیہ کر دے۔
حدیث نمبر: 12816
١٢٨١٦ - حدثنا عبد الرحيم وأبو خالد الأحمر عن حجاج عن الحكم عن علي في الرجل يجعل (عليه) (١) المشي إلى بيت اللَّه قال عبد الرحيم: يركب ويهريق دمًا، وقال أبو خالد: يهدي بدنة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا گیا کہ ایک شخص نے نذر مانی ہے کہ پیدل بیت اللہ جائے گا ؟ حضرت عبد الرحیم راوی سے مروی ہے کہ وہ سوار ہوجائے اور خون بہائے (قربانی کرے) اور ابو خالد راوی سے مروی ہے کہ وہ اونٹ ھدیہ کرے
حدیث نمبر: 12817
١٢٨١٧ - حدثنا يعلى بن عبيد عن الأجلح عن عمرو بن سعيد البجلي قال: كنت تحت منبر ابن الزبير (وهو عليه) (١) فجاء رجل وقال: يا أمير المؤمنين (إني نذرت أن أحج ماشيًا) (٢) حتى إذا كان كذا وكذا (٣) مشيت خشيت أن يفوتني الحج، (فركبت) (٤)، (فقال) (٥): لا خطأ عليك، ارجع عام (قابل فامش ما ركبت واركب ما مشيت) (٦) (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن سعید البجلی فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن زبیر منبر پر تھے اور میں منبر کے نیچے (سامنے) بیٹھا تھا، ایک شخص آیا اور عرض کیا کہ اے امیر المؤمنین ! میں نے نذر مانی تھی کہ پیدل حج کروں گا جب میں اتنا اتنا سفر پیدل کرچکا تو مجھے خوف ہوا کہ میرا حج فوت ہوجائے گا پھر میں سوار ہوگیا ؟ آپ نے فرمایا تجھ پر کوئی غلطی نہیں ہے، اگلے سال دوبارہ لوٹ جو سوار ہوا ہے وہ پیدل چل اور جو پیدل چلا تھا اتنا سوار ہو۔
حدیث نمبر: 12818
١٢٨١٨ - حدثنا أبو أسامة عن هشام عن الحسن في (رجل) (١) نذر أن يحج ماشيًا، قال: يمشي فإن انقطع ركب وأهدى بدنة.
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے دریافت کیا گیا کہ ایک شخص نے نذر مانی ہے کہ وہ پیدل حج کرے گا، آپ نے فرمایا وہ پیدل چلے پھر جب منقطع ہوجائے اس کا چلنا تو سوار ہوجائے اور اونٹ ھدی بھیج دے۔
حدیث نمبر: 12819
١٢٨١٩ - حدثنا زيد بن حباب عن موسى بن عبيدة قال: سمعت القاسم وسئل عن رجل حلف (أن) (١) يمشي إلى البيت فمشى، (فعيي) (٢)، فركب قال: إذا كان قابل (فليمش) (٣) ما ركب (ويركب) (٤) ما مشى.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت موسیٰ بن عبیدہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت قاسم سے سنا ایک شخص نے سوال کیا کہ قسم اٹھائی ہے کہ وہ بیت اللہ پیدل جائے گا پھر جب وہ تھک گیا تو سوار ہوگیا، آپ نے فرمایا : جب آئندہ سال آئے تو جتنا وہ سوار ہوا تھا وہ پیدل چلے اور جو پیدل چلا تھا وہ سوار ہو کر جائے۔
حدیث نمبر: 12820
١٢٨٢٠ - قال: (و) (١) سمعت يزيد بن عبد اللَّه بن قسيط يقول: يركب ويهدي بدنة.
حدیث نمبر: 12821
١٢٨٢١ - (حدثنا) (١) عبيدة بن حميد عن منصور عن إبراهيم في (رجل) (٢) يكون عليه مشي إلى البيت، فمشى ثم يعيى (قال: يركب) (٣)، فإذا كان قابل ركب ما مشى ومشى ما ركب.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم سے دریافت کیا گیا ایک شخص نے سوال کیا کہ اس نے قسم اٹھائی ہے کہ وہ بیت اللہ پیدل جائے گا پھر جب وہ تھک گیا تو سوار ہوگیا، آپ نے فرمایا : جب آئندہ سال آئے تو جتنا وہ سوار ہوا تھا وہ پیدل چلے اور جو پیدل چلا تھا وہ سوار ہو کر جائے۔